Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
چیف منسٹر ریونت ریڈی بھی شراب پر پابندی کے حامی

چیف منسٹر ریونت ریڈی بھی شراب پر پابندی کے حامی

سیاست 1 week ago

ٹاملناڈو کی طرح مذہبی مقامات اور تعلیمی اداروں کے قریب دکانات پر پابندی کی جاسکتی ہےحیدرآباد۔16۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) تمل ناڈو میں وجئے سی جوزف نے اقتدار حاصل کرتے ہی شراب کی دکانات پر قدغن لگاتے ہوئے جو کاروائی کی ہے اس کی ہر گوشہ سے سراہنا کی جا رہی ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر اے ریونت ریڈی بھی شراب نوشی کے مخالف ہیں اور وہ مسلسل اس بات کا اظہار کرچکے ہیں کہ وہ شراب نوشی کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے ۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے بھی اگر فوری طور پر مذہبی مقامات کے علاوہ اسکولوں اور کالجس کے قریب موجود شراب کی دکانات کو بند کرنے کے احکامات جاری کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں وہ شراب کی دکانات و بار ریستوراں جو کہ تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات سے قریب ہیں انہیں بند کرتے ہوئے شراب کی فروخت میں کمی لانے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔تمل ناڈو میں چیف منسٹر وجئے سی جوزف نے جملہ 717شراب کی دکانات کو فوری اثرت کے ساتھ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں 276 شراب کی دکانات وہ ہیں جو کہ مذہبی مقامات کے قریب چلائی جا رہی تھیں اس کے علاوہ 186 ایسی شراب کی دکانات کو بند کرنے کے اقدامات کئے گئے ہیں جو کہ تعلیمی اداروں کے قریب چلائی جا رہی تھیں۔ اسی طرح 255 ایسی شراب کی دکانات کو بند کرنے کی کاروائی کی گئی جو کہ بس اسٹینڈ و بس اسٹیشن کے قریب موجود تھیں۔تمل ناڈو حکومت نے ریاست میں فوری طور پر شراب بندی کے بجائے ریاست میں شراب نوشی کے خلاف مرحلہ وار انداز میں کاروائی کے ساتھ انسداد نشہ و منشیات کی مہم چلانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ تلنگانہ میں بھی ریاستی حکومت کی جانب سے انسداد منشیات کی مہم چلائی جار ہی ہے لیکن شراب کی دکانات میں کئے جانے والے اضافہ کے بعد شہر کے کئی مقامات پر نئی شراب کی دکانات کے قیام سے عوام بالخصوص راہگیروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اگر ریاستی حکومت تلنگانہ بھی شراب پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے نئی دکانات کے اجازت ناموں کی تنسیخ کے اقدامات کرتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست کو معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے لیکن شراب سے پاک معاشرہ کی تعمیر میں اہم پیشرفت ہونے کا امکان ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے کئی رہائشی علاقوں کے علاوہ مصروف ترین سڑکوں پر شراب نوشی کے عادی افراد کی ہنگامہ آرائی کے آئے دن واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ ان واقعات کے تدارک اور مصروف ترین سڑکوں اور رہائشی علاقوں کو محفوظ بنانے کے لئے شراب کی دکانات میں کمی کے ذریعہ شراب نوشی کو ترک کرنے کے لئے خصوصی شعور بیداری مہم چلائی جاسکتی ہے۔3/A/b

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu