پروین کمالاس سال عالمی سطح پر دو موضوعات زیر بحث ہیں، اول تو جنگی فضاء کی وجہ سے دنیا تباہی اور بربادی کے دہانے تک پہنچ چکی ہے اور اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا۔ اس کے برعکس دوسرا موضوع جو خوشی اور مسرت کی فضاء بناتا ہے وہ ہے یورپ کا ہندوستان سے تجارتی ربط و ضبط قائم کرنے کا اہم فیصلہ ہے۔ اب یہ کہاں تک کامیاب رہے گا۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن بہت جلد اس کی شروعات ہونے کی خبریں مل رہی ہیں۔ نیا سال 2026 نئی راہیں تلاش کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ اس سال جنوری میں ہندوستان اور ستائیس ملکوں پر مشتمل یوروپی یونین کے درمیان ایک بڑا تاریخی معاہدہ ''آزاد تجارتی معاہدہ'' طے پایا ہے جس کو کہ اب تک کے تمام معاہدوں میں سب سے عظیم ترین معاہدہ قرار دیا گیا ہے۔ یوروپی کمیشن کی صدر ''ارزولاخان ڈیرلائن'' اور وزیر اعظم ہندوستان ''نریندر مودی'' نے ملکر بہتر حکمت عملی سے معاہدہ کو تکمیل تک پہنچایا ہے۔ دونوں سیاسی لیڈروں کا مقصد یہی ہیکہ اپنے تجارتی معیار کو اتنا مضبوط اور مستحکم کریں کہ عالمی تجارت کی کشیدگی کا مقابلہ کرسکیں اور یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری کریں۔ کہا جارہا ہے کہ ہندوستان اور یوروپ کے لاکھوں افراد کے لئے یہ معاہدہ بہت سارے مواقع فراہم کرے گا۔ اس وقت جبکہ ہندوستان اور یوروپی یونین مل کر بہت سارے پراجکٹس پر کام کرنے کے لئے تیار ہوچکے ہیں تو ایک درخشاں مستقبل کی امیدیں کی جاسکتی ہیں۔ ان اقدامات سے ہر دو کے لئے کامیابی کی راہیں کشادہ ہوں گی۔ ان حالات کے پیش نظر جیسا کہا جارہا ہے کہ یہ معاہدہ جو طے پاچکا ہے اس کے تحت ہندوستان اور یوروپ کے لاکھوں افراد کے لئے بہت سارے مواقع لے کر آیا ہے تو ان مواقعوں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کے نوجوان طبقے کو چاہئے کہ تعلیم کی طرف پوری توجہ دیں اور کمپیوٹر میں سبقت لے جائیں، ایسے کورسس جو یوروپی ممالک میں ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ بنیں اس پر عبور حاصل کریں۔ یوروپی اقوام نے ہندوستانی دماغوں کو بہت خوب پرکھا اور سمجھا ہے۔ وہ ان کی اہلیت کو جانتے ہیں، پھر یہ بھی کہ حکومتی سطح پر معاہدات ہوچکے ہیں وہ ہندوستانی نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے کے لئے تیار بھی ہیں جو نوجوان مطلوبہ اہلیت رکھتے ہوں وہ یوروپ پہنچ کر اپنی قابلیت اور مستعدی کا سکہ جماسکتے ہیں۔ اب یہ تو ان نوجوانوں پر منحصر ہیکہ وہ کہاں تک اپنی محنت، دیانتداری اور قابلیت سے مغربی ملکوں کو مرعوب کرسکتے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جائے تو دنیا بہت جلد وہ دن دیکھے گی کہ ایشیا اور یوروپ کے درمیان سوائے زمینی اور فضائی فاصلوں کے کچھ بھی الگ نہیں ہوگا۔ اس وقت فرانس نے بھی خود کو بھارت کا سب سے قابل اعتبار یوروپی شراکت دار قرار دیا ہے۔ یوں تو فرانس اور ہندوستان کی طویل عرصے سے شراکت داری ہے اور برسوں پر محیط اس دورانئے میں تجارتی تعلقات کی ایک لمبی فہرست بنتی ہے۔ تاہم ٹکنالوجی کے شعبہ میں دونوں ملکوں کا آپس میں بہت زیادہ تعاون رہا ہے۔ خلائی شعبہ اور جوہری توانائی کے شعبہ میں دونوں ملک برسوں سے ساجھے دار رہ چکے ہیں۔ اس وقت فرانس نے مستقبل میں بھی بہت سارے شعبوں میں ساتھ کام کرنے کا عندیہ دیا ہے جیسے خلائی ٹکنالوجی، ایروناٹکس، تیز رفتار ٹرینیں، جوہری توانائی اور بہت کچھ، یہ وہ کلیدی شعبے ہیں جن میں مستقبل میں ہندوستان اور فرانس اکٹھے آگے بڑھیں گے۔ صدر فرانس نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہیکہ آئندہ آزاد تجارت کو مزید مستحکم بنائیں گے۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت کا تخمینہ پندرہ بلین ڈالر رہا۔ غرض اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک شراکت داری کے رویے کو اپناکر اپنا مستقبل مضبوط کررہے ہیں اور دوسری طرف دیکھا جائے تو جنگی فضا بن رہی ہے جو ساری دنیا کے لئے تباہی اور بربادی کا الارم ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد بڑے بڑے دانشوران نے کہا تھا کہ اکیسویں صدی میں دنیا پر حکومت اسی کی ہوگی جس کے پاس ایٹم بم اور میزائیل کے بجائے بہتر ٹکنالوجی اور زیادہ سے زیادہ تجارتی منڈیاں ہوں۔ گزشتہ جنگ کی تباہی کے تجربے نے انہیں اتحاد کی طاقت کا سبق سکھا تو دیا لیکن گذرتے وقت کے ساتھ شاید وہ کسی سرد خانے میں جاپڑا اور انسان کا ذہن پھر ایک بار جنگ کی طرف مائل ہوگیا۔ حالیہ جنگ جو دنیا پر ایک بہت بڑی دہشت بن کر چھائی ہوئی ہے اس سے توانائی کا بحران بڑھتا جارہا ہے۔ ''آبنائے ہمز'' جو خلیج فارس کا ایک تنگ سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی تجارت ہوتی ہے وہ بند ہے کیونکہ اب اس پر ایران نے قبضہ کیا ہوا ہیہ۔ بحری جہازوں کو اب خلیج فارس کا چکر کاٹ کر طویل راستے سے گذرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے اور سپلائی میں بھی تاخیر ہو رہی ہے۔ فریقین م یں خواہ غلطی کسی کی بھی ہو مگر اس کی لپیٹ میں اس وقت ساری دنیا آچکی ہے۔ ادھر جنگ سے متاثرہ ملکوں میں زندگیاں جیسے تھم سی گئی ہیں۔ ہر وقت دل و دماغ پر دہشت طاری رہتی ہے کہ آنے والے لمحہ نہ جانے اپنے آپ میں کونسی قیامت چھپاکر لائیں گے اور ہم سوتے ہوئے موت کے آغوش میں چلے جائیں گے۔ شہریوں کی زیادہ تعداد چاہتی ہے جنگ واضح طور پر ہو ہی جائے تاکہ ہار اور جیت کا فیصلہ جلد سامنے آئے۔ یوں تو ہر روز تھوڑا تھوڑا مرنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جیسے سانسیں اٹک کر رہ گئی ہوں۔ جنگ آخر جنگ ہوتی ہے۔ اس میں خون ریزی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ جس بیدردی سے انسانوں کی زندگیاں ختم کی گئیں اسے دیکھ کر کوئی ذی شعور اور باضمیر شخص اپنے ہوش و حواس کھو دیتا ہے۔ وہ دن کب آئے گا جب انسان کا جوش و جنوں اور منفی رجحانات ختم ہو جائیں گے اور اتحاد و اتفاق اور محبت اور بھائی چارگی کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ ساری دنیا کو سمیٹ لینے کی جسجتو میں محو ہو جائے گا۔ اس کا جواب شاید کسی کے پاس نہیں ہوگا۔

