واشنگٹن،20 مئی (یو این آئی)امریکی حکومت نے فٹ بال ورلڈ کپ کے پیشِ نظر ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کی فٹ بال ٹیم کو ملک میں داخلے کے لیے خصوصی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ فیصلہ ان سخت سفری پابندیوں کے باوجود کیا گیا ہے جو ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عائد کی گئی ہیں۔واضح رہے کہ امریکہ نے حالیہ مہلک وبا کے پیشِ نظر ان تمام غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے جنہوں نے گزشتہ 21 دنوں کے دوران کانگو، یوگنڈا یا جنوبی سوڈان کا سفر کیا ہو۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہمیں پوری توقع ہے کہ ڈی آر کانگو کی ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچ سکے گی۔اہلکار کے مطابق، کانگو کی ٹیم پہلے ہی یورپ میں تربیتی کیمپ میں موجود ہے ، اس لیے تکنیکی طور پر ان پر 21 روزہ پابندی کا اطلاق شاید نہ ہو۔ لیکن اگر وہ حالیہ دنوں میں کانگو میں رہے بھی ہوں، تو انہیں درج ذیل مراحل سے گزرنا ہوگا۔ان کھلاڑیوں کے ساتھ وہی سخت اسکریننگ اور ٹیسٹنگ کا طریقہ کار اپنایا جائے گا جو وطن واپس آنے والے امریکی شہریوں کے لیے مختص ہے ۔ٹیم کو مخصوص تنہائی اور طبی معائنے کے پروٹوکول سے گزرنا پڑے گا۔حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ خصوصی رعایت صرف کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے ہے ۔ کانگو سے تعلق رکھنے والے عام شائقین، جو اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے امریکہ آنا چاہتے ہیں، ان پر سفری پابندی برقرار رہے گی۔
کارلوس الکراز ومبلڈن سے دستبردار
لندن،20 مئی (یواین آئی ) سابق عالمی نمبر ایک ٹینس کی دنیا کے ابھرتے ہوئے ہسپانوی ستارے کارلوس الکراز نے کلائی کی سنگین تکلیف کے باعث ومبلڈن سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے ۔ یہ خبر ٹینس مداحوں کے لیے کسی بڑے صدمے سے کم نہیں، کیونکہ الکراز اب کلے اور گراس کورٹ کے پورے سیزن میں ایکشن میں نظر نہیں آئیں گے ۔23 سالہ الکراز جو سات گرانڈ سلام خطابات اپنے نام کر چکے ہیں، اپریل میں بارسلونا اوپن کے دوران کلائی کی تکلیف کا شکار ہوئے تھے ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہامیری صحت یابی کا عمل بہتر چل رہا ہے اور میں پہلے سے اچھا محسوس کر رہا ہوں، لیکن بدقسمتی سے میں ابھی مقابلے کے لیے مکمل تیار نہیں ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے کوئنز کلب اور ومبلڈن سمیت گراس کورٹ سیزن سے دستبردار ہونا پڑرہا ہے ۔ الکرازکی غیر موجودگی فرنچ اوپن کے بعد اب ومبلڈن کے وقار اور براڈکاسٹرز کے لیے بھی ایک بڑا نقصان تصورکی جا رہی ہے ۔

