خریدی بند کرنے پر فروخت کنندوں کی بنگال جیسی صورتحال، گائے کا تحفظ کرنے مولانا احسن بن محمد عبدالرحمن الحمومی کا بیان
حیدرآباد۔20۔مئی ۔(سیاست نیوز) مسلمان اگر عید الاضحی کے موقع پر بڑے جانور کی قربانی بند کردیں تو ایسی صورت میں بڑے جانورفروخت کرنے والوں کی حالت کیا ہوگی اس کا اندازہ 'بنگال ' کے مویشی بازاروں کو دیکھتے ہوئے لگایا جاسکتا ہے۔تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد کے علاوہ اطراف و اکناف کے مسلمان بھی اگر جاریہ سال عید الاضحی کے موقع پر بڑے جانور کی قربانی نہ کرنے کا اعلان کرتے ہیںتو ایسی صورت میں جانورفروخت کرنے والوں کے کاروبار شدید متاثر ہوں گے اور وہ 'گاؤکشی ' کے نام پر نشانہ بنانے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائیں گے کیونکہ کسان جو اپنے جانور بازاروں میں فروخت کرتے ہیں دراصل عید الاضحی اور عام دنوں میں اس کاروبار سے بھاری فائدہ حاصل کرتے ہیں۔خطیب شاہی مسجد باغ عامہ مولانا حافظ احسن بن محمد عبدالرحمن الحمومی نے اس بڑے جانور کی قربانی کے سلسلہ میں اپنے موقف کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قربانی کے لئے متعدد جانوروں کی قربانی کا اختیار دیا ہے جن میں دنبہ ' بکرا' بھیڑ' بکری کے علاوہ دیگر شامل ہیں اسی طرح بڑے جانور کی قربانی کی بھی گنجائش فراہم کی گئی ہے جن میں گائے ' بھینس' بیل وغیرہ شامل ہیں لیکن اگر ان جانوروں کو ذبح کرنے سے دیگرابنائے وطن کے جذبات مجروح ہورہے ہیں تو ایسی صورت میں ان بڑے جانوروں کی قربانی سے مسلمانوں کو گریز کرنا چاہئے بلکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ 'گائے ' کی قربانی سے روکنے کے لئے قومی سطح پر اقدامات کرتے ہوئے 'گائے ' کو قومی جانور قرار دے تاکہ 'گائے ' کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔مولانا احسن بن عبدالرحمن الحمومی نے بتایا کہ ہندستان میں 'گائے ' کے نام پر جس طرح مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اسے دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو حفظ ماتقدم کے تحت ان قربانیوں سے گریز کرنا چاہئے جو کہ ان کے لئے خطرہ اور معاشرہ میں فسادبرپا کرنے کا باعث بن رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے بازاروں سے جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کے مسلمانوں کوبھی بڑے جانور کی خریدی کے سلسلہ میں ازسرنو غور کرنا چاہئے تاکہ حکومت کو بھی صورتحال کا اندازہ ہوسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کا گوشت یا خون کچھ نہیں پہنچتا لیکن اللہ کی راہ میں دی جانے والی قربانی کی نیت اللہ کے پاس شرف قبولیت رکھتی ہے اسی لئے قربانی کے عمل میں دکھاوے سے اجتناب کرتے ہوئے اللہ کی رضا کی خاطر سنت ابراہیمی پر عمل کے لئے قربانی کا فریضہ ادا کرنے پر توجہ دینی چاہئے ۔خطیب شاہی مسجد باغ عامہ نے ملک کی موجودہ صورتحال میں 'گائے ' کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے فساد اور مسلمانو ںکو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہراساں کرنے کے واقعات کے انسداد کے لئے حکومت کو چاہئے کہ جو طبقات 'گائے' کے ماتا ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ان کے عقائد کا احترام کرتے ہوئے 'گائے ' کی عزت و تکریم میں اضافہ کرنے کے احکامات جاری کرے۔3

