پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ سے کمپنیوں کے نقصان کی بھرپائی نہیںحیدرآباد۔16۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) ملک میں بھر میں پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپئے کا اضافہ ہی قطعی اضافہ نہیں ہے بلکہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ پٹرولیم کمپنیوں کو ہونے والے نقصان میں کمی لانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو کمپنیوں کی جانب سے ناکافی قرار دیا جا رہاہے اور کہا جا رہا ہے کہ 3روپئے کے اضافہ کے باوجود اگر ڈیزل و پٹرول کی مجموعی فروخت کا جائزہ لیا جائے تو پٹرولیم کمپنیوں کو ماہانہ 500 کروڑ کے نقصانات برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔ وزارت پٹرولیم کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں 3 روپئے کے اضافہ پر عوامی ردعمل کا جائزہ لینے کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آئندہ دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں کس قدر اضافہ کیا جاسکتا ہے!ماہرین معاشیات اور سرکاری ذرائع کا کہناہے کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں آئندہ چند ہفتوں کے دوران 10تا15 روپئے کا اضافہ ناگزیر تصور کیا جا رہاہے کیونکہ ایل پی جی ' پٹرول ' ڈیزل کے علاوہ خام تیل کے حصول میں ملک کو ہونے والی دشواریوں سے نمٹنے میں ہونے والی ناکامی کے بعد محض قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا۔ بتایاجاتا ہے کہ ہندستان میں پٹرول وڈیزل کی قیمتوں میں کئے جانے والے اضافہ کو معمولی قرار دیتے ہوئے جو ماحول سازی کی جار ہی ہے اسی طرح ہفتہ واری اساس یا چند یوم کے دوران معمولی معمولی اضافہ کے ساتھ اسے مجموعی طور پر 10تا15 روپئے کے اضافہ کو یقینی بنایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق مرکزی وزارت پٹرولیم کے ذمہ داروں سے پٹرولیم کمپنیوں کے عہدیداروں نے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ہونے والے نقصانات کے متعلق واقف کرواتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 15روپئے اور ڈیزل کی قیمت میں 20 روپئے تک کے اضافہ کی نمائندگی کی ہے اور ماہانہ 1000کروڑ کے نقصانات کی نشاندہی کرتے ہوئے قیمتوں میں اضافہ کا مطالبہ کیا تھا اس کے بعد ہی مرکزی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کیا تھا جن پر 5ریاستوں کی اسمبلیوں کے انتخابات کا عمل مکمل ہونے کے بعد عمل آوری شروع کردی گئی ہے۔ ماہرین معاشیات نے حکومت سے استفسار کرنا شروع کردیا ہے کہ پٹرولیم کمپنیوں کو نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو اس کا بوجھ عوام پر عائد کیا جا رہاہے لیکن جب عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی تھی اور ہندستانی پٹرولیم کمپنیوں اور حکومت ہند کو زبردست منافع ہورہا تھا تو اس وقت حکومت نے اس کا فائدہ عوام کو منتقل کیوں نہیں کیا !اس وقت بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لاتے ہوئے عوام کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات کئے جاسکتے تھے۔3/A/b
حیدرآباد پر مہنگائی کا قہر، پٹرولیم اشیاء کی قیمتوں کا بڑا اثر
گاڑی چلانے والوں پر یومیہ 4.14 کروڑ اور ماہانہ 124.39 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ
حیدرآباد ۔ 16 مئی (سیاست نیوز) عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث پٹرولیم کمپنیوں نے جمعہ سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت بھاری اضافہ کردیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد گریٹر حیدرآباد اضلاع رنگاریڈی اور میڑچل کے شہریوں پر مہنگائی کا ایک نیا بم گرا ہے۔ ایندھن کے ان نرخوں کے باعث شہر کے عوام پر اب روزانہ کروڑوں اور ماہانہ اربوں روپئے کا اضافی مالی بوجھ پڑے گا جس سے گاڑی مالکان، ٹرانسپورٹرس اور عام صارفین میں شدید تشویش اور ناراضگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پٹرول پر فی لیٹر 3.39 اور ڈیزل پر فی لیٹر 3.26 روپئے اضافہ ہوجانے پر مالکان گاڑیوں پر یومیہ 4.14 کروڑ اور ماہانہ 124.39 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہوگیا ہے۔ حیدرآباد میں گاڑیوں کی کثیر تعداد اور صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے ایندھن کی کھپت بے حد زیادہ ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول پر یومیہ 1.86 کروڑ روپئے اور ڈیزل پر یومیہ 2.28 کروڑ روپئے کا اس طرح جملہ 4.14 کروڑ روپئے سے زائد اور ماہانہ تقریباً 124.39 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہوگا۔ حیدرآباد ایک عالمی آئی ٹی ہب بن چکا ہے اور اس کی آبادی 60 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جس کی وجہ سے یہاں ایندھن کی مانگ دن بہ دن بڑھ ہی ہے۔ گریٹر حیدرآباد اضلاع رنگاریڈی اور میڑچل کے دائرہ اختیار میں بڑی تیل کمپنیوں کے 1280 سے زائد پٹرول پمپ موجود ہیں جہاں روزانہ کی بنیاد پر 55 لاکھ لیٹر پٹرول اور 70 لاکھ لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔ تیزی سے بدلتے ہوئے شہری طرز زندگی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت براہ راست عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو متاثر کررہی ہیں۔ اس اچانک اور بڑے اضافے پر گاڑی چلانے والوں اور ٹرانسپورٹ مالکان نے گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہیکہ ایندھن مہنگا ہونے سے نہ صرف سفری اخراجات بڑھیں گے بلکہ مال برداری (لاجسٹکس) مہنگی ہونے کی وجہ سے روزمرہ کی بنیادی اشیاء ترکاری اور راشن بھی مزید مہنگا ہوجائے گا جس کا سب سے بڑا شکار غریب اور متوسط طبقہ بنے گا۔ تاجرین اور دیگر کاروبار کرنے والے اشیاء کی خریداری کے حساب سے اپنا منافع حاصل کرلیتے ہیں لیکن عام آدمی خاص طور پر ملازمت کرنے والے اور یومیہ مزدوروں کو روزمرہ کی اشیاء کی خریداری میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ مالی مسائل کا شکار ہورہے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق مہنگامی میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے ۔2/A/b

