واشنگٹن ۔ 19 مئی (ایجنسیز) امریکی صدر اور انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کے درمیان ایک مصالحتی معاہدے نے قانونی اور سیاسی سطح پر وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔اس معاہدے کے تحت ٹرمپ نے اپنی فیملی کی جانب سے IRS کے خلاف دائر مقدمہ واپس لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس کے بدلے میں تقریباً 1اعشاریہ8 ارب ڈالر کا ایک بڑا معاوضہ فنڈ قائم کیا جائے گا۔یہ فنڈ ان افراد کیلئے ہوگا ،جو خود کو عدالتی نظام کی ”سیاسی مداخلت” کا شکار سمجھتے ہیں۔ معاہدے کے مطابق ایک ”انصاف میں سیاسی مداخلت کے خلاف فنڈ ”قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے محدود نگرانی کے تحت افراد کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔ یہ نظام عام سرکاری قانونی تصفیوں کے طریقہ کار سے ہٹ کر ہوگا۔اس حوالے سے دستاویزات پر قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے دستخط کیے ہیں، جبکہ تفصیلات واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔یہ معاہدہ اس وقت ٹرمپ کی جانب سے اپنے حامیوں اور اتحادیوں کو مبینہ طور پر سابقہ حکومتوں کے دور میں ہونے والی ناانصافیوں کے ازالے کی کوششوں میں ایک بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔اگرچہ اس فنڈ سے ٹرمپ یا ان کے اہلِ خانہ مالی طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے، لیکن ناقدین کے مطابق اس کی ساخت اور طریقہ کار شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔پانچ ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی اس عمل کی نگرانی کرے گی، جنہیں بنیادی طور پر اٹارنی جنرل کی جانب سے تعینات کیا جائے گا، جبکہ ٹرمپ کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی رکن کو تبدیل کر سکیں۔یہ کمیٹی معاوضے کی درخواستوں کا فیصلہ کرے گی اور اپنی سہ ماہی رپورٹس محکمہ انصاف کو پیش کرے گی، تاہم ادائیگیوں کی تفصیلات خفیہ رکھی جائیں گی۔ معاہدے کے مطابق تمام رقوم دسمبر 2028 میں ٹرمپ کی مدتِ صدارت ختم ہونے سے پہلے تقسیم کرنا لازمی ہوگا، اور جو رقم بچ جائے گی وہ دوبارہ حکومت کو واپس کر دی جائے گی۔شدید تنقید اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزاماتقانونی ماہرین اور نگرانی کرنے والے اداروں نے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے مفادات کے ٹکراؤ کی واضح مثال قرار دیا ہے۔ان کے مطابق یہ معاہدہ اس وقت طے پایا جب ایک جانب صدر اور دوسری جانب وہ سرکاری ادارے مذاکرات کر رہے تھے، جو براہِ راست اسی کی انتظامیہ کے ماتحت ہیں۔واشنگٹن میں شہریوں کی اخلاقی ذمہ داری نامی تنظیم کے سربراہ ڈونالڈ شرمین نے کہا کہ یہ امریکہ کی تاریخ کے سب سے زیادہ متنازع اور بدعنوانی سے قریب تر اقدامات میں سے ایک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے مقدمہ ذاتی حیثیت میں دائر کیا تھا، لیکن جن اداروں نے اس پر سمجھوتہ کیا جیسے IRS اور محکمہ خزانہ، وہ درحقیقت اسی انتظامیہ کے تابع ہیں، جو ایک سنگین سوال پیدا کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک قانون سازوں نے عدالت سے اس معاہدے کو روکنے کی اپیل کی، تاہم جج کیتھلین ولیمز نے مقدمہ خارج کر دیا، اگرچہ انہوں نے کیس کے طریق?
کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔سینیٹ میں اقلیتی رہنما چک شومر نے کہا کہ یہ کوئی انصاف نہیں ہے اور کسی بھی صدر کو یہ حق نہیں ہونا چاہیے کہ وہ محکم? انصاف کو اپنے سیاسی اتحادیوں کیلئے انعامی نظام کے طور پر استعمال کرے۔

