Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
کیرالا میں کانگریس حکومت کا حلف

کیرالا میں کانگریس حکومت کا حلف

سیاست 6 days ago

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحروہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
جنوبی ہند کی ایک اور ریاست کیرالا میں کانگریس نے اپنی حکومت بنالی ہے ۔ تلنگانہ اور کرناٹک کے بعد جنوبی ہند کی پانچ ریاستوںمیں تین میں کانگریس کی اپنی حکومت بن گئی ہے جبکہ ٹاملناڈو میں کانگریس پارٹی حکومت کی حلیف ہے اور حکومت کی تائید کر رہی ہے ۔ آندھرا پردیش واحد ریاست ہے جہاں کانگریس کو کوئی نمائندگی حاصل نہیں ہے اور وہاں بی جے پی نے تلگودیشم اورجنا سینا سے اتحاد کرتے ہوئے حکومت میں جگہ بنائی ہے ۔ کیرالا میں سینئر لیڈر اور سابق قائد اپوزیشن وی ڈی ستیشن کو کانگریس نے چیف منسٹر کی دمہ داری سونپی ہے اور آج چیف منسٹر اور ان کے وزراء نے بھی حلف لے لیا ہے ۔ اس طرح اب کانگریس کو کیرالا میں دس برس کے وقفہ کے بعد اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ ریاست میں کمیونسٹ جماعتوں کی حکومت قائم تھی اور اب ملک کی کوئی ریاست ایسی نہیں رہ گئی جہاں کمیونسٹ برسر اقتدار ہوں۔ کانگریس کیلئے کیرالا کا اقتدار بہت اہمیت کا حامل ہے اور جنوب میں اس کے استحکام کی عکاسی بھی کرتا ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی کیرالا میں خود کو مزید مستحکم کرے اور جنوب کی دیگر ریاستوں میں بھی اپنے تنظیمی ڈھانچہ کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات کرے تاکہ اس کی گرفت اور مستحکم ہوسکے ۔ کیرالا ملک کی سب سے تعلیم یافتہ ریاست کہلاتی ہے اور کیرالا کے عوام فرقہ پرستانہ ایجنڈہ سے کوسوں دور ہیں ۔وہ ترقیاتی اور تعلیمی امور کو اہمیت دیتے ہیں۔ کرپشن کو قبول کرنے تیار نہیں ہوتے اور وہ ریاست کی بہتری اور ترقی کیلئے بہتر سمجھ بوجھ رکھتے ہیں اور اسی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں۔ ریاست میں ایک دہے بعد کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا ہے تو پارٹی کو اس کو مزید مستحکم کرنے اور عوام کی توقعات اور امیدوں کو پورا کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ حکومت اور تنظیم پر بیک وقت گرفت رکھتے ہوئے نظم و نسق کو موثر اور عوام کیلئے سہولت بخش بنانے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جو عوامی تائید اسمبلی انتخابات میں حاصل ہوئی ہے وہی تائید لوک سبھا انتخابات میں بھی پارٹی کو عمومی بنیادوں پر حاصل ہوسکے ۔

یہ درست ہے کہ کیرلا میں بی جے پی کا کوئی سیاسی وجود فی الحال نہیں ہے تاہم بی جے پی کی جانب سے ان تمام ریاستوںپر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جہاں اس کی حالت کمزور ہے اور جہاں اسے کوئی خاص عوامی نمائندگی حاصل نہیں ہے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بی جے پی کیرالا میں بھی اپنی طاقت منوانے اور پارٹی کو مستحکم کرنے اور عوامی تائید حاصل کرنے کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے ۔ لگاتار کوششوں کے باوجود ابھی تک ریاست کے عوام بی جے پی کو تسلیم نہیں کر پائے ہیںاور نہ ہی اسے کوئی سیاسی جگہ حاصل ہوسکی ہے ۔ ایسے میں کانگریس حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنوب کی دوسری ریاستوں کی طرح کیرالا میں بھی بی جے پی کو زیادہ عوامی تائید حاصل کرنے کا موقع فراہم نہ کرے ۔ بی جے پی کے حلقہ اثر کوکیرالا میں بڑھنے کا موقع فراہم نہ کرے ۔ بی جے پی کو جنوبی ہند میں صرف کرناٹک میں اقتدار حاصل ہوا تھا تاہم اب وہ وہاں بھی اقتدار سے دور ہے ۔ ایسے میں کیرالا کو بنیاد بنانے کی بی جے پی کو مہلت نہیں دی جانی چاہئے ۔ ریاست کے عوام نے جن امیدوں اور توقعات کے ساتھ کانگریس کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ان توقعات اور امیدوں کو پورا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جانی چاہئے ۔ جو وعدے عوام سے کئے گئے ہیں ان کی تکمیل کیلئے جامع منصوبہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ موثر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور بہتری کو یقینی بنانے کیلئے پوری سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہئیں ۔
آج کے دور میں باشعور رائے دہندے صرف زبانی جمع خرچ سے خوش ہونے والے نہیں ہیں اور وہ حکومتوں کی سنجیدگی اور ان کے عملی اقدامات کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ کیرالا کے ووٹرس بھی خواندگی میں سب سے آگے ہیں اور با شعور ہیں۔ وہ ترقی کو ترجیح دینے والے لوگ ہیں۔ اسی وجہ سے کانگریس کو ایک ایسا نظم و نسق فراہم کرنا چاہئے جو عوام کی توقعات کو پورا کرسکے ۔ عوام میںاعتماد بحال کیا جائے ۔ ان کی توقعات اور امیدوں کو پورا کیا جائے ۔ کرپشن سے پاک انتظامیہ کی تشکیل عمل میں لائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فرقہ پرست طاقتیں کسی موقع کا استحصال نہ کر پائیں اور نہ اپنی سیاسی جگہ بنا پائیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu