حیدرآباد۔20۔مئی ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر قابو پانے میں پولیس ناکام ہونی لگی ہے!پولیس عہدیداردونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد کے حدود میں پیش آنے والے واقعات پر قابو اور انہیں روکنے کے بجائے مقدمات درج کرتے ہوئے تحقیقات پر توجہ مرکوز کرنے لگے ہیں۔ تلنگانہ میں وزارت داخلہ کا قلمدان چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی کے پاس ہے لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد میں جرائم پر قابو پانے میں پولیس کی ناکامی قومی سطح پر حیدرآباد کی شبیہہ کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ ماہ مئی کے دوران بنڈی بھگیرت کی'پوکسو' معاملہ میں گرفتاری میں کی جانے والی تاخیر کے علاوہ جو رویہ اختیار کیا گیا تھا اس پر قومی سطح پر پولیس اور حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح آئی اے ایس کالونی میں 8 مئی کو سابق آئی پی ایس عہدیدار کی اہلیہ تنوجا رنجن کے قتل ' 3مئی کو کریم نگر میں ہوئی سونے کی دکان میں دن دہاڑے ڈکیتی ' گذشتہ یوم منی کنڈہ کے علاقہ میں خاتون کے ساتھ دن دہاڑے چھیڑ چھاڑ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر گشت کر رہا ہے اور 19-20 مئی کی درمیانی شب عطاپور کے علاقہ میں دواخانہ میں پناہ لینے کی کوشش کرنے والی لڑکی کو اغواء کئے جانے کے واقعہ کے بعد شہریوں میں خوف و ہراس پایا جانے لگا ہے ' رات دیر گئے لڑکی کے اغواء کے علاوہ گذشتہ یوم سکندرآباد میں شوہر کی جانب سے بیوی کا قتل کے واقعہ نے سنسنی پیدا کردی ہے۔ شہر حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال بہار اور اترپردیش سے ابتر ہونے لگی ہے کیونکہ اس طرح کے واقعات ان ریاستوں اور شہروں میں رپورٹ ہوا کرتے تھے جہاں پولیس مستعدی کا مظاہرہ نہیں کرتی تھی اسی لئے ان علاقوں میں 'جنگل راج' قرار دیا جاتا تھا لیکن اب شہر حیدرآباد کے نواحی علاقوں میں اغواء' قتل ' لوٹ مار' خواتین سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات کے علاوہ پیش آنے والے جرائم پر شہری تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ شہر حیدرآباد میں امن و امان کی صورتحال سے اب خوف ہونے لگا ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآبادوسکندرآباد کی سڑکو ںکو محفوظ بنانے اور خواتین میں احساس تحفظ پیدا کرنے کے لئے محکمہ پولیس کی جانب سے 'شی ٹیم' کے قیام کے ذریعہ خواتین کے اعتماد میں اضافہ کیا گیا تھا لیکن حالیہ عرصہ میں جس طرح کے واقعات پیش آنے لگے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ پولیس انتظامیہ نے جرائم کو روکنے کے معاملہ میں سخت اقدامات بند کردیئے ہیں جس کے نتیجہ میں شہر کے علاوہ ریاست کے اضلاع میں جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے۔ 3 کریم نگر میں جویلری کی دکان پر کی جانے والی ڈکیتی اور پرشاسن نگر آئی اے ایس کالونی میں ریٹائرڈ آئی پی ایس ونئے رنجن رائے کی اہلیہ تنوجا رنجن کے قتل کی منصوبہ بندی ملک کے کسی اور مقام پر کی گئی اور ملک کے کسی اور شہر میں رہتے ہوئے مجرم شہر حیدرآباد یا ریاست تلنگانہ کا انتخاب کررہے ہیں تو اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد ''تلنگانہ '' اور حیدرآباد کو اپنی سرگرمیوں کے لئے کس قدر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔3

