فنیاس، لوکاس گراہم، آرون رو اور بیوگا نے فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے 'لوپ ٹور' سے علیحدگی اختیار کرلی؛ واضح رہے کہ میکلمور کو فلسطین کے حق میں بیان دینے کے بعد امریکی شوز سے ہٹایا گیا تھا۔
برطانوی گلوکار ایڈ شیران کے 'لوپ ٹور' کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب ان کے تمام ۴؍ معاون فنکاروں نے ریپر میکلمور کی حمایت میں دورہ چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ فنیاس، لوکاس گراہم، آرون رو اور آئرش بینڈ بیوگا نے الگ الگ بیانات میں کہا کہ وہ آئندہ شوز میں پرفارم نہیں کریں گے۔ بیوگا ایڈ شیران کے ساتھ معاون فنکار ہونے کے علاوہ ان کے لائیو بینڈ کا حصہ بھی تھا۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب میکلمور کو ایڈ شیران کے امریکی دورے سے ہٹا دیا گیا۔ میکلمور نے ۴؍ اور ۵؍ ستمبر کو نیو جرسی کے MetLife Stadium میں پرفارم کرتے ہوئے فلسطین کے حق میں آواز اٹھائی اور اپنے احتجاجی گیت 'Hind's Hall' سے قبل ''Free Palestine'' کا نعرہ لگایا۔ انہوں نے اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل پر تنقید کو یہود مخالف رویے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔
میکلمور نے پیر کو کہا تھا کہ کئی امریکی اسٹیڈیمز نے منتظمین کو آگاہ کیا کہ وہ ان کی موجودگی میں ایڈ شیران کے شوز کی میزبانی نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق نیو انگلینڈ پیٹریاٹس کے ارب پتی مالک رابرٹ کرافٹ نے بھی اس معاملے میں اسٹیڈیم مالکان کی حمایت متحرک کی۔ کرافٹ کے نمائندوں نے کہا کہ میکلمور کو ہٹانے کا فیصلہ ان کے حالیہ بیانات اور ماضی میں یہود مخالف سمجھے جانے والے الفاظ و تصاویر سے متعلق خدشات کے پس منظر میں کیا گیا۔ میکلمور نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ایڈ شیران نے منگل کو واضح کیا کہ میکلمور کو دورے سے ہٹانے کا فیصلہ ان کا نہیں بلکہ ٹور کے منتظم Messina Touring Group اور متعلقہ مقامات کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ بعض مقامات میکلمور کے لائن اَپ میں رہنے کی صورت میں شوز منسوخ کردیں گے۔ شیران نے کہا کہ انہوں نے مداحوں، ٹورنگ عملے اور دوسرے فنکاروں کے روزگار کو مدنظر رکھتے ہوئے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
شیران نے یہ بھی کہا کہ وہ غزہ کے تنازع پر اپنی ذاتی رائے رکھتے ہیں، تاہم اپنے پیشہ ورانہ پلیٹ فارم کو سیاسی گفتگو کے لیے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے میکلمور کے اپنے مؤقف کے لیے کھڑے ہونے کے عزم کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ امن تک پہنچنے کے لیے مختلف راستے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد فنیاس نے انسٹاگرام پر اعلان کیا کہ وہ ایڈ شیران کے آئندہ ٹور کا حصہ نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ''فنکاروں کو مظلوموں کے لیے آواز اٹھانے پر خاموش نہیں کرایا جانا چاہیے'' اور فلسطین اور اس کے عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔ فنیاس، جو گلوکارہ بلّی آئیلش کے بھائی اور موسیقی کے ساتھی بھی ہیں، جنوبی امریکہ میں شیران کے ٹور کا حصہ بننے والے تھے۔
آئرش گلوکار آرون رو اور بینڈ بیوگا نے بھی اپنے ملک کی نوآبادیاتی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے میکلمور کی حمایت کی۔ رو نے کہا کہ وہ شیران کو دوست سمجھتے ہیں اور ان کے کیریئر میں شیران کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن فلسطین کے معاملے پر خاموش رہ کر دورے کا حصہ بنے رہنا ان کے لیے ممکن نہیں۔ بیوگا نے خود کو Irish Artists for Palestine تحریک کے بانی ارکان میں شامل بتایا۔ ڈنمارک کے بینڈ Lukas Graham نے بھی دورے سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اسے ''مشکل فیصلہ'' قرار دیا۔ بینڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ دولت کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ طے کرے کون بول سکتا ہے یا کس انسانی تکلیف کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔
میکلمور کو ہٹائے جانے سے پہلے Israeli American Council نے بھی ان کے خلاف مہم شروع کی تھی، جبکہ بعض یہودی تنظیموں اور امریکی فنکار Pink نے ان کے بیانات پر اعتراض کیا۔ دوسری جانب میکلمور کے حامی فنکاروں اور فلسطینی حقوق کی تنظیموں نے ان کے مؤقف کو آزادی اظہار اور فلسطینیوں کی حمایت سے جوڑا ہے۔ یوں معاملہ اب محض ایک فنکار کو ٹور سے ہٹانے تک محدود نہیں رہا بلکہ موسیقی، آزادی اظہار اور فلسطین کے معاملے پر فنکاروں کے سیاسی مؤقف کی بحث بن گیا ہے۔ ایڈ شیران کا شمالی امریکی ٹور ۱۹؍ ستمبر کو فلاڈیلفیا سے دوبارہ شروع ہونا ہے۔ تاہم موجودہ صورت حال میں میکلمور کے ساتھ ساتھ دیگر معاون فنکاروں اور شیران کے لائیو بینڈ بیوگا کی علیحدگی کے بعد آئندہ شوز کے لیے معاون فنکاروں کی ترتیب میں تبدیلی ناگزیر ہوگئی ہے۔

