دنیا بھر کا 20 فیصد پلاسٹک کچرا ہندوستان میں، ٹاملناڈو اور تلنگانہ سرفہرستحیدرآباد ۔15۔ مئی (سیاست نیوز) ہندوستان پلاسٹک کچرے کے معاملہ میں دنیا کی دیگر ممالک پر سبقت حاصل کرچکا ہے اور پلاسٹک ویسٹ میں اضافہ کی نتیجہ میں ماحولیات کو آلودگی کا خطرہ بڑھنے لگا ہے۔ ایک سروے کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان نے پلاسٹک کچرے کی نکاسی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ ایک بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ 2022-23 میں ہندوستان میں 4.1 ملین ٹن پلاسٹک کچرا پایا گیا جو 2025 میں بڑھ کر 9.3 ملین ٹن ہوچکا ہے۔ دنیا بھر میں پلاسٹک کچرے کی نکاسی کے معاملہ میں ہندوستان کی حصہ داری تقریباً 20 فیصد ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کچرا ماحولیات کو نقصان پہنچانے میں اہم رول ادا کرتا ہے ۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے پلاسٹک تحدیدات کے باوجود استعمال میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ غیر معیاری پلاسٹک کی تیاری کے یونٹس ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ ٹاملناڈو ، تلنگانہ اور مہاراشٹرا میں پلاسٹک کا کچرا سب سے زیادہ دیکھا گیا۔ ماہرین نے پلاسٹک کی ری سائکلنگ کی سفارش کی ہے تاکہ ماحولیات کو آلودگی کے خطرہ سے بچایا جاسکے۔ ٹاملناڈو میں 2025 کے دوران 782 ملین ٹن پلاسٹک کا کچرا پایا گیا۔ ہندوستان بھر میں 4136 ملین ٹن پلاسٹک کچرے کی نکاسی ہوتی ہے ۔ پلاسٹک ویسٹ کے معاملہ میں تلنگانہ 528.5 ملین ٹن کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے۔ ماہرین نے پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے باقاعدہ مہم کا آغاز کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پلاسٹک صحت کیلئے بھی نقصان دہ ہے اور پلاسٹک میں غذاؤں کے استعمال میں انسان میں کئی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔1/k/m/b

