Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ایران کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، میزائل تنصیبات بحال

ایران کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، میزائل تنصیبات بحال

سیاست 5 days ago

نیویارک ۔ 19 مئی (ایجنسیز) نیویارک ٹائمز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے درجنوں میزائل تنصیبات کو دوبارہ فعال کر دیا ہے اور ممکنہ طور پر خطے میں کسی نئے تصادم کی صورت میں استعمال کیلئے مختلف مقامات پر میزائل لانچنگ سسٹمز منتقل کیے ہیں۔امریکی انٹیلیجنس کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کے ساتھ موجود 33 میں سے 30 میزائل مقامات کی آپریشنل صلاحیت دوبارہ بحال کر لی ہے، جس سے خلیج میں امریکی بحریہ اور بحری نقل و حرکت کیلئے خطرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ ایران کے پاس اب بھی موبائل لانچرز کا تقریباً 70 فیصد حصہ موجود ہے، جبکہ اس کا میزائل ذخیرہ بھی تقریباً 70 فیصد تک برقرار ہے ،جو جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب ہے۔ اس ذخیرے میں بیلسٹک اور کروز میزائل دونوں شامل ہیں۔رپورٹس کے مطابق زیرِ زمین موجود میزائل تنصیبات، جنہیں ”میزائل شہر’ ‘کہا جاتا ہے، میں سے تقریباً 90 فیصد اب جزوی طور پر قابلِ استعمال ہو چکی ہیں، اگرچہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں نے انہیں نشانہ بنایا تھا۔انٹیلیجنس حکام کے مطابق ایران نے بعض متاثرہ مقامات کے اندر موبائل لانچنگ سسٹمز استعمال کرتے ہوئے میزائلوں کو مختلف اڈوں کے درمیان منتقل کرنے کی صلاحیت برقرار رکھی ہے، جبکہ کچھ میزائل دوبارہ فعال کی گئی تنصیبات سے براہِ راست بھی فائر کیے گئے ہیں۔ ایران نے حملوں سے پہلے ہی متعدد لانچرز اور میزائلوں کو فکسڈ تنصیبات سے باہر منتقل کر دیا تھا، تاکہ نقصان کم سے کم ہو اور آپریشنل صلاحیت برقرار رکھی جاسکے۔ یہ تازہ جائزے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے پہلے بیانات سے متصادم ہیں، جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی عسکری صلاحیت ''تباہ'' ہو چکی ہے اور وہ کئی برس تک مؤثر کارروائی کے قابل نہیں رہی۔تاہم حالیہ انٹلیجنس رپورٹس کے مطابق ایران نے مختصر مدت میں اپنے میزائل ڈھانچے کا بڑا حصہ بحال کر لیا ہے، جس میں زیرِ زمین سرنگوں اور محفوظ تنصیبات کا استعمال کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے کمانڈر جنرل براد کوپر نے ایران کی باقی ماندہ صلاحیتوں سے متعلق بعض اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ رپورٹس درست نہیں ہیں۔ یہ معلومات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں، جب امریکہ کی جانب سے یہ انتباہات بڑھ رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ موجود نازک جنگ بندی کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے، جبکہ خلیج میں دونوں جانب سے عسکری تیاریوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔صدر ٹرمپ پہلے ہی ایران پر ایک بڑے حملے کو مؤخر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر جاری مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی افواج ''جامع حملے'' کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق پینٹاگون میں بھی ممکنہ فوجی کارروائی کی بحالی کیلئے تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور آبنائے ہرمز کے قریب میزائل نظام کی نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہے۔ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل تنصیبات کی بحالی اس کی تیز رفتاری سے دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے، اگرچہ اسے حالیہ جنگ میں نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اسی وجہ سے خطے میں کشیدگی اور ممکنہ فوجی تصادم کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu