'' احمدآباد بلاسٹ۲۰۰۸ء'' کیس میں اسپیشل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، جمعیۃ سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی
۲۰۰۸ء میں احمدآبادمیں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے کیس میں منگل کو گجرات ہائی کورٹ نے ۳۸؍ ملزمین کی پھانسی اور ۱۱؍ کی عمرقید کی سزا پر مہر لگادی۔ جسٹس الپیش وائی کوگجے اور جسٹس سمیر جے دوے کی دو رکنی بنچ نے فروری ۲۰۲۲ء میں سنائے گئے خصوصی عدالت کے فیصلے کو جوں کا توں برقرار رکھا اور اس کے خلاف داخل کی گئی تمام اپیلیں خارج کردیں۔ ملک کے اس مہلک ترین دہشت گردانہ حملے کے کیس میں اسپیشل کورٹ نے ۴۹؍ افراد کو مجرم قرار دیا تھا۔ قانوناً سزائے موت پر عمل درآمد کیلئے ہائی کورٹ کی توثیق ضروری ہوتی ہے۔جمعیۃ علمائے ہند (ارشد مدنی) جو ملزمین کی پیروی کررہی ہے نے سپریم کورٹ میں اپیل کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے یہ بھی ہدایت دی کہ بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے ۵۶؍ افراد کے اہل خانہ کو۱۰-۱۰؍ لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کیا جائے۔ کورٹ نے زخمی ہونے والے۲۰۰؍ سے زائد افراد کو بھی ایک، ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا۔ یاد رہے کہ ۲۶؍جولائی۲۰۰۸ء کی شام احمد آباد میں ہونے والے ان سلسلہ وار دھماکوں میں ۵۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ۷۰؍ منٹ کے دوران بسوں، عوامی مقامات اور ان ۲؍اسپتالوں میں۲۱؍ دھماکے ہوئے تھے۔اسپتالوں میں دھماکے اس وقت ہوئے تھےجب وہاں پہلے دھماکوں کے زخمیوں کو علاج کیلئے منتقل کیا جارہاتھا۔ پولیس نے اس معاملے میں ۳۵؍ ایف آئی آر درج کی تھیں۔ اس مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک ہزار ایک سو سے زائد گواہوں کے بیانات قلم بند کئے گئے اور ہزاروں دستاویزی شواہد پیش کئے گئے جس کے بعد خصوصی عدالت نے فروری۲۲ءمیں ۴۹؍ افراد کو مجرم قرار دیتے ہوئے ۳۸؍ کو سزائے موت اور ۱۱؍ کو عمر قید کی سزاسنائی تھی۔ اس مقدمہ میں ماخوذ کئے گئے ۲۸؍ ملزمین بے قصور پائے گئے جنہیں عدالت نے بری کردیا۔

