Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ملک کو بے شمار مشکلات کا سامنا، مودی ذمہ دار

ملک کو بے شمار مشکلات کا سامنا، مودی ذمہ دار

سیاست 1 week ago

پی چدمبرم …سابق مرکزی وزیرداخلہہمارے ملک ہندوستان کو فی الوقت کئی ایک چیالنجس درپیش ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہمیں اور ہمارے ملک کو بہ یک وقت کئی ایک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مثال کے طور پر ٹیرف یا محصولالت کے معاملہ میں امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہوگئے ہیں (یہ اور بات ہے کہ مودی جی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مائی فرینڈ مائی فرینڈ کہتے نہیں تھکتے، حد تو یہ ہے کہ ٹرمپ سخت سست بھی کہتے ہیں تو برداشت کرلیتے ہیں)۔ دوسری طرف ہم مصنوعی ذہانت یا AI کے جنون میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ آپ اور ہم سب جانتے ہیں کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ مسلط کئے جانے کے بعد سے آج کی تاریخ تک بھی ہندوستان توانائی کا ایک بڑا درآمد کنندہ ہے۔ ہمیں EL Nino (ماحولیاتی مسئلہ) جیسے مسئلہ کا بھی سامنا ہے۔ ایک اور اہم بات حکومت کو غیر ملکی سرمایہ واپس لانے کے بارے میں اتنی ہی سنجیدگی سے سوچنا چاہئے جس طرح فی الوقت توانائی کی ضروریات کی تکمیل کو یقینی بنانے کے بارے میں سوچا جارہا ہے اور ہم ایسا شائد ٹیکس میں کمی کے ذریعہ کرسکتے ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے نتیجہ میں بیرونی سرمایہ کاروں کو ہم اپنے ملک واپس لاسکتے ہیں۔ ویسے بھی حالیہ عرصہ کے دوران بے شمار بیرونی سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ نکال لیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی جس طرح انتخابات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے، زمین آسمان ایک کردیتی ہے۔ اسی طرح بیرونی سرمایہ کاروں اور ان کے سرمائے کو واپس لانے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی تو کتنا بہتر ہوتا۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں نجی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہے۔ ہمارے پاس اب بھی دنیا کی دوسری یا تیسری بڑی اسٹاک مارکٹ ہے جو یقینا احتیاط کی علامت ہے (انڈین اکسپریس مورخہ 12 مئی 2026ء) میں نے یہ الفاظ نہیں کہے اس لئے ٹرولز مطمئن رہیں۔ مذکورہ بیان میرا نہیں بلکہ The Rise and Fall of Nations What Went Wrong with Capitalism کے مصنف مسٹر روچیر شرما کا تھا۔ ان کا یہ بیان یقینا نریندر مودی کی زیرقیادت بی جے پی حکومت کی معاشی پالیسیوں کے انتظام و انصرام پر ایک سخت فرد جرم کے مترادف ہے لیکن راقم الحروف تسلیم کرتا ہے کہ میری رائے بھی تقریباً ان ہی خطوط پر ہے خاص طور پرامریکہ کے ساتھ خراب بلکہ کشیدہ تعلقات غیر ملکی سرمایہ واپس لانے کی ضرورت، معاندانہ ضوابط سے بھرا ماحول، تحقیقاتی ایجنسیوں کا کردار وغیرہ کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ یہ ایسے مسائل ہیں جنھیں عوام کی نظروں سے چھپایا گیا ہے اور پارلیمانی و عوامی مباحثوں میں بڑی چالاکی اور ہشیاری سے اصل موضوع ہٹادیا گیا ہے اور ایک کونے میں ڈھکیل دیا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے ایک ہفتہ بعد دباؤ میں آکر وزیراعظم مسٹر نریندر مودی نے ایک قابل ذکر اعتراف کیا ہے۔ حکومت کی کوتاہیوں اور غلطیوں کے باعث مسٹر مودی نے عوام سے کفایت شعاری کے ذریعہ قربانی دینے کی درخواست کی۔ ہم آپ کو کچھ تلخ حقائق سے واقف کرواتے ہیں۔ اسرائیل ۔ امریکہ نے ایران پر جنگ مسلط کی اور یہ جنگ 31 مئی کو تین ماہ مکمل کرے گی اور اس کے خاتمہ کے آثار ابھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ جنگ کا سب سے زیادہ اثر عالمی تیل مارکٹ پر پڑا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 107امریکی ڈالر فی بیارل کے آس پاس منڈلا رہی ہے۔ اگر جنگ جلد ختم نہیں ہوتی ہے تو پھر خام تیل کی قیمت میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف آزاد ہند کی تاریخ میں امریکی ڈالر کے مقابلہ روپیہ کی قدر بہت زیادہ گرگئی ہے۔ روپئے کی کمزوری کا یہ حال ہوگیا ہے کہ فی الوقت ایک ڈالر 95 روپئے 75 پیسے کے مساوی ہوگیا۔ اس بات کے خدشات پائے جاتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں روپئے کی قدر میں مزید گراوٹ آئے گی۔ ایک اور اہم بات سی پی آئی مہنگائی کی سرکاری شرح 3.5 فیصد اور غذائی مہنگائی 4.3 فیصد ہے۔ ایک اور اہم بات پکوان گیس یا گھریلو ایل پی جی کی قیمت 913 روپئے اور کمرشیل سیلنڈر کی قیمت 3071 تا 3237 روپئے ہوگئی ہے۔ WPI مہنگائی 8.3 فیصد، اسی طرح اپریل تا ڈسمبر 2025ء نقد بیرونی سرمایہ کاری، بیرونی راست سرمایہ کاری محض 3 ارب امریکی ڈالر رہی جبکہ ایف آئی آئی / ایف بی آئی منفی 4-3 ارب ڈالرس درج کی گئی۔ سال 2025-26ء میں PCII (پرائیوٹ کیپٹل انوسٹمنٹ انٹینشنس) 6.6 تا 6.8 لاکھ کروڑ روپئے ریکارڈ کیا گیا جبکہ سال 2025-26ء میں 72 ارب ڈالرس مالیتی سونا امپورٹ کیا گیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ منریگا جیسی اسکیم کو ختم کرنے کے بعد جو سال میں اوسطاً غریب خاندانوں کو 50 دن روزگار کا موقع فراہم کرتا تھا۔ اب غریبوں کے لئے کوئی یومیہ اجرتی روزگار موجود نہیں ہے۔ آپ نے وزیراعظم نریندر مودی کا بیان سنا اور پڑھا ہوگا، اُنھوں نے کہاکہ خوردنی تیل اور کھانوں کی غیر ضروری درآمدات سے بچنا چاہئے حالانکہ وزیراعظم کو اپنی حکومت کی اصل کارکردگی کا جائزہ لینا چاہئے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu