Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
دنیا کے سب سے کم عمر بادشاہ اویوکا ۳۴؍ برس کی عمر میں انتقال، یوگنڈا میں سوگ

دنیا کے سب سے کم عمر بادشاہ اویوکا ۳۴؍ برس کی عمر میں انتقال، یوگنڈا میں سوگ

The Inquilab 3 weeks ago

دنیا کے کم عمر ترین حکمران بادشاہ اویو نیِمبا کابامبا ایگورو روکیدی چہارم۳۴؍ برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔وہ صرف ۳؍ سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے تھے اور گنیز ورلڈ ریکارڈز نے انہیں دنیا کا کم عمر ترین حکمران قرار دیا تھا۔

دنیا کے کم عمر ترین حکمران بادشاہ، اویو نیِمبا کابامبا ایگورو روکیدی چہارم، جو صرف ۳؍سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے تھے، انتقال کرگئے۔ یوگنڈا کی تورو سلطنت نے جمعرات کی رات ان کے انتقال کا اعلان کیا۔ ان کی عمر۳۴؍ برس تھی۔بادشاہ اویو۱۶؍ اپریل۱۹۹۲ءکو پیدا ہوئے تھے اور اپنے والد بادشاہ پیٹرک ڈیوڈ میتھیو کابویو اولیمی سوم کے انتقال کے بعد۱۲؍ ستمبر۱۹۹۵ءکو تخت پر بیٹھے۔ انہیں گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کے کم عمر ترین حکمران کے طور پر تسلیم کیا تھا۔اویو یوگنڈا کی۴؍ کروڑ۵۰؍ لاکھ سے زائد آبادی میں سے تقریباً۳؍ فیصد لوگوں پر مشتمل تورو سلطنت کے سربراہ تھے۔ یوگنڈا کے بعض علاقوں میں روایتی بادشاہتیں موجود ہیں، تاہم ان کا کردار زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ ملک کا انتظام ایک منتخب صدر کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔

کم عمری کے باعث بادشاہ اویو کے معاملات چلانے کیلئے ان کی والدہ ملکہ بیسٹ کیمیگیسا، تورو سلطنت کے شاہی خاندان کے افراد اور یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔ یہ انتظام اس وقت تک جاری رہا جب تک اویو۱۸؍ برس کے نہیں ہوگئے۔تورو سلطنت کے وزیرِاعظم کیلون آرمسٹرانگ روومائر اکییکی نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جاری بیان میں بادشاہ اویو کے انتقال کا اعلان کیا۔انہوں نے لکھا، ''انتہائی گہرے دکھ اور بھاری دل کے ساتھ میں تورو کے اوموکاما (بادشاہ)، بادشاہ اویو نیِمبا کابامبا ایگورو روکیدی چہارم کے انتقال کا اعلان کرتا ہوں، جو آج رات تقریباً۱۰؍ بجے ہوا۔''

سلطنت کی جانب سے بادشاہ کی بیماری یا اس اسپتال کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں جہاں ان کا انتقال ہوا۔ تاہم میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ کینسر میں مبتلا تھے اور امریکہ میں زیرِ علاج تھے۔تورو سلطنت کے بیان میں کہا گیا کہ یہ شاہی خاندان، تورو کے عوام اور پورے یوگنڈا کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ بیان کے مطابق تدفین اور سوگ سے متعلق انتظامات سمیت مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab