Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
''چند مہنگے ترین علاقوں کو صاف ستھرا بتا کر پورے شہر کو صاف ستھرا قرار نہیں دیا جاسکتا ہے''

''چند مہنگے ترین علاقوں کو صاف ستھرا بتا کر پورے شہر کو صاف ستھرا قرار نہیں دیا جاسکتا ہے''

The Inquilab 51 mins ago

ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ: نریمان پوائنٹ، قلابہ، کف پریڈ یا ورلی میں صاف صفائی بتاکر شہر کو گندگی سے پاک ظاہر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی جانی چاہئے۔

بامبے ہائی کورٹ کانجورمارگ ڈمپنگ گراؤنڈ سے اٹھنے والی بد بو کے علاوہ شہر و مضافات میں آلودگی، گندگی، حفظان صحت اورصاف صفائی کے فقدان کے خلاف داخل کردہ دیگر شکایتوں پر ایک ساتھ شنوائی کررہی ہے۔ مذکورہ معاملہ پر ہونے والی شنوائی کے دوران نہ صرف شہر میں گندگی اور صفائی کے مسئلہ کی نشاندہی کی گئی تھی بلکہ سرکاری اور دیگر اسپتالوں میں گندگی اور صاف صفائی کے فقدان کے سبب پیدا ہونے والی مختلف بیماریوں اوراسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد پر بھی فکر مندی کا اظہار کیا گیا ۔ دوران سماعت جب بی ایم سی نے جنوبی ممبئی کے چند مہنگے ترین علاقوں میں صفائی اور گندگی سے پاک ہونے کا دعویٰ کیا تو کورٹ نے کہا کہ چند علاقوں کو گندگی اور آلودگی سے پاک بتا کر پورےشہر کے صاف ستھرا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ہے۔

ہائی کورٹ کی دو رکنی بنچ کے جسٹس جی ایس کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے نے جنوبی ممبئی کے چند علاقوں میں صاف ستھرا ماحول ہونے کے دعویٰ پر بی ایم سی سے کہا کہ '' کف پریڈ ، قلابہ ، نریمان پوائنٹ یا ورلی جیسے مہنگے ترین علاقوں کوصاف ستھرا بتا کر نہ تو پورے شہر کو صاف ستھرا یا گندگی سے پاک قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ دکھانے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔'' دو رکنی بنچ نے شہر اور مضافات میں ہونے والی گندگی پرداخل کی گئی درخواست کا جائزہ لینے کے بعد کانجورمارگ ڈمپنگ گراؤنڈ سے اٹھنے والی بد بو یا اس کے حل کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

تاہم کورٹ نے بی ایم سی کو شہر اور مضافات کے اکثر علاقوںمیں پائی جانے والے گندگی، آلودگی کے علاوہ شہر کو صاف ستھرا نہ رکھنے کے سبب ڈینگو ، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور دیگر بیماریوں میں شہریوں کے مبتلا ہونے اور اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کی اطلاع پر فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس پر قابوپانے کیلئے بی ایم سی نے کیا اقدامات کئے ہیں ؟اس کے علاوہ کورٹ نے ون شکتی اور دیگر کئی عرضیوں کی شہر میں صحت عامہ کی فقدان کی نشاندہی پر یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ ۲۰۱۴ء میں مرکزی حکومت کے ذریعہ شروع کی گئی مہم سوچھ بھارت ابھیان اور ۲؍ اکتوبر کو گاندھی جینتی پر شہر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے کن محاذوں پر کام کیا گیا۔

کورٹ نے اپنے مشاہدہ میں یہ بھی کہا کہ عدالت کے ذریعہ شہر کی صفائی اور حفظان صحت کے تعلق سے کئی ہدایات جاری کرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نظر نہیں آتی ہے ۔عدالت صرف شہری انتظامیہ کو مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہتی لیکن ہر وارڈ میں حفظان صحت کا خیال رکھتے ہوےسبھی علاقوں کو گندگی سے پاک رکھنا بی ایم سی اور متعلقہ محکموں کے افسران کی ہی ذمہ داری ہے ۔دو رکنی بنچ نے خصوصی طور پر شہر کے چند علاقوں جن میں جوگیشوری اور رام مندر ریلوے اسٹیشن کے اطراف گندگی کے انبار کی نشاندہی پر کہا کہ مذکورہ علاقوں یا شہر کے ایسے کسی بھی علاقے میں جہاں حفظان صحت کے مسائل اور گندگی کا انبار ہے ، کیا ایسے علاقوں کو صاف ستھرا رکھنے کو یقینی بنانا شہری انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں ہے؟ کورٹ نےبی ایم سی کو اس تعلق سے تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کا حکم د یا ہے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab