نئی دہلی، 20 مئی (آئی اے این ایس) سابق ہندوستانی آل راؤنڈر سریش رائنا نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی کو افغانستان کے خلاف واحد ٹسٹ میچ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ کپتان شبمن گل کی رائے نے ممکنہ طور پر فاسٹ بولنگ شعبہ کی حتمی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہوگا۔ ہرشیت رانا اور آکاش دیپ مختلف زخموں کے باعث ٹیم سے باہر ہوئے، جبکہ تجربہ کار فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کو آرام دیا گیا۔ اس صورتحال میں عاقب نبی کو پہلی بار ہندوستانی ٹسٹ ٹیم میں شامل کیے جانے کی قوی امید ظاہرکی جارہی تھی، کیونکہ انہوں نے رانجی ٹرافی سیزن میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے جموں و کشمیر کو تاریخی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عاقب نبی نے اس سیزن میں 60 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ تاہم سلیکٹرز نے پنجاب کے قدآور فاسٹ بولرگرنور برارکو بیک اپ پیسر کے طور پر محمد سراج اور پرسدھ کرشنا کے ساتھ اسکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد عاقب نبی، جنہوں نے گزشتہ دو رانجی ٹرافی سیزنز میں مجموعی طور پر 104 وکٹیں حاصل کی ہیں، کو قومی ٹسٹ ٹیم میں موقع کے لیے مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ سریش رائنا نے جیو ہاٹ اسٹار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عاقب نبی کو موقع ملنا چاہیے تھا۔ انہوں نے جموں وکشمیر کو پہلی بار رانجی ٹرافی جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لیکن میرے خیال میں پرسدھ کرشنا اور محمد سراج اس وقت اچھی لائن اور لینتھ کے ساتھ بولنگ کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا ان دونوں کے پاس رفتار موجود ہے جبکہ گرنور برار، جن کا قد 6 فٹ 5 انچ ہے، پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے 18 فرسٹ کلاس میچوں میں 52 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ شبمن گل نے بھی اپنی رائے دی ہوگی کہ انہیں کس نوعیت کے بولرز درکار ہیں۔ گرنور برارکی ٹسٹ اور ونڈے ٹیم میں شمولیت کو ان کی مخصوص صلاحیتوں، خاص طور پر خام رفتار اور سست وکٹوں پر بھی اضافی باؤنس پیدا کرنے کی اہلیت کی بنیاد پر اہم فیصلہ قرار دیا جارہا ہے۔ اگرچہ ان کا فرسٹ کلاس ریکارڈ 18 میچوں میں 52 وکٹوں تک محدود ہے، تاہم گزشتہ برس وہ انڈیا اے ٹیم میں شامل ہوئے تھے اور تین میچوں میں 12 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ کانپور میں آسٹریلیا اے کے خلاف میچ میں انہوں نے چھ وکٹیں لے کر محمد سراج اور پرسدھ کرشنا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ گرنور کے علاوہ بائیں ہاتھ کے اسپنرز مانَو ستھر اور ہرش دوبے کو بھی پہلی بار ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

