Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
نوجوانوں میں قلب کے امراض کا علاج ممکن

نوجوانوں میں قلب کے امراض کا علاج ممکن

سیاست 1 week ago

کورونری انڈار ٹریکٹومی کے ذریعہ سے سرجری: ڈاکٹر نشید علیحیدرآباد۔17۔مئی ۔(سیاست نیوز) امراض قلب اب محض بزرگوں تک محدود نہیں رہے بلکہ نوجوان نسل میں بھی مختلف امراض قلب پائے جانے لگے ہیں جن کا علاج ممکن ہے ۔ ڈاکٹر نشید علی ماہر امراض قلب و کارڈیوتھوراسک سرجن نے نوجوانوں میں پائی جانے والے امراض قلب بالخصوص شریانوں کے منجمد ہونے کے سبب دل کے پٹھوں میں پیدا ہونے والی کمزوری کی شکایات جو کہ ہارٹ اٹیک یا ہارٹ فیل کا سبب بنتی ہیں ان کے متعلق بتایا کہ موجودہ دور میں قلب سے متعلق بیشتر تمام امراض قابل علاج ہیں اور بائی پاس سرجری کے علاوہ Coronary Endarterectomy کے ذریعہ کامیاب علاج ممکن ہے۔ ڈاکٹر نشیدعلی نے بتایا کہ عام طور پر 40تا50 سال کے نوجوانوں میں جو امراض قلب پائے جاتے ہیں ان کا مہارت کے ساتھ سرجری کے ذریعہ علاج کرتے ہوئے انہیں بہتر اور صحتمند زندگی گذارنے کا موقع فراہم کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان نسل جو امراض قلب کا شکار ہورہی ہے ان میں ایسی پیچیدہ بیماریاں سامنے آرہی ہیں جو کہ ماضی میں عام طور پر انتہائی عمر رسیدہ یا کمزور افراد میں نظر آتی تھیں لیکن اب یہ امراض نوجوانوں میں پائے جانے لگے ہیں جنہیں کئی سرکردہ دواخانوں میں بھی ''ناقابل سرجری '' قرار دیتے ہوئے مایوس کیا جانے لگا ہے۔ ڈاکٹر نشید علی نے بتایا کہ Diffuse Coronary Artery Disease جو کہ شریانوں میں چربی اور خون کے بہاؤ میں رکاوٹ ایک جگہ نہیں بلکہ کئی مقامات پر پیدا کرتی ہے جس کے نتیجہ میں شریانیں سخت پائپ کی شکل اختیار کرجاتی ہیں جس کے نتیجہ میں عام طور پر بائی پاس سرجری کرنا انتہائی دشوار کن ہوجاتا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ غیرمتوازن طرز زندگی ' ذہنی دباؤ' جینایاتی عوامل کے علاوہ دیگر وجوہات کی بناء پر یہ مریض'ڈیفیوزکورونری آرٹری ڈیسیس' کا شکار ہوتا ہے اور اس مرض کا ماہر سرجن کی نگرانی میں علاج ممکن ہے۔ ڈاکٹر نشید علی نے بتایا کہ مذکورہ مرض کا شکار مریضوں کے لئے ''کورونری انڈارٹریکٹومی'' ایک پیچیدہ طریقہ سرجری ہے جو کہ ماہر سرجن کی نگرانی میں انجام دیا جاتا ہے یہ طریقہ علاج نوجوان امراض قلب کا شکار مریض جو کہ ایک سے زائد مقامات پر شریانوں میں خون کے دوران کی رکاوٹ سے پریشان ہیں ان کے لئے امید کی کرن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقہ علاج کے ذریعہ سرجری کے بعد مریض معمول کے مطابق اپنی زندگی گذارسکتا ہے ۔ انہوں نے''ڈیفیوزکورونری آرٹری ڈیسیس' ' کے مریضوں کے علاج کو مؤثر بنانے کے لئے اس طریقہ علاج کو انتہائی جدید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سرجری کے دوران صرف شریانوں کے بند حصہ کو بائی پاس نہیں کیا جاتا بلکہ شریانوں کے اندر جمع رکاوٹوں اور سختیوں کو دور کرتے ہوئے ان شریانوں میں دوبارہ خون کی روانی کے قابل بنایا جاتا ہے اور کے بعد ہی کامیاب بائی پاس سرجری کی جاتی ہے جو کہ قلب کے پٹھوں کو مستحکم بنائے رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ڈاکٹر نشید علی نے کہا کہ قلب کے مریض جنہیں ناقابل علاج یا سرجری قرار دیا گیا ہے انہیں مایوس ہونے کے بجائے ماہرین سے رابطہ کرتے ہوئے اس نئے طریقہ علاج کے متعلق دریافت کرنا چاہئے جو کہ نہ صرف شریانوں میں دوبارہ خون کے بہاؤ کو یقینی بناتا ہے بلکہ قلب کے استحکام میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ Coronary Endarterectomyدراصل ماہرسرجن ' دستیاب سہولتوں ' پر منحصر ہوتی ہے ۔ انہوں نے میڈیکل و سرجیکل سائنس میں ہونے والی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرجیکل تکنیکوں کی بدولت اب انتہائی پیچیدہ شریانوں کا علاج بھی ممکن ہوچکا ہے ۔ انہوں نے محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے مریض کی کامیاب ''کورونری انڈارٹریکٹومی'' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان سے رجو ع ہونے والے اس مریض کے قلب میں شریانوں میں پائے جانے والے انجماد کی بنیاد پر ناقابل علاج و سرجری قرار دے دیا تھا لیکن انہیں جب 'کورونری انڈارٹریکٹومی' کے متعلق بتایا گیا تو مریض نے سرجری کروانے پر آمادگی ظاہر کی جس کے نتیجہ میں آج وہ ایک صحتمند زندگی گذار رہے ہیں۔3

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu