نیپال اور تبت کی سرحد پر گلیشیئر کے اچانک انہدام کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ آفت کے نتیجے میں ہلاکتیں ۶۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہیں، جبکہ ۲؍ ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں اور مزید سیلاب کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
نیپال اور چین کے تبت خودمختار علاقے کی سرحد پر گلیشیئر کے اچانک انہدام کے بعد آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس قدرتی آفت میں ہلاک ہونے والوں کی ۶۰۰؍ سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ۲؍ ہزار سے زیادہ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ سیلابی ریلے میں برف، چٹانیں، کیچڑ اور پانی انتہائی تیزی سے وادیوں کی طرف بڑھے، جس کے نتیجے میں کئی علاقے شدید متاثر ہوئے۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں چوتھے روز بھی امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ، خراب موسم اور تباہ شدہ سڑکوں و پلوں کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ راسووا ضلع میں ایک ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں ۱۰۰؍ سے زائد افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ۳؍ ہزار ۷۰۰؍ سے زائد افراد کو اب تک محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ ملبے میں مزید زندہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
قدرتی آفت کے بعد کئی بستیاں، پل، سڑکیں اور ہائیڈرو پاور منصوبے تباہ ہوئے ہیں، جبکہ ۹۳؍ ہزار سے زائد افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ حکام کو ایک نئی بننے والی جھیل کے باعث مزید سیلاب کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ نیپال نے بین الاقوامی برادری سے عمومی سرچ اینڈ ریسکیو کے بجائے خصوصی تکنیکی مدد طلب کی ہے، جس میں سرنگوں سے ریسکیو، ڈی این اے کے ذریعے شناخت، لاشوں کو محفوظ رکھنے اور عارضی پلوں کی تعمیر کے لیے ماہرین اور آلات شامل ہیں۔

