Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
سات سیاسی جوڑیاں طاقتور کون؟

سات سیاسی جوڑیاں طاقتور کون؟

سیاست 1 week ago

رامچندر گوہابنگلورو کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسیس میں 6 اگست 2019ء اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ کافی نوش کررہا تھا اور کافی کے چسکے لیتے ہوئے ہم لوگ کشمیر کو دستور کی دفعہ 370 کے تحت دیئے گئے خصوصی موقف کی منسوخی پر بات کررہے تھے۔ اس دفعہ کو صرف ایک دن قبل یعنی 5 اگست 2019ء میں ختم کیا گیا تھا۔ کافی ٹیبل پر موجود نوجوانوں میں سے ایک نے جو کمپیوٹر سائنسداں تھا، اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اب ہمارے پاس باالفاظ دیگر ہمارے ملک میں مودی 2.0 حکومت نہیں بلکہ شاہ 1.0 حکومت ہے۔ یقینا یہ نئے وزیرداخلہ ہی تھے جنھوں نے ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کی حیثیت و رتبہ یا خصوصی موقف گھٹانے اور ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی اور اسے نافذ بھی کیا۔ شائد اسے شاہ 1.0 کہنا مبالغہ آرائی ہو لیکن اب اس میں بہت کم شک رہ گیا تھا کہ امیت شاہ نہ صرف حکومت کے دوسرے سب سے طاقتور و بااثر شخصیت تھے اور ہیں بلکہ وزیراعظم کے علاوہ واحد وزیر تھے اور ہیں جن کے پاس حقیقی اختیارات اور آزادانہ عمل کی قوت موجود تھی۔ مودی ۔ شاہ کی یہ جگل بندی کوئی نئی بات نہیں تھی۔ آزاد ہندوستان کے ابتدائی برسوں میں حکومت میں ولبھ بھائی پٹیل اور پنڈت جواہر لال نہرو کی شراکت داری دیکھئے۔ یہ اور بات ہے کہ موجودہ سیاست کی زہریلی بحثیں اور بیانئے انھیں حریف اور ایک دوسرے کے مخالف کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو وہ دوست رفیق اور مل جل کر خدمات انجام دینے والے عوامی خدمت گذار تھے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھیں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر جیسی غیرمعمولی صلاحیتوں کی حامل شخضیتوں، وزراء اور قابل سیول سرویس عہدہ دار کی حمایت حاصل تھی۔ تاہم تاریخی تحقیق کے مضبوط دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ ایک منتشر معاشرہ سے قوم کی تشکیل میں ان کی شراکت داری نے مرکزی بلکہ فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ میری اپنی تصنیف India after Indira Gandhi کے علاوہ قارئین راج موہن گاندھی کی ولبھ بھائی پٹیل پر لکھی گئی نہایت تحقیقی سوانح عمری بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ڈسمبر 1950ء میں ولبھ بھائی پٹیل کا دیہانت ہوا اور اس کے اگلے سال ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے استعفیٰ کے بعد نہرو کابینہ کی تمام شخصیتوں پر حاوی ہوگئے جو شاید ایک ملی جلی نعمت تھی۔ ہندوستانی سیاست کی اگلی طاقتور جوڑی 1960ء کی دہائی کے اواخر میں منظر عام پر آئی جب وزیراعظم اندرا گاندھی نے سابق سفارت کار پی این ہکسر کو اپنا پرنسپل سکریٹری مقرر کیا۔ ہکسر جلد ہی مسز گاندھی کے کسی بھی کابینی وزیر سے زیادہ طاقتور اور بااثر ہوگئے تھے۔ 1970ء سے 1975ء پانچ برسوں تک وہ اندرا گاندھی کے دست راست اور سب سے بااثر اور بارسوخ مشیر رہے۔ انھوں نے وزیراعظم اندرا گاندھی کے بہترین دور یعنی بنگلہ دیش کی آزادی کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا اور زرعی و خلائی تحقیق جیسے اہم شعبوں میں اعلیٰ معیاری سائنس کو فروغ دینے میں بھی اہم حصہ لیا۔ اس میں شہری آزادیوں کا خاتمہ، میڈیا یا صحافت پر سنسرشپ، عدلیہ کو تابع بنانا، بیوروکریسی اور پولیس کو ماں بیٹے کے ماتحت کرنا اور تمام سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ٹھونسنا شامل تھا جبکہ اندرا گاندھی اور پی این ہکسر کی شراکت داری کے برخلاف اس اتحاد میں کوئی مثبت پہلو موجود نہیں تھا اب اور آگے بڑھتے ہیں حکومت میں اگلی اہم شراکت داری پی وی نرسمہا راؤ اور ماہر اقتصادیات ڈاکٹر منموہن سنگھ کے درمیان دیکھی گئی جو 1991ء سے 1996ء تک وزیراعظم اور وزیر فینانس کے باوقار عہدوں پر فائز رہے۔ پی وی نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ملکر ملک کو لائسنس پرمٹ اور کوٹہ راج سے آزاد کیا جس کے نتیجہ میں 30 برسوں پر محیط مسلسل معاشی ترقی کا آغاز ہوا۔ اس ترقی نے غربت کا نمایاں طور پر انسداد کیا یعنی غربت میں کمی کی۔ معاشرہ میں ایک بڑے متوسط طبقہ کو جنم دیا اور دنیا بھر میں ہندوستان کی شبیہ بہتر سے بہتر بنائی۔ اس کی حیثیت اور رتبہ کو مضبوط و مستحکم کیا۔ پی وی نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بعد اٹل بہاری واجپائی اور ایل کے اڈوانی کی جوڑی منظر عام پر آئی۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں انھوں نے مل کر بی جے پی کو کانگریس پارٹی کے لئے ایک بڑی قومی حریف جماعت بنادیا جس کے نتیجہ میں آج بی جے پی اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ 1998ء سے 2004ء تک اقتدار میں رہتے ہوئے اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم اور ایل کے اڈوانی وزیرداخلہ رہے۔ دونوں پی وی نرسمہا راؤ اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شروع کردہ فراخدلانہ معاشی پالیسی کو آگے بڑھایا جس میں یشونت سنہا اور جسونت سنگھ جیسے قابل ترین کابینی رفقاء نے بھی مدد کی۔ اُسی دوران چونکہ وہ صرف ایک کثیر جماعتی اتحاد کے حصہ کے طور پر حکومت کرسکتے تھے اس لئے سنگھ پریوار کے اکثریتی رجحانات کو مکمل آزادی حاصل نہ ہوسکی۔ 2004ء کے عام انتخابات میں بی جے پی کو غیر متوقع ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر اگلے دس برسوں تک ملک میں ایک کثیر جماعتی اتحاد نے حکومت کی جس میں کانگریس کو غلبہ حاصل تھا۔ تاہم اس شراکت داری کے فوائد اس بات کو غیر واضح صورتحال کی وجہ سے کمزور پڑگئے کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے یقینا یہ اختیار وزیراعظم کے پاس ہونا چاہئے تھا لیکن ڈاکٹر سنگھ فطرتاً محتاط اور خطرہ یا جوکھم مول لینے سے گریزاں تھے اور انھوں نے سونیا گاندھی کو ان معاملات میں بھی بہت زیادہ مداخلت کی اجازت دی جو مکمل طور پر ان کے اپنے دائرہ اختیار میں آتے تھے۔ مثال کے طور پر تعلیمی پالیسی وغیرہ اور اب نریندر مودی اور امیت شاہ کی شکل میں میرے خیال میں ساتویں سیاسی جوڑی یا شراکت داری موجود ہے اور تمام جگل بندیوں میں سب سے زیادہ دیرپا ہے۔ واضح رہے کہ امیت شاہ نے سال 2002ء سے لے کر 2014ء تک گجرات کی سیاست میں اور 2014ء سے آج کی تاریخ تک قومی سیاست میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس عرصہ کے دوران وہ کبھی بھی سیاسی طاقت سے محروم نہیں رہے۔ پہلے انھوں نے گجرات کو ایک جماعتی ریاست بنایا اور پھر سارے ہندوستان میں بی جے پی کا دائرہ وسیع کیا، اس کی سیاسی طاقت میں اضافہ کیا۔ ان دونوں کی شراکت داری بلاشبہ متاثرکن نظر آتی ہے لیکن اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ انھوں نے اقتدار کیسے حاصل کیا اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد کیا گُل کھلائے تو ان کا ریکارڈ بہت زیادہ تاریک دکھائی دیتا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے اُنھوں نے مخالف جماعتوں کو دباؤ اور مختلف ہتھکنڈوں (بقول اپوزیشن بلیک میلنگ یا لالچ) کے ذریعہ کمزور کیا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu