واشنگٹن، 19 مئی (یواین آئی) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی اپیل کے بعد ایران پر حملہ روک دیا گیا ہے اور امید ظاہر کی ہیکہ یہ اعلان بالآخر مستقل ثابت ہوگا۔ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی درخواست کے بعد انہوں نے منگل کیلئے طے شدہ ایران پر فوجی حملہ منسوخ کر دیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ درخواست جاری ''سنجیدہ مذاکرات'' کی وجہ سے کی گئی تھی، جن کے بارے میں مغربی ایشیا کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اس کا نتیجہ ایک ایسے معاہدے کی صورت میں نکل سکتا ہے جو امریکہ کیلئے قابل قبول ہو۔ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ میں نے اسے کچھ وقت کیلئے ملتوی کر دیا ہے – امید ہے شاید ہمیشہ کیلئے ، لیکن ممکن ہے کہ صرف تھوڑے وقت کیلئے – کیونکہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اہم بات چیت ہوئی ہے ۔ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ ہونے ہی والا ہے ۔ ان کے مطابق مغربی ایشیا کے ممالک جنہوں نے ان سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، وہ بھی سمجھتے ہیں کہ یہ معاہدہ بہت جلد طے پا جائے گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور چند دیگر ممالک نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہم اسے دو یا تین دنوں کیلئے ، یعنی مختصر وقت کیلئے ، ملتوی کر سکتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔ گزشتہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں بعض مقامات پر حملے کیے تھے ، جس سے کافی جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔ سات اپریل کو امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، اور ٹرمپ نے ایران کو ایک ''متحدہ تجویز'' تیار کرنے کا وقت دینے کیلئے تنازعہ ختم کرنے کی مدت میں توسیع کر دی۔

