ایس وجئے''تلنگانہ شائننگ'' ایک ایسا نعرہ ہے جو آج حیدرآباد میں ہر طرف سنائی دیتا ہے۔ تاہم جنوبی ہند کے اس مصروف شہر، جس کی آبادی تقریباً ستر لاکھ ہے، میں بہت کم لوگ، اگرچہ دھندلی یادوں ہی میں سہی، یہ بات یاد رکھتے ہوں گے کہ اس خطے کے لیے علیحدہ ریاست کا حصول آسان نہیں تھا۔ حیدرآباد کے وہ نوجوان مرد و خواتین جنہوں نے 1960ء کی آخری دہائی یا 1970ء کی ابتدائی برسوں میں تعلیم حاصل کی، ''تحریکِ تلنگانہ'' کو ضرور یاد کرتے ہوں گے، جس نے بے شمار زندگیوں کو متاثر کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھوک ہڑتالیں، تشدد، پولیس فائرنگ، اور اُس وقت کے متحرک رہنما ایم۔ چنا ریڈی عوامی ذہنوں پر چھائے ہوئے تھے۔ جلد ہی یہ سب کچھ اس خطے کے لوگوں کے حافظوں سے مدھم ہونے لگا، لیکن خطے کی اصل عوام کے دلوں میں سلگنے والا غصہ ہرگز ختم نہ ہوا، کیونکہ علیحدہ ''تلنگانہ'' ریاست کا جائز مطالبہ ایک خواب بن کر رہ گیا تھا۔ اگرچہ 2000ء کی دہائی میں علیحدہ ریاست کی تحریک نے دوبارہ زور پکڑا، لیکن جون 2014ء تک تلنگانہ ریاست کا قیام حقیقت نہ بن سکا۔علیحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کے ساتھ کئی نمایاں نام وابستہ ہو چکے ہیں، لیکن ایک نہایت اہم شخصیت، مرحوم ایم۔ کمال الدین احمد، کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ وہ ان اولین آوازوں میں شامل تھے جنہوں نے تلنگانہ خطے کی معاشی پسماندگی کی جانب توجہ مبذول کروائی۔ ان لوگوں کے برعکس جو سیاسی مرکز یعنی حیدرآباد شہر سے تحریک چلاتے تھے، کمال الدین احمد دیہی علاقوں کی پیداوار تھے، اور یہی وہ میدان تھا جہاں انہوں نے سب سے بڑا فرق پیدا کیا۔ 1960ء کی ابتدائی دہائی سے لے کر 1990ء تک، کمال الدین احمد مسلسل تلنگانہ کے عوام کے لیے نچلی سطح پر سرگرم رہے۔ وہ 1962ء اور 1967ء میں بالترتیب چیریال اور جنگاؤں سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ بعد ازاں وہ 1980ء، 1989ء اور 1991ء تا 1996ء کے دوران ورنگل؍ہنمکنڈہ سے رکنِ پارلیمان رہے۔ اس کے بعد وہ مرکزی وزیرِ مملکت برائے شہری رسد و عوامی تقسیم، اور پھر وزیرِ مملکت برائے تجارت مقرر ہوئے۔ 1985ء سے 1989ء کے درمیان، نیشنل ایگریکلچرل کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن آف انڈیا (NAFED) کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے مرکز میں مقامی مسائل کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنایا۔ 1994ء میں انہیں اُس وقت کی آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی (APCC) کا صدر بنایا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یکم ستمبر 1997ء کو ہندوستان کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی لوک سبھا کی بحث کے دوران، ایم۔ کمال الدین احمد نے ''اصل'' تلنگانہ کی مسلسل پسماندگی کو نمایاں کیا، خاص طور پر اس کا موازنہ نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ اور مراعات یافتہ آندھرا خطے سے کرتے ہوئے۔ یہ ایک سچے فرزندِ وطن کی آواز تھی، نہ کہ کسی موقع پرست سیاست دان کی۔ اور یہ سب اُس وقت ہوا جب تلنگانہ راشٹرا سمیتی (TRS) نے علیحدہ تلنگانہ کے مطالبے کے لیے اپنی فیصلہ کن آواز بلند کرنے سے پورا ایک عشرہ پہلے۔ تاہم پارلیمان کے اس اہم فورم پر اس انکشاف کا نتیجہ ایک شدید ردِعمل کی صورت میں نکلا، جو نہ صرف تلنگانہ کے مقصد کے خلاف تھا بلکہ اُس شخصیت کے خلاف بھی تھا جس کی آواز کو تلنگانہ کی جدوجہد کی تاریخ میں کبھی مناسب مقام نہ دیا گیا۔ علیحدہ تلنگانہ کا تصور ہمیشہ سے کئی ممتاز سیاسی شخصیات کے لیے ناقابلِ قبول رہا۔ ستمبر 1997ء کے بعد، کمال الدین کے سابق ساتھیوں اور قریبی دوستوں میں سے بہت سے لوگ، جو کبھی اُن کے نظریات کے حامی تھے، نہ صرف اُن سے دور ہو گئے بلکہ ہر ممکن طریقے سے انہیں بدنام کرنے کی کوشش بھی کی۔ اس اچانک بے حمایتی کا اثر 1998 – 99 ء کے لوک سبھا انتخابات میں ان کی شکست کی صورت میں سامنے آیا، جو خود ان کے لیے بھی ایک غیر متوقع صدمہ تھا۔ اپنے قریبی دوستوں اور سینئر رہنماؤں کے رویّے سے شدید دل برداشتہ ہو کر، کمال الدین نے عملی سیاست سے جلد کنارہ کشی اختیار کر لی۔ اگرچہ تلنگانہ میں ان کی سیاسی حیثیت دھندلا گئی، لیکن کمال الدین احمد نے 2001ء میں منصوبہ بندی کمیشن کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنی سیاسی بصیرت کے علاوہ، وہ ایک نہایت صاحبِ مطالعہ شخص تھے، جو تلگو، اردو اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، اور یہی اوصاف انہیں ایک مثالی تلنگانہ رہنما بناتے تھے۔ اُن کی بے غرض طبیعت نے مختلف سیاسی حلقوں میں انہیں مقبول بنایا۔ انہی میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی بھی شامل تھے، جنہوں نے کمال الدین احمد کو 2002ء تا 2004ء سعودی عرب میں ہندوستان کا سفیر مقرر کیا۔سفیرِ ہند کی حیثیت سے انہیں تین مرتبہ غسلِ کعبہ کی روح پرور تقریب میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔ اس موقع پر انہیں بیت اللہ کے اندر داخل ہوکر طویل نماز، دعا اور عبادت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔کمال الدین احمد کو قرآنِ مجید کی طویل سورتیں زبانی یاد تھیں، اسی وجہ سے وہ نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ طویل نمازیں ادا کیا کرتے تھے۔ حرمِ شریف میں بھی ان کی عبادت گزاری اور قیامِ نماز کا یہی معمول تھا۔تلنگانہ کے مقصد کے لیے اتنے عظیم مجاہد کے ساتھ جو ناانصافیاں کی گئیں، وہ شمار سے باہرہے ۔ایسی ناانصافیاں جو ہر منطق کو جھٹلا دیتی ہیں۔ انسانی معاشرے میں کسی کو اُس کا جائز حق اور اعتراف نہ ملنا اگرچہ عام بات ہے، لیکن ایک ایسے بزرگ رہنما کو دانستہ طور پر تاریخ سے مٹانے کی کوشش، جس کا ریکارڈ بے مثال ہو، صرف اور صرف انتقام ہی قرار دی جا سکتی ہے۔ آج جبکہ تلنگانہ میں دوبارہ کانگریس برسرِ اقتدار ہے، تو اس بات کا بھرپور موقع موجود ہے کہ تاریخ کو درست کیا جائے اور ایم۔ کمال الدین احمد کو وہ مقام دیا جائے جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں۔ تلنگانہ تحریک کی تاریخ اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس خطے کی شناخت اور معاشی ترقی کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دینے والے اس بے لوث مجاہد کا ذکر نہ کیا جائے۔ ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا (علامہ اقبال)

