Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
انسٹاگرام ہندوستان میں بچوں کے جنسی استحصال کو فروغ دینے والے اشتہارات چلا رہا ہے: بی بی سی رپورٹ

انسٹاگرام ہندوستان میں بچوں کے جنسی استحصال کو فروغ دینے والے اشتہارات چلا رہا ہے: بی بی سی رپورٹ

The Inquilab 3 months ago

بی بی سی کی رپورٹ کے بعد نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) نے جمعہ کے دن اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انگریزی روزنامے دی ہندو کے مطابق، وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے بھی وضاحت پیش کرنے کیلئے میٹا کے اعلیٰ حکام کو طلب کر لیا ہے۔

بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ انسٹاگرام ہندوستان میں بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو فروغ دینے والے بامعاوضہ اشتہارات چلا رہا تھا۔ جمعہ کے دن شائع ہوئی رپورٹ کے مطابق، ان اشتہارات میں "ریپ ویڈیو" اور "چائلڈ ویڈیو" جیسے جملے استعمال کئے گئے ہیں اور یہ صارفین کو ٹیلی گرام چینلز کی طرف بھیجتے ہیں جہاں ایسا مواد خریدا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ بچوں کے جنسی استحصال کا مواد، ہندوستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ ۲۰۰۰ء اور پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسول آفینسز ایکٹ ۲۰۱۲ء (پوکسو) کے تحت غیر قانونی ہے۔

بی بی سی کے مطابق، یہ اشتہارات، انسٹاگرام کی اپنی ماڈریشن ٹیکنالوجی (نظامِ جانچ) سے منظور ہونے کے بعد ہی شائع کئے گئے تھے۔ جب بی بی سی نے ایسے ہی ایک اشتہار کی رپورٹ انسٹاگرام کو کی، تو پلیٹ فارم نے جواب دیا کہ اس پوسٹ نے ان کی "کمیونٹی گائیڈ لائنز" کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ میٹا نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ رپورٹ کردہ مواد اور اس کے جیسے دیگر اشتہارات کو ہٹا دیا گیا ہے اور ان کے پیچھے موجود اکاؤنٹس کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے صفائی دیتے ہوئے کہا کہ "کوئی بھی نظام مکمل طور پر بے عیب نہیں ہوتا اور ہو سکتا ہے کہ ہمارا جائزہ لینے کا طریقۂ کار پالیسی کی تمام خلاف ورزیوں کا پتا نہ لگا سکے۔" میٹا نے یہ بھی کہا کہ وہ اشتہارات کے لائیو ہونے کے بعد ان پر فعال تشخیصی ٹیکنالوجی چلاتے ہیں۔

ٹیلی گرام نے الگ سے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے اس سال بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے متعلق ۷ء۲ لاکھ سے زائد گروپس اور چینلز کو ڈیلیٹ کیا ہے۔

حکومت نے میٹا کو سمن بھیجا، چائلڈ رائٹس پینل نے نوٹس لیا

بی بی سی کی رپورٹ کے بعد، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) نے جمعہ کے دن اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انگریزی روزنامے دی ہندو کے مطابق، وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (MeitY) نے بھی وضاحت پیش کرنے کیلئے میٹا کے اعلیٰ حکام کو طلب کر لیا ہے۔ آئی ٹی وزیر اشونی ویشنو نے وزارت کے حکام کو میٹا سے جواب طلب کرنے کی ہدایت دی ہے، جس میں وزارت کا بنیادی مرکز اس بات پر ہے کہ کمپنی کے ریکمینڈیشن الگورتھم نے مبینہ طور پر اس طرح کے مواد کو کیسے فروغ دیا، جبکہ اس کی اپنی اشتہاری پالیسیاں واضح طور پر جنسی نوعیت کے مواد کی ممانعت کرتی ہیں۔

یہ پیش رفت وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جانب سے واٹس ایپ کے مجوزہ یوزر نیم فیچر پر میٹا کو ایک الگ نوٹس جاری کئے جانے کے دو دن بعد سامنے آئی ہے۔ وزارت نے خدشات ظاہر کئے تھے کہ اس سے سائبر فراڈ، فشنگ حملوں کو شہ مل سکتی ہے۔ میٹا کے ایک وفد نے جمعہ کے دن وزارت کے حکام سے ملاقات کی اور توقع ہے کہ وہ تین دن کے اندر تفصیلی جواب جمع کرائیں گے۔ یوزر نیم فیچر کے حوالے سے ٹیلی گرام اور سگنل (Signal) کو بھی نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ حکومت کے یہ اقدامات ملک میں ڈجیٹل پلیٹ فارمز کے احتساب کے تئیں ایک وسیع تر اور زیادہ مداخلت پسندانہ نقطۂ نظر کا اشارہ دیتے ہیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab