قطر کی ریفائنریز کو بھاری نقصان، حالات معمول پر آنے کے لیے کئی سال درکارحیدرآباد ۔15۔ مئی (سیاست نیوز) مشرقی وسطی میں جنگ کی صورتحال نے ایل این جی اور آئیل کی کئی ریفائنریز کی سرگرمیوں کو متاثر کردیا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملہ کے بعد ایران میں قطر کی آئیل ریفائنری کو نشانہ بنایا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ قطر کی راس لافانگ میں واقع ریفائنری دنیا بھر میں ایل این جی کی سب سے بڑی ریفائنری ہے۔ جنگ کے دوران ایران کے حملہ سے ریفائنری کو بھاری نقصان ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل اور قدرتی گیس کی کئی ریفائنریز کو جنگ کی صورتحال کے نتیجہ میں اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ قطر کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں گیس اور قدرتی تیل کی پیداوار پر اثر پڑا ہے۔ ریفائنریز کے معاملہ میں جام نگر گجرات میں واقع ریلائنس کی ریفائنری کو عالمی سطح پر علحدہ شناخت حاصل ہے۔ جام نگر ریفائنری میں روزانہ 1.40 ملین بیارل تیل کی پیداوار کی صلاحیت ہے۔ ماہرین نے خلیجی ممالک میں انفراسٹرکچر سہولتوں کو بہتر بنانے کیلئے 50 بلین ڈالر کے اخراجات کا تخمینہ کیا ہے۔ قطر اور دیگر ممالک میں ریل اور قدرتی گیس کے اداروں کو جو نقصانات ہوئے ، ان کی پابجائی کیلئے کئی برس درکار ہوں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال جنگ کی صورتحال میں ریفائنریز کی سرگرمیوں کو دنیا بھر میں محدود کردیا ہے۔ تیل اور گیس کی منتقلی کیلئے ہندوستان اور دیگر ممالک کا انحصار آبنائے ہرمز پر ہے جس کی ناکہ بندی کے سلسلہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان صورتحال کشیدہ ہے۔1/k/m/b

