42 لاکھ طلبہ کا مستقبل خطرہ میں، شفاف تحقیقات اور خاطیوں کو سزا کا مطالبہ
حیدرآباد 14 مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے نیٹ یو جی 2026 کی منسوخی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہاکہ لاکھوں طلبہ اور اُن کے سرپرستوں میں اِس فیصلہ سے تشویش پائی جاتی ہے۔ امتحانی پرچہ کے افشاء اور امتحانی طریقہ کار میں مبینہ بے قاعدگیوں کے منظر عام پر آنے کے بعد امتحان کو منسوخ کردیا گیا۔ ریونت ریڈی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے برسر اقتدار بی جے پی اور اپوزیشن بی آر ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اُنھوں نے کہاکہ پرچہ جات کے افشاء سے لاکھوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرہ میں پڑچکا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ دونوں پارٹیوں میں منظم کرپشن کے معاملہ میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک میں 22 لاکھ سے زائد طلبہ نے کافی محنت اور تیاری کے ساتھ نیٹ امتحان میں حصہ لیا تھا۔ 3 مئی کو ملک کے 551 شہروں اور بیرون ملک 14 شہروں کے امتحانی مراکز پر 22.7 لاکھ طلبہ نے امتحان میں شرکت کی تھی۔ اچانک امتحان کی منسوخی سے طلبہ اور اُن کے سرپرستوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کو بہرصورت کسی بھی تنازعہ سے پاک ہونا چاہئے اور مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شفافیت کے ساتھ امتحانات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔ اُنھوں نے کہاکہ جو افراد پرچہ جات کے افشاء اور بدعنوانیوں میں ملوث ہیں، اُن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بھلے ہی وہ کسی عہدہ پر فائز کیوں نہ ہوں۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ حکومت موجودہ بحران میں متاثرہ طلبہ اور اُن کے سرپرستوں کے ساتھ کھڑی ہے۔V/1 اُنھوں نے مرکزی حکومت اور نیشنل ٹسٹنگ ایجنسی سے مطالبہ کیاکہ شفافیت کے ساتھ وقت مقررہ پر تحقیقات کی تکمیل کرے۔ اُنھوں نے کہاکہ سسٹم کی ناکامی کے نتیجہ میں بے قصور طلبہ کو متاثر ہونے سے بچایا جائے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ حکومت متاثرہ طلبہ کی ہرممکن مدد کرے گی اور اُنھوں نے مستقبل میں اِس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس قدم اُٹھانے کا مطالبہ کیا۔V/1

