Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
لوک سبھا کی از سر نو حد بندی انتہائی حساس موضوع : شہاب الدین یعقوب قریشی

لوک سبھا کی از سر نو حد بندی انتہائی حساس موضوع : شہاب الدین یعقوب قریشی

سیاست 4 days ago

آبادی کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم پر سیاسی طاقت میں تبدیلی ممکن ، سابق الیکشن کمشنر کا خطابحیدرآباد۔20مئی(سیاست نیوز) سابق الیکشن کمشنرشہاب الدین یعقوب قریشی ( ایس وائی قریشی ) نے لوک سبھا حلقوں کی ازسر نو حدبندی کو انتہائی حساس موضوع قراردیتے ہوئے کہاکہ لوک سبھا حلقوں کی ازسر نو حدی بندی آئینی وکلا' ریٹائرڈ بیورو کریٹس اور انتخابی عہدیداروں او راہل کاروں کے لئے کسی وقت میں کانفرنس حال میںبیٹھ کر موضوع پر بات کرنا جیسا معاملہ تھا مگر اچانک یہ دھماکہ خیز ثابت ہوا ' جس پر قانون ساز اسمبلیوں ' ٹیلی ویثرن چیانلوں 'تعلیمی سمیناروںاور تیز ی کے ساتھ پورے جنوبی ہندوستان میںعام بحث کا ایک موضوع بن گیاہے۔لوک سبھا حلقوں کی از سر نو بندی کا ایک موضوع ہے جس پر قومی توجہ ضروری ہے کیونکہ جنوبی ریاستوں کو اس بات کاخدشہ ہے کہ وہ ریاستیں جنھوں نے ابتدائی طور پر تعلیم ' صحت کی دیکھ بھال او رآبادی کے استحکام میں سرمایہ کاری کی تھی ' اب انہیںخدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنے اثر ورسوخ سے محروم ہوسکتی ہیں۔ لوک سبھا حلقوں کی از سرنو حد بندی محض ایک تکنیکی مشق نہیںہے بلکہ ملک اور انڈین یونین کے مستقبل کے توازن کے متعلق ہے۔ سندریا وگیان ٹرسٹ کے زیر اہتمام سندریاوگیان کیندرم باغ لنگم پلی میں 41ویں پچھلا پلی سندریا میموریل لکچر بعنوان ''حد بندی اور انڈین یونین کا مستقبل ''سے خطاب کرتے ہوئے ایس وائی قریشی نے مزید کہاکہ لوک سبھا حلقوں کی حد بندی شمال بمقابلہ جنوب نہیں بننا چاہئے ' کیونکہ ہر بڑی فیڈریشن کو آبادی اور نمائندگی کے درمیان تنائو کاسامنا ہے۔ ایس وائی قریشی نے 1971کی مردم شماری پرمبنی پارلیمانی نقشے کو ایک باشعور سیاسی اور اخلاقی فیصلہ قراردیتے ہوئے کہاکہ بین ریاستی لوک سبھا سیٹوں کی تقسیم کو موثر طریقے سے 1976سے روک دیاگیاتھا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ یہ کوئی اتفاق نہیںتھا بلکہ باشعور سیاست او راخلاقی فیصلے کے طور پریہ اقدام اٹھایاگیاتھا۔ قریشی نے کہاکہ اگلی مردم شماری اب 2027میںہے جو آزادی کے بعد سے یہ پہلا موقع ہوگا جو دوبارہ تقسیم کے عمل کو متحرک کریگا۔لوک سبھا حلقوں کی حد بندی کے انجماد کو 2001میں پھر ایک مرتبہ توسیع دی گئی تھی 'پھر آئین کی 84ویں ترمیم کے ذریعہ سال2026تک اس کو منجمد کردیاگیاتھا۔مذکورہ جمود کے آغاز پر ملک کی آبادی 548ملین تھی مگر آج یہ 1.5بلین تک پہنچ گئی ہے۔ آبادی کے تناسب سے حلقوں کی از سر نو حدبندی کو انتہائی تشویش ناک قراردیتے ہوئے ایس وائی قریشی نے کہاکہ اگر مان لیں اترپردیش کے ایک ضلع میں20لاکھ ووٹرس ہیںجبکہ کیرالا کے ایک حلقہ میںاس کے نصف رائے دہندے ہیںپھر بھی دونوں بالترتیب ایک 'ایک رکن پارلیمنٹ کا انتخاب کرتے ہیںپھر اگر آبادی کے تناسب سے حلقہ بندی کی گئی تو اترپردیش کے مذکورہ ضلع میںبے تحاشہ اضافہ ہوگا جبکہ کیرالا کے اسی ضلع میںاضافہ تو ہوگا مگر شمالی ہندوستان کی ریاست کے مقابلے میںاُس قدر اضافہ نہیں ہوگا جتنا اترپردیش کے ایک حلقہ آبادی کے تناسب سے ہوا ہے۔سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے مزید کہاکہ آئین سازوں کو معلوم تھا کہ ہندوستان کی جمہوریت محض تعداد پر منحصر نہیںہے۔ بلکہ ایک غیرمعمولی تنوع کااتحاد ہے اورصرف عددی اکثریت جمہوریت کاواحدتنظیمی اصول نہیں بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس حکمت کو دوبارہ ایسے وقت میںآزمایاجارہا ہے جس کو آزادی کے بعد سے اب تک کا مشکل وقت سمجھاجاتا ہے۔ایس وائی قریشی نے حد بندی کو لے کر جنوبی ہند میںپائی جانے والی تشویش کو حقیقی ' معقول اور آئینی قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ آبادی کو مستحکم کرنے کی پالیسیوں پر تلنگانہ ' تمل ناڈو ' کرناٹک ' آندھرا پردیش نے سنجیدگی کے ساتھ بروقت نافذ کیاہے۔ انڈین یونین نے جس پر عمل کرنے کی تلقین اُس پر جنوبی ہند کی تمام ریاستوں نے عمل کیا۔ جنوبی ریاستوں میں خواتین کی تعلیم میںنمایاں بہتری لائی ' عوامی صحت کے نظام کو بھی مضبوط کیا۔متبادل سطح پر 2.1کے مقابلے تامل ناڈو میںکل شرح افزائش نسل تقریبا1.8ہے جبکہ اترپردیش نمایاں بہتری کے باوجود 2.7پر ہے۔ انہو ںنے کہاکہ پچھلے پچاس برسوںکے مختلف آبادیاتی فیصلوں سے پیدا ہونے والا یہ فرق اب بہت بڑھ چکا ہے۔ اگر پارلیمانی نشستیں صرف آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہوتی ہیںتو یہ فرق براہ راست سیاسی طاقت میںتبدیل ہوجائیگا۔ ایس وائی قریشی نے کہاکہ بریانی اور ٹکنالوجی نہ صرف حیدرآبا د بلکہ جنوبی ہندوستان کی پہچان ہے۔ٹرسٹی سندریاوگیان کیندرم بی وی راگھو کی قیادت میںمنعقدہ اس میموریل لکچر میںونئے کمار بھی موجود تھے ۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu