ڈاکٹر نکھیل سریش گھڈپال پتییہ صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کی بیماری نہیں ہے بلکہ کوئی بھی پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہوسکتا ہے اس بیماری کی بروقت تشخیص آپ کی زندگی بچاسکتی ہے ۔ ایک 52 سالہ اسکول ٹیچر مجھ سے رجوع ہوئیں ان کی شکایت تھی کہ انہیں مسلسل کھانسی ہے اور سانس بھی پُھل رہی ہے ۔ اسکول ٹیچر نے بتایا کہ انہوں نے ز ندگی میں کبھی بھی سگریٹ نہیں پیا ( سگریٹ نوشی نہیں کی ) جب ان کے سینہ کا ایکسرے لیا گیا اس میں ایک دھبہ نظر آیا اور مختلف معائنے کروائے گئے جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ کینسر سے متاثر ہیں جس پر اس ٹیچر جو پہلے الفاظ تھے وہ کچھ یوں تھے '' لیکن ڈاکٹر میں سگریٹ نوشی نہیں کرتی ، اگر دیکھا جائے تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر سے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کو ظاہر کرتا ہے اور وہ یہ کہ پھیپھڑوں کا کینسر صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں کو ہوتا ہے اگر چہ تمباکو نوشی اب بھی پھیپھڑوں کے کینسر کی سب سے بڑی وجہ ہے لیکن راقم الحروف اپنی پریکٹس میں سگریٹ نوشی نہ کرنے والے مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد کو اس مرض میں مبتلا دیکھ رہا ہوں ان لوگوں میں بہت زیادہ پھیپھڑوں یا شش کے کینسر کی تشخیص ہورہی ہے جو سگریٹ نوشی کے عادی نہیں ہیں ۔ فضائی آلودگی ، ایسے باورچی خانوں میں پکوان کے دوران خارج ہونے والا دھواں جہاں ہوا اور روشنی کا ناقص انتظام ہوتا ہے ، کیمیائی عناصر کی بار بار زد میں آنا اور جنیاتی عوامل بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسی علامات جنہیں آپ کو نظر انداز نہیں کرنی چاہئے : اگر درج ذیل علامات دو تا تین ہفتے سے زیادہ باقی رہیں تو بڑا مہربانی ڈاکٹر سے رجوع ہوں مثال کے طور پر کھانسی جو مسلسل بڑھتی جائے اس کے علاوہ کھانسی کے ساتھ خون بھی آئے چاہے تھوڑی ہی مقدار میں کیوں نہ ہو سینے میں درد جو سانس پھولنے کے ساتھ بڑھتا جائے بناء کسی وجہ کے سانس کا پھلنا ، آواز کا بیٹھ جانا ، اور کسی وجہ کے بغیر جسمانی وزن کا کم ہونا ، بار بار سینے کے انفکیشن سے متاثر ہونا ، ایک اور اہم بات یہ ہیکہ مذکورہ جو علامات ہیں یہ ہمیشہ کینسر کی نشاندہی نہیں کرتیں لیکن انہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ اسکریننگ سے عارضہ جلد پکڑا جاتا ہے یعنی بیماری کا بآسانی پتہ چل جاتا ہے اور خاص طور پر راقم الحروف اس بات پر بہت زور دیتا ہے ۔ پھیپھڑوں کا کینسر ابتدائی مرحلہ یا Initial Stage میں اکثر کسی قسم کی علامت ظاہر نہیں کرتا اس سے زیادہ تر مریض ڈاکٹر سے بڑی تاخیر سے رجوع ہوتے ہیں تاہم اب ہمارے پاس ایک موثر Screening tool موجود ہے اور وہ ہے 50-Low-dose CT Scan of Chest سال عمر کے وہ لوگ جو بہت زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اور طویل عرصہ سے سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں ایسے افراد کیلئے یہ بہت ہی سادہ اور تیز اسکیان کینسر کا ایسا وقت پتہ چلا سکتا ہے جب وہ بہت چھوٹے اور مکمل طور پر قابل علاج ہوں ۔ ہندوستانی مریضوں میں EGFR جیسی تبدیلیاں بہت عام ہیں اور ہمارے پاس ایسی خاص ادویات موجود ہیں جو برسوں تک کیسنر کی بیماری کو کنٹرول میں رکھ سکتی ہیں دوسری جانب امونیو تھراپی نے بھی علاج و معالجہ میں انقلاب برپاد کردیا ہے ۔ راقم الحروف ایک ایسی بات شیر کرنا چاہتا ہے جو صرف دس یا بارہ برس پہلے تک ناقابل یقین تھی ۔ میرے پاس پھیپھڑوں کے کینسر کے مرحلہ 4 سے متاثر مریض ہیں جو پانچ سال یا اس سے زائد عرصہ سے اچھی خاصی اور معمول کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں آپ سب کو معلوم ہے کہ مرحلہ 4 کو موت کا پروانہ سمجھا جاتاتھا اب بہت سے مریضوں کیلئے ایک ایسا عارضہ بن چکا ہے جس کے ساتھ وہ زندگی گزار رہے ہیں اس سے مر نہیں رہے ہیں جو یقیناً علاج کے شعبہ میں آئی بڑی تبدیلی ہے ۔ میرا پیام : اگر آپ سگریٹ نوشی کے عادی ہیں تو اسے چھوڑ دیں جس سے آپ میں پھیپھڑوں کے کینسر کا جوکھم کا کم ہوجائے گا ۔ اگر آپ سگریٹ نوشی کے عادی نہیں ہیں تو یہ نا سمجھے کہ آپ کو خطرہ نہیں ہے علامات سے چوکس رہنے اور بروقت اقدام کیجئے ۔

