ایس ایف آئی کی مہم کے دوران انکشاف ہوا، اسکول کے احاطے میں شراب کی بوتلیں اور دیگر نشہ آور اشیاء کوڑے کرکٹ میں پڑی ہوتی ہیں۔
یہاں دھاراوی کے ۹۰ ؍ فٹ روڈ پر موجود شیڈ پرائمری انگلش اسکول کے اطراف میں کچھ افراد روزانہ اسکول کےوقت شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں ۔ متعدد باران میں آپسی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں، وہ گالی گلوچ اور فحش الفاظ کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ اس کے سبب بچوں اور ٹیچروں کو کلاس کے دوران دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اس ضمن میںطلبہ تنظیم ایس ایف آئی (اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا ) ممبئی کی صدر نتاشا دراڑے نے انقلاب کو بتایا کہ ایس ایف آئی کے ذریعے ہر ہفتے دھاراوی کے علاقے میں موجود بالخصوص اسکول کے طلبہ کیلئے گراؤنڈ سروے کیا جاتا ہے جس میں طلبہ کی پڑھائی میں معاشی دشواری یا اس قسم کے مسائل کو سمجھا اور حل کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی مہم کے دوران تنظیم کے دفترمیں علاقے کے کچھ ایسے طلبہ کو پڑھایا بھی جاتاہے جو معاشی طور پر کمزور گھرانوں سے آتے ہیں ۔ اسی مہم کے دوران کچھ طلبہ نے ان سے شکایت کی کہ ان کے اسکول کے احاطےمیں کچھ افراد کھلے عام شراب اور دیگر منشیات کا استعمال کرتےہیں جس کے سبب پڑھائی میں دقت ہوتی ہے اور سب کو دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔
نتاشا نے یہ بھی بتایا کہ ایس ایف آئی کی مہم کے دوران اسکول کا دورہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ شیڈ پرائمری انگلش اسکول کا انتظامیہ اس مسئلے پر خاموش ہے اور اس اندیشے میں مبتلا ہے کہ اگر شکایت کی گئی تو مذکورہ افراد اسکول کو یا طلبہ کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے اس معاملے پراسکول کے باہر ایک ویڈیوبنایا ہے۔نتاشا کے مطابق اسکول کے احاطے میں شراب کی بوتلیں اور دیگر نشہ آور اشیاء سے متعلق کوڑا کرکٹ بھی دکھائی دیا۔حالانکہ اس طرح سے اسکول، اسپتال اور دیگر عوامی جگہوں پر یا اس کے اطراف میں کھلے عام منشیات کی فروخت یا اس کا استعمال قانونی طور پر جرم ہے بلکہ پولیس کو ایسے عناصر کیخلاف فورا ًکارروائی کرنی چاہئے۔
طلبہ تنظیم نے یہ بھی کہا کہ دھاراوی کے علاقے میں طلبہ کیلئے کھلے میدان نہیں ہیں جہاں طلبہ کھیل سکیں اور جہاں بھی اس طرح کی کچھ کھلی جگہیں موجود ہیں وہاں لوگ منشیات کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں۔ ان سب کا طلبہ پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔ ایس ایف آئی کی جانب سے اس ضمن میںایجوکیشن آفیسر ، پولیس، کلکٹر اور دیگر تمام متعلقہ حکام سے ملاقات کرکے تحریری شکایت کی جائے گی۔

