Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
تیل کی پیداوار بڑھانے میں مودی حکومت ناکام:کانگریس

تیل کی پیداوار بڑھانے میں مودی حکومت ناکام:کانگریس

سیاست 5 days ago

وزیراعظم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں، پارٹی کے سینئر رہنما شکتی سنگھ گوہل کی پریس کانفرنس

نئی دہلی، 19 مئی (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت نے تیل کی سپلائی اور تیل کی پیداوار بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں تیل کا بحران بڑھ گیا ہے اور اس کا خمیازہ عام جنتا کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ شکتی سنگھ گوہل نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نے ایندھن کی پیداوار کے تعلق سے عوام سے جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اس پر انہیں عوام کو جواب دینا چاہیے ۔ انہوں نے مودی پر الزام لگایا کہ وہ جو کہتے ہیں، کرتے نہیں ہیں۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں وزیر اعظم نے لوگوں کو بیرون ملک سفر نہ کرنے اور پٹرول و ڈیزل کا استعمال کم کرنے کا مشورہ دیا لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد خود بیرون ملک سفر پر چلے گئے ۔ انہوں نے ملک میں تیل کی پیداوار بڑھانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن ضروری اقدامات نہیں اٹھائے ۔ ڈالر کے مقابلے لگاتار کمزور ہوتے روپے کی قیمت روکنے کی بات کرتے رہے لیکن روپے کی گھٹتی قیمت روکنے میں ناکام رہے ۔ گوہل نے کہا کہ وزیر اعظم بیرون ملک سے اعزازات لے کر خود کو مہان ثابت کرنا چاہتے ہیں، لیکن مہان بننے کے لیے تپسیا کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں مہاتما گاندھی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار ایک خاتون اپنے بیٹے کو لے کر گاندھی جی کے پاس گئی اور اس سے گڑ چھوڑنے کے لیے کہنے کی گزارش کی۔ گاندھی جی نے ایک ہفتے بعد آنے کو کہا اور تب خود گڑ چھوڑنے کے بعد بچے کو ایسا کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی شخص ایسے ہی مہاتما نہیں بن جاتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دوسری طرف مسٹر مودی گجرات میں ریلیاں کر کے لوگوں کو پٹرول و ڈیزل کا استعمال کم کرنے ، بیرون ملک سفر سے بچنے اور بس سے سفر کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن کچھ گھنٹوں بعد ہی خود بیرون ملک دورے پر نکل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے وزیر اعظم کے قول وفعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے ۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ مودی جن جواہر لال نہرو کی تنقید کرتے رہتے ہیں، انہوں نے ہی ملک کو پٹرول، ڈیزل اور گیس کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 1955 میں آئل اینڈ نیچرل گیس ڈائریکٹوریٹ کی شروعات کی گئی اور 14 اگست 1956 کو آئل اینڈ نیچرل گیس کمیشن (او این جی سی) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں گھریلو پٹرول، ڈیزل اور گیس کی پیداوار کا بڑا حصہ او این جی سی سے آتا ہے اور آگے چل کر اسے خود کفیل بنایا گیا۔

مسٹر گوہل نے الزام لگایا کہ مودی حکومت نے ملک کی تین اہم آئل فیلڈز، جہاں سے گھریلو پٹرول، ڈیزل اور گیس کا بڑا حصہ ملتا ہے ، وہاں سائنسی معیار کے مطابق کیے جانے والے واٹر انجیکشن میں بھاری کمی کر دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بامبے ہائی میں 53 فیصد، نیلم میں 42 فیصد اور ہیرا فیلڈ میں 78 فیصد تک پانی کا انجیکشن کم ہوا، جس سے ایک سال میں 3.690 ایم ایم ٹی کا نقصان ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کے کنوؤں کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے کیمیکلی ٹریٹڈ پانی کا انجیکشن کیا جاتا ہے اور اس کے لیے سائنسی مقدار طے ہوتی ہے ۔ یہ پانی سمندر سے لے کر فلٹریشن اور کلورینیشن کے عمل کے بعد استعمال میں لایا جاتا ہے ۔

اس دوران لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی میں کہا، “وزیر اعظم نریندر مودی نے جس طرح سے ملک کی معیشت کا ڈھانچہ بدلا ہے ، وہ آنے والے معاشی بحران کے طوفان میں ٹک نہیں پائے گا۔ اس کا خمیازہ ملک کے نوجوانوں، کسانوں اور چھوٹے تاجروں کو بھگتنا پڑے گا۔ اس کا اثر اڈانی-امبانی اور نریندر مودی پر نہیں پڑے گا، کیونکہ وہ اپنے محلوں میں بیٹھے رہیں گے ۔ یہ جھٹکا بہت برا ہوگا اور آنے والا وقت بے حد کٹھن ہوگا۔ ٹھوس قدم اٹھانے کے بجائے مسٹر مودی ملک کے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی بیرون ملک سفر نہ کرے ، جبکہ وہ خود دنیا بھر کا دورہ کر رہے ہیں۔”

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu