خریدی اور عازمین پر استعمال کے لزوم پر شکوک و شبہات ، ہزاروں روپئے اکارت ثابتحیدرآباد۔20۔مئی ۔ (سیاست نیوز) حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے عازمین حج کو دی جانے والی 'اسمارٹ واچ' کی خریدی اور عازمین کے لئے اس کے استعمال کے لزوم نے جہاں کئی شکوک وشبہات پیدا کئے ہیں وہیں اس 'اسمارٹ واچ ' کی خریدی کے معاملہ میں حج کمیٹی آف انڈیا پر کئی بدعنوانیوں کے الزامات بھی عائد ہونے لگے ہیں ۔ تکنیکی مہارت رکھنے والوں کا کہناہے کہ عازمین حج کو دی جانے والی اسمارٹ واچ میں کئی طرح کی خامیاں موجود ہیں جن میں بیاٹری جلد ختم ہونے کی شکایت عام ہے لیکن اس کے علاوہ جن مقاصد کے لئے یہ 'اسمارٹ واچ ' عازمین حج کو دی گئی ہے وہ بھی پورے نہیں ہوپارہے ہیں۔عازمین کو دی گئی 'اسمارٹ واچ' میں جو طبی امراض کی نشاندہی وغیرہ کے دعوے کئے گئے ہیں ان سے متعلق جن اداروں کی سند 'اسمارٹ واچ ' سربراہ کرنے والی کمپنی کے پاس ہونی چاہئے اس کے متعلق بھی شبہات پائے جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بلڈ پریشر' دل کی دھڑکن ' قدموں کی گنتی کے علاوہ دیگر طبی سہولتوں پر نظر رکھنے کے دعوے کے ساتھ فراہم کی جانے والی اس 'اسمارٹ واچ' میں ان سہولیات کے درست ہونے کی توثیق کرنے والے اسناد کس ادارہ سے حاصل کئے گئے ہیں اس کی تفصیلات بھی حج کمیٹی آف انڈیا کے علاوہ مرکزی وزار ت اقلیتی امور کو منظر عام پر لانی چاہئے۔ 'اسمارٹ واچ' کے استعمال کے لزوم اور اس 'اسمارٹ واچ ' کے توسط سے گھڑی جس مقام پر ہو ان مقامات کی تصویر اور آس پاس کی آواز ایپ کے ذریعہ سننے کی صلاحیت ہونے کے انکشاف کے باوجود حج کمیٹی کی جانب سے کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی توثیق یا تردید کی جا رہی ہے ۔ حج کمیٹی آف انڈیا کے ذرائع کا کہناہے کہ 'اسمارٹ واچ' کی خریداری میں ہونے والی دھاندلی کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہئے کیونکہ 'روزنامہ سیاست ' کی جانب سے انکشاف کے بعد حج کمیٹی آف انڈیا کے ذمہ داروں نے جب 'اسمارٹ واچ' کی خریدی کی ان معاملتوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ جو 'گھڑی' ہندستانی عازمین کو دی گئی ہے وہ 'چینی ساختہ' ہے اور ہندستانی کمپنی نے اس گھڑی کو حاصل کرتے ہوئے اپنے نام سے حج کمیٹی کو فروخت کیا ہے۔ تکنیکی ماہرین کا کہناہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا نے انتہائی معمولی قیمت پر حاصل ہونے والی گھڑی کے لئے ہزاروں روپئے ادا کئے ہیں اور کروڑہا روپئے کے اس اسکام میں کمیٹی اور وزارت کے ذمہ داروں نے عازمین حج کی رازداری کا بھی خیال نہیں رکھا ۔ ماہرین کا کہناہے کہ سرکردہ کمپنیوں کی گھڑیوں اور معمولی کمپنیوں کی گھڑیوں کی قیمتوں میں پائے جانے والے فرق کی بنیادی وجہ ان کے گھڑیوں کے معیار اور ان کی تیاری میں حاصل کی جانے والی اسناد ہوتی ہیں جو کہ غیر مستند اداروں سے حاصل کرتے ہوئے فروخت کی جاتی ہے لیکن یہ گھڑیاں بالکل 'اسمارٹ واچ ' کی طرح کام کرتی نظر آتی ہیں درحقیقت ان کا کوئی معیار نہیں ہوتا۔ بتایا جاتاہے کہ سرکردہ کمپنیاں جو 'اسمارٹ واچ ' بناتی ہیں ان کمپنیوں کی گھڑیوں کی قیمتیں ہزاروں بلکہ بعض کی قیمتیں لاکھوں میں ہیں لیکن ان کے پاس بھی 'درست ' بلڈ پریشر کی جانچ کی سہولت نہیں ہے لیکن چند سو روپئے میں حاصل ہونے والی اس 'اسمارٹ واچ' کو جسے حج کمیٹی آف انڈیا نے ہزاروں روپئے میں حاصل کیا ہے اس میں دعویٰ کیا جا رہاہے کہ یہ گھڑی جس کی کلائی پر موجود ہواس کے بلڈ پریشر پر مسلسل نگاہ رکھی جاسکتی ہے اور اگر بلڈ پریشر میں کمی یا زیادتی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں یہ گھڑی متنبہ کرنے کی اہل ہے۔ ہندستان سے روانہ ہونے والے 1لاکھ 20 ہزار عازمین حج جو سعودی عرب روانہ ہوئے ہیں ان کے لئے اس 'اسمارٹ واچ' کا استعمال لازمی قرار دیا جا رہاہے اور منیٰ میں داخلہ کے لئے 'گھڑی' کو اپڈیٹ کرنے کے لئے مجبور کیا جا رہاہے۔3/m/b

