Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
جنتر منتر پراحتجاج میں شرکت کیلئے ممبئی سے جانے والوں پر پولیس کی نگاہ

جنتر منتر پراحتجاج میں شرکت کیلئے ممبئی سے جانے والوں پر پولیس کی نگاہ

The Inquilab 48 mins ago

'ہم بھارت کے لوگ' سے وابستہ ۲؍کارکنان کوایم آئی ڈی سی پولیس نے گھر سے تحویل میں لیا۔ اے آئی ایس ایف کارکنان سے دہلی آر پی ایف نے پوچھا کہ کس ٹرین سے آرہے ہیں۔سی پی ایم کے دفتر میں ڈی این نگر پولیس نے رابطہ قائم کیا۔

ووٹ چوری ، گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر رَد کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئےدہلی میں جنترمنتر پر ۱۰؍ اکتوبر کو ہونے والے احتجاج میں شرکت کیلئےممبئی سے جانے والے سماجی خدمت گاروں، طلبہ یونین سے وابستہ نمائندوں اور لیفٹ پارٹیز کے عہدیدارا ن پرپولیس خاص نگاہ رکھ رہی ہے بلکہ اس نے انہیں تحویل میںلینا بھی شروع کردیا ہے۔ پولیس کے اس طریقۂ کارپر سخت تنقید کی جارہی ہے اور یہ بھی واضح کیا جارہا ہے کہ اس طرح طاقت کے بل پر آئینی حق کیلئے بلند کی جانےوالی صدائے احتجاج کودبایا نہیںجاسکتا۔

سماجی خدمتگاروں کو پولیس نے تحویل میں لیا

'ہم بھارت کے لوگ ' کے رکن فیروز میٹھی بور والا نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ '' ایم آئی ڈی سی پولیس کی جانب سے ۲؍اکتوبر سے ہی ان کو فون کیاجارہا ہے اور یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ جمعرات ۸؍اکتوبر کو ایم آئی ڈی سی پولیس کی جانب سے انہیں اور مظاہروں میں پیش پیش رہنے والے سلیم صابووالا کو ان کے گھر سے تحویل میں لے لیا گیا اور پولیس اسٹیشن لاکر تفصیلات معلوم کرنے کے چند گھنٹے بعد چھوڑا گیا۔'' پولیس کی جانب سے فیروز میٹھی بور والا اورسلیم صابو والاسے دہلی جنترمنتراحتجاج میںشرکت کے تعلق سے پوچھا گیا۔ فیروز نے جواب دیا کہ وہ نہیںجارہے ہیں البتہ پونے میں اپنی اہلیہ سے ملاقات کیلئے جانے والے ہیں تو پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ ۱۰؍ اکتوبر تک آپ ممبئی میں ہی ہمارےرابطے میںرہئے گا ، اگر آپ پونے جائیں گے تو پونے پولیس آپ کو اپنی تحویل میں لے لے گی۔''

اے آئی ایس ایف کے نمائندوں کوآر پی ایف کا فون

آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن(اے آئی ایس ایف ) کے عہدیدار عامرقاضی نےانقلاب کو بتایا کہ انہیںبھی متعدد مرتبہ فون کیا گیا مگر انہوں نے فون ریسیو نہیں کیا، وہ اِس وقت آزادمیدان پر آئی آئی ٹی بامبے کےطالب علم ساحل کی خودکشی کےخلاف بھوک ہڑتا ل پربیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کایہ بھی کہنا ہے کہ ان کے دو ساتھیوں میور اوراظہر کو دہلی ریلوے پروٹیکشن فورس کی جانب سے فون کیاگیا کہ وہ کس ٹرین سے دہلی آرہے ہیں، ان کے ساتھ اورکتنےلوگ ہیں۔ آر پی ایف کی جانب سے یہ بھی کہاگیا کہ وہ بتائیں توآر پی ایف اہلکار ان کواسکواڈ کرکے پہنچادیں گے ۔یہ دونوں دہلی پہنچ گئے ہیں۔

سی پی ایم کےعہدیدار کوڈی این نگر پولیس نے فون کیا

ڈاکٹر رویندر مدنے (سی پی ایم )کو ڈی این نگر پولیس کے سب انسپکٹروشال پاٹل نے فون کیا کہ آپ کہاں ہیں، ہمیں آپ سے ملنا ہے ۔ انہوں نےجواب دیا کہ میں کسی کام سےباہرہوں، ۴؍ بجے کے بعد دفتر لوٹوں گا تو پولیس اہلکار نے کہاکہ آپ سے مل کرکچھ بات چیت کرنی ہے۔ اس تعلق سے سی پی ایم ممبئی کے سیکریٹری شیلندر کامبلے نے کہاکہ ''بھلے ہی پولیس اہلکار نے ملنے کی وجہ نہ بتائی ہو مگریہ سب کچھ وو ٹ چوری کے خلاف جنترمنترپر ۱۰؍اکتوبر کے احتجاج میںشرکت کرنے والوں کی تلاش میںکیا جارہا ہے۔حالانکہ اس طرح کی کوششوں کےباوجود ووٹ چوری، گیانیش کمار کے استعفے اور ایس آئی آر رَد کرانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کاسلسلہ مزید شدت سے جاری رہے گا۔''

''جنترمنتر پر احتجاج میں شرکت کرنا کوئی جرم ہے''

'ہم بھارت کے لوگ' کے اراکین کو ڈی این نگر پولیس کے ذریعے تحویل میںلینے پر معروف سماجی خدمت گار تشار گاندھی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ''ایسا لگتا ہے کہ وہ پولیس جسے آئین اور سنویدھان کا محافظ ہونا چاہئے، وہ حکومت کی غلام بن کر رہ گئی ہے ۔'' انہوں نے یہ بھی کہا کہ'' کیا جنتر منتر احتجاج میں شرکت کرنا کوئی جرم ہے ، میںاس وقت اورنگ آباد میں ہوں ورنہ میں خود شریک ہوتا ۔ آخر کیوں لوگوں کے ووٹ کاٹے گئے، ووٹ کا ادھیکار چھیننے کی سازش کس نے رچی؟ گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ مزیدشدت سے کیا جائے گا ۔ اس لئے میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پولیس کی اس طرح کی کارروائیوں سے عام آدمی کے بنیادی حقوق چھیننے کے خلاف جاری مہم اور صدائے احتجاج کو طاقت کے بل پر کسی صورت روکا نہیں جاسکتا ، پولیس کے اس رویے سے احتجاج کی آواز مزیدشدت اختیار کرے گی۔''

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Inquilab