قومیائے ہوئے بینکوں کو حکومت کی اسکیمات میں ترجیح ، تین خانگی بینکس بھی تجارت کی دوڑ میںحیدرآباد ۔20۔ مئی (سیاست نیوز) بینکنگ خدمات زندگی کے ہر شعبہ کی ضرورت بن چکے ہیں۔ سرکاری اسکیمات سے استفادہ ہو یا پھر تجارتی سرگرمیاں بینکوں کے بغیر مذکورہ مراحل کی تکمیل نہیں کی جاسکتی ۔ ملک میں خانگی شعبہ کے بینکوں کی جانب سے کسٹمرس کو نئی اسکیمات اور ترغیبات کے باوجود عوامی شعبہ کے ادارہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو بینکنگ خدمات میں عوام کی اولین ترجیح قرار دیا گیا ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی اور مالیاتی استحکام میں بینکوں کا اہم رول ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے نہ صرف شہری بلکہ دیہی علاقوں میں اپنی خدمات کو توسیع دی ہے۔ جاریہ سال ملک کے ٹاپ بینکوں کی کارکردگی سے متعلق سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کا کاروبار 21817 کروڑ سے تجاوز کرچکا ہے۔ خانگی شعبہ کے بینکوں میں ایچ ڈی ایف سی اور آئی سی آئی سی آئی کو 19807 اور 12538 کروڑ کے ذریعہ دوسرا اور تیسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ ہندوستان میں Axis بینک نے 7011 کروڑ کاروبار کے ذریعہ چوتھا مقام بنایا جبکہ پنجاب نیشنل بینک 5556 کروڑ کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔ حکومتوں کی فلاحی اسکیمات کو بینک اکاؤنٹ سے مربوط کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں قومیائے ہوئے بینکوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین ، پنشنرس اور روایتی طرز کے بینکنگ سے استفادہ کرنے والے افراد قومیائے ہوئے بینکوں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے وابستہ پروفیشنلس اور اہم تجارتی ادارے خانگی بینکوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایچ ڈی ایف سی ، آئی سی آئی آئی اور ایکسیز بینک نے تیزی سے اپنی خدمات کو توسیع دی ہے۔1/k/m/b

