مودی کی پابندیاں… باقی کچھ بچا تو مہنگائی مار گئی عوام بدحال … وزیراعظم ملک کے باہر
رشیدالدین
''عوام ہوجائیں تیار۔ پڑنے والی ہے مہنگائی کی مار'' وزیراعظم نریندر مودی نے پانچ ریاستی اسمبلیوں کے نتائج کے بعد فلم مغل اعظم کے ظل الٰہی کی طرح رعایا کے لئے فرمان جاری کرتے ہوئے بچت کی صلاح دی۔ انتخابی نتائج کے صرف ایک ہفتہ بعد نریندر مودی نے ملک کی معیشت کو بچانے کیلئے عوام سے اپنی ضروریات کی قربانی طلب کی۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی اور جنگ کا ماحول گزشتہ دو ماہ سے برقرار ہے لیکن مودی اور ان کے وزیروں نے کبھی بھی تیل کے بحران یا معیشت کی کمزوری کا ذکر نہیں کیا بلکہ یہ دعویٰ کرتے رہے کہ جنگ کے باوجود ہندوستان میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ تیل اور گیس کے ذخائر بھرے پڑے ہیں اور عوام کو فکرمند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ راہول گاندھی اور معاشی ماہرین مالیاتی بحران اور مہنگائی کے بارے میں عوام کو مسلسل باخبر کرتے رہے لیکن مودی حکومت کا کہنا تھا کہ راہول گاندھی عوام کو ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اسمبلی چناؤ کے نتائج تک بھی سب کچھ ٹھیک دکھایا گیا لیکن نتائج کے ایک ہفتہ بعد وزیراعظم نے حیدرآباد کے جلسہ عام میں 7 نکاتی پابندیوں کا ایجنڈہ جاری کردیا۔ نریندر مودی کی عوام سے اپیل کے ساتھ ہی لڑکھڑاتی معیشت کی حقیقت آشکار ہوگئی اور عوام کو یقین ہوگیا کہ اب اچھے دن کی جگہ امتحان کا وقت آچکا ہے۔ انتخابات میں شکست کے خوف سے تیل اور معاشی بحران پر خوشحالی کی چادر ڈھانک دی گئی تھی۔ جب کبھی کوئی کارنامہ ہو تو کریڈٹ لینے نریندر مودی میدان میں کود پڑتے ہیں۔ اب جبکہ حالات دیگرگوں ہیں عوام سے قربانی کی اپیل کی جارہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج کے ایک ہفتہ میں ایسا کیا ہوگیا کہ عوام پر تحدیدات عائد کرنی پڑیں۔ دراصل مودی حکومت ملک کی حقیقی صورتحال کے بارے میں عوام کو دھوکہ میں رکھے ہوئے ہے۔ نریندر مودی نے ورک فرم ہوم ، ایک سال تک سونا نہ خریدنے ، پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی کرتے ہوئے میٹرو اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال ، خوردنی تیل کا کم استعمال ، کیمیکلس اور فرٹیلائیزرس کے فصلوں کیلئے استعمال میں کمی ، بیرونی اشیاء کے بجائے دیسی اشیاء کی خریدی اور ایک سال تک بیرونی سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ واہ مودی جی واہ آپ کا حال تو اس راجہ کی طرح ہے جو خود تو ہلدی اور بیگن کا استعمال کرے لیکن پرجا کو استعمال سے منع کرے۔ ویسے بھی نریندر مودی کا قول اور فعل میں تضاد کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ گزتہ 12 برسوں میں نریندر مودی نے عوام کیلئے جو کچھ کہا، اس پر کبھی عمل نہیں کیا۔ عوام کے لیڈر کا مطلب ہر کام میں عوام کو لیڈ کرنا یعنی قیادت کرنا ہوتا ہے ۔ عوام سے جن 7 قربانیوں کی اپیل کی گئی ، ان پر وزیراعظم پہلے عمل کر کے دکھائیں۔ ایک سال تک بیرونی سفر نہ کرنے کا مشورہ دینے والے وزیراعظم ان دنوں پانچ ممالک کے دورہ پر ہیں۔ متحدہ عرب امارات ، نیدر لینڈ ، سویڈن ، ناروے اور اٹلی کا دورہ کر رہے ہیں۔ ویسے بھی ہندوستان ان دنوں جھلسا دینے کی والی گرمی کی لپیٹ میں ہے اور نریندر مودی کو گرمی سے راحت کیلئے بیرونی تفریح ضروری تھی۔ بیرونی دورہ کی مخالفت کرنے والے بھی عجیب لوگ ہیں۔ کیا وہ جانتے نہیں کہ انتخابی مہم اور خاص طور پر مغربی بنگال میں ممتا دیدی کو شکست دینے کیلئے مودی نے 17 ریالیوں اور روڈ شوز کیا ۔ ظاہر ہے کہ الیکشن کی تھکن دور کرنے کیلئے بیرونی ملک جانا ضروری تھا۔ ویسے بھی بیرونی دوروں کا وقفہ طویل ہوچکا ہے۔ اسرائیل پہنچ کر ایران پر حملہ کی منظوری کے بعد سے وزیراعظم کسی بیرونی دورہ پر نہیں گئے ۔ مدر لینڈ سے فادر لینڈ کے سفر کے بعد اسلحہ کی جنگ اور ملک میں انتخابی جنگ نے انہیں مصروف کردیا تھا۔ عوام کو پٹرول اور ڈیزل کے کم استعمال کا مشورہ دینے والے نریندر مودی کا طیارہ کیا الیکٹرک بیاٹری سے چلتا ہے ؟ جس لاؤ لشکر کے ساتھ مودی بیرونی تفریح پر ہیں ، کیا ڈریسنگ اور میک اپ کے اخراجات میں کوئی کمی آئے گی۔ عوام کو میٹرو اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کا درس دینے والے وزیراعظم مسافرین کے ریگولر فلائیٹ میں سفر کرتے تو ملک کے لئے مثال قائم ہوتی ۔ ورک فرم ہوم اور زوم کانفرنس کی صلاح دینے والے وزیراعظم پانچ ممالک کے سربراہوں کے ساتھ زوم میٹنگ کے ذریعہ بات چیت کرسکتے تھے۔ ہزاروں کیلو میٹرس کے سفر سے خصوصی طیارہ اور سفری اخراجات کے کروڑہا روپئے کی بچت کی جاسکتی تھی ۔ ایک سال تک سونا نہ خریدنے اور پکوان کیلئے کم تیل کے استعمال کے معاملہ میں وزیراعظم پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ دونوں کام گھر دار اور خاندان رکھنے والوں کے ہیں۔ شریک حیات ساتھ ہوتی تو سونے کی خریدی اور خوردنی تیل کی ضرورت پڑتی تھی ۔ یہاں تو نریندر مودی تنہا بہ تقدیر ہیں اور ایک سال تو کیا زندگی بھر سونے کی خریدی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ودیشی یعنی فارن اشیاء کے بجائے سودیشی یعنی دیسی اشیاء کی خریدی کا مشورہ دینے والے وزیراعظم اپنے سفر کی گاڑی تبدیل کردیں جوکہ فارن میڈ ہے۔ اطلاعات کے مطابق مودی جس گاڑی میں سفر کرتے ہیں ، وہ مرسیڈیز S-650 گارڈ ہے جس کا شمار دنیا کی سب سے مہنگی کاروں میں ہوتا ہے ، جس کی قیمت 12 کروڑ بتائی گئی ہے ۔ وزیراعظم کی حیثیت سے مختلف سہولتوں کو جوڑ دیا جائے تو کار کی لاگت 50 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ وزیراعظم کے قافلہ میں اس طرح کی ایک نہیں بلکہ 6گاڑیاں ہیں ۔ پرائم منسٹر آواس یوجنا (ہاؤزنگ اسکیم) کے تحت ایک گھر پر ایک لاکھ 25 ہزار کا خرچ آتا ہے ، اس اعتبار سے وزیراعظم کی ایک گاڑی 4000 مکانات اور 6 گاڑیاں 24,000 مکانات کے خرچ کے برابر ہیں۔ نریندر مودی اور ان کے ساتھی ملک کے معاشی بحران سے یقیناً واقف ہوں گے ، باوجود اس کے صرف مغربی بنگال میں سینکڑوں گاڑیوں کے ساتھ روڈ شو ہوئے اور جلسوں میں لاکھوں افراد کو گاڑیوں کے ذریعہ منتقل کیا گیا۔ظاہر ہے یہ گاڑیاں ڈیزل کی ہوں گی وزیراعظم نے 17 ریالیاں اور روڈ شو کئے جبکہ امیت شاہ نے 40 سے زائد جلسے اور 11 روڈ شو کئے ۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے 22 جلسوں سے خطاب کیا اور 2 روڈ شو کئے ۔ دیگر بی جے پی چیف منسٹرس اور مرکزی وزراء کی ریالیوں اور روڈ شو کا حساب علحدہ ہے۔ اتنا ہی نہیں عوام سے اپیل کے دوسرے دن وزیراعظم نے گجرات میں روڈ شو کیا اور فضائیہ کے ایر شو کا مشاہدہ کیا ۔ کیا ایرفورس کے طیارے فیول کے بجائے الیکٹرک بیاٹری سے چلائے گئے ۔ معیشت کو بچانے کے نام پر مرکزی وزراء ، گورنرس ، چیف منسٹرس اور ریاستوں کے وزراء کے قافلہ میں چند ایک گاڑ یوں کی کمی سے کچھ حاصل نہیں۔
جس کا اندیشہ تھا آخر وہی ہوا۔ مرکز نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپئے فی لیٹر کا اضافہ کردیا ہے ۔ کمرشیل گیس کی قیمتوں میں پہلے ہی 1000 روپئے کا اضافہ کیا گیا ۔ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں مہنگائی اپنے عروج پر پہنچ جائے گی۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا انحصار پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں پر ہوتا ہے ۔ نریندر مودی کے بیرونی دورہ پر روانگی سے عین قبل قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور عوام کو ایک نئی سزا دی گئی ۔ ہندوستان میں مہنگائی اور دیگر مسائل سے عوام پریشان ہیں لیکن نریندر مودی یوروپی ممالک کی تفریح کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے اقتدار کے 100 دن میں مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ کیا تھا لیکن 12 سال گزرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ہندوستان مالیاتی ایمرجنسی کی طرف پیش قیدمی کر رہا ہے ۔ مرکزی حکومت نے گزشتہ چار برسوں کے دوران ماہرین کی رائے پر کوئی توجہ نہیں دی اور معیشت کو بہتر بنانے کے اقدامات نہیں کئے گئے۔ اب جبکہ صورتحال قابو سے باہر ہوچکی ہے ، مودی حکومت نے اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام کو مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ جاریہ ماہ ملک میں مہنگائی کی شرح 8.3 درج کی گئی اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک کو معاشی بحران سے بچانا آسان نہیں۔ پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ کا اثر چھوٹے کاروباریوں پر پڑ ے گا۔ پہلے ہی چھوٹے اور متوسط کاروبار بند ہوچکے ہیں اور بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ عوام ایک طرف مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں تو دوسری طرف نیٹ امتحانات کی منسوخی میں 22 لاکھ طلبہ کے مستقبل پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ نریندر مودی دور حکومت میں 4 مرتبہ نیٹ امتحانات کے پرچہ کا افشاء ہوا لیکن حکومت نے شفاف امتحان یقینی بنانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ۔ سی بی آئی جانچ سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور یہ حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ جو حکومت امتحانات کے موثر انعقاد کی اہل نہیں وہ ملک کی معیشت کو کیا سدھار سکتی ہے۔ شمس مینائی نے کیا خوب کہا ہے ؎
سب کچھ ہے اپنے دیش میں روٹی نہیں تو کیا
وعدہ لپیٹ لو جو لنگوٹی نہیں تو کیا

