محشر میں خلق اپنی مصیبت میں مبتلایاں یہ تلاش آئے کوئی خوب رُو پسند
گذشتہ تقریبا 12 برس سے بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت مرکز میں برسر اقتدار ہے اور کسی طرح کی عوامی ناراضگی اور مخالفت کا سامنا کرنا نہیں پڑا ہے ۔ حالانکہ یہ این ڈی اے حکومت ہے لیکن بی جے پی اور اس کے چاپلوس اسے مودی حکومت قرار دیتے ہیں ۔ یہ ایک طرح سے عوامی ناراضگی اور مخالفت کو ٹالنے کی کوشش کہی جاسکتی ہے کیونکہ ملک میں مودی کی جس طرح سے تشہیر کی جاتی ہے اور جس طرح سے انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اس سے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ مودی کو کبھی بھی ہندوستان میں عوام کی ناراضگی کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا ۔ حکومت کی تیسری معیاد تک شائد یہ بات درست بھی رہی ہو لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ خاموشی کے ساتھ حالات بتدریج بدلنے لگے ہیں۔ حالانکہ اسمبلی انتخابات میں حالانکہ بی جے پی نے آسام میں اپنا اقتدار برقرار رکھا ہے اور اس نے مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کو بیدخل کرتے ہوئے پہلی بار اپنا اقتدار بھی بنالیا ہے ۔ ان کامیابیوں کو بھی جس طرح سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ سب پر عیاںہے تاہم ان کامیابیوں کے باوجود جب گھریلو بجٹ توقع سے زیادہ متاثر ہونے لگا ہے تو بتدریج عوام کے ذہنوںمیں کئی سوال پیدا ہونے لگے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں شدید ناراضگی اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے ۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی شائد اس عوامی ناراضگی اور اختلاف رائے کی وجہ بن رہی ہے اور حکومت کیلئے یا اس کے چاپلوس اور تلوے چاٹنے والے میڈیا کیلئے اس بے چینی اور ناراضگی کو قابو میںکرنا آسان دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ حالانکہ گودی میڈیا کی جانب سے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اس مہنگائی کو درست قرار دیا جائے ۔ عوام کی جیبوں پر ڈالے جانے والے ڈاکے کو حب الوطنی یا قوم پرستی سے جوڑا جائے سوال کرنے والوں کو غدار قرار دیا جائے تاہم یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں رہ گیا ہے جتنا گذشتہ بارہ برسوں میں محسوس ہوا تھا ۔ عوام اب سوالات کو جھٹکنے کو تیار نہیں ہیں کیونکہ اب راست ان کے چولہے متاثر ہونے لگے ہیں۔ ان کا گھریلو بجٹ پوری طرح سے درہم برہم ہونے لگا ہے ۔
گیس کی قلت ' پٹرول و ڈیزل کے حصول میںمشکلات ' چار دن میں دو مرتبہ قیمتوں میں اضافہ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ نے عوام کے ذہنوں پر تنی ہوئی بے ہوشی کی چادر کو نکال پھینک دیا ہے ۔ یقینی طور پر کچھ لوگ اب بھی خواب غفلت کا شکار ہیں لیکن عوام حکومت کے تئیں شدید ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ عوامی رائے کو حالانکہ اس طرح سے میڈیا میں پیش نہیں کیا جا رہا ہے جس طرح سے پیش کیا جانا چاہئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ عوام کے ذہنوں میں ناراضگی پیدا ہوچکی ہے اور یہ ناراضگی انتخابات کی جیت یا ہار کے تابع دکھائی نہیں دیتی ۔ ملک کی معیشت جس سمت میں جا رہی ہے اس پر کئی گوشوںسے اندیشوں کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ یہ دعوے کئے جا رہے ہیں کہ عوام کو آئندہ دنوں میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ان کیلئے گھریلو روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کا حصول بھی آسان نہیں رہ جائے گا ۔ دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے ۔ ادویات بھی عام آدمی کی پہونچ سے باہر ہونے لگی ہیں۔ تیل کا حصول تو ایک بڑا کارنامہ انجام دینے جیسا ہوگیا ہے ۔ تیل کی قیمتوں میں بھی بھاری اضافہ ہوگیا ہے اور حکومت اب کھانے میں تیل بھی کم استعمال کرنے کی صلاح دینے لگی ہے ۔ یہ صورتحال عوام میں شدید ذہنی بے چینی پیدا کرنے کی وجہ بن رہی ہے اور عوام اب حکومت سے سوال کرنا چاہتے ہیں۔ جو پروپگنڈہ اور تشہیر گودی میڈیا کی جانب سے کی جا رہی ہے اس کو قبول کرنے عوام تیار نہیں ہیں۔
حکومت سے ناراضگی ایک مسلمہ حقیقت بن رہی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس صورتحال کا احساس کرے ۔ اسے سمجھے ۔ اس صورتحال کو دور کرنے اور عوام کی بے چینی کا خاتمہ کرنے کیلئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرے ۔ عوام کے گھریلو بجٹ پر جو منفی اثرات ہوئے ہیں ان کو دور کرنے پر توجہ دی جائے ۔ عوام کی جیبوں پر مسلسل بوجھ عائد کرنے سے گریز کیا جائے ۔ عوام کو راحت پہونچائی جائے ۔ مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں ۔ عوام کی بے چینی اور ناراضگی کو دور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور مزید مالی بوجھ اگر عائد کیا جاتا ہے تو عوام اسے برداشت کرنے کے موقف میں نہیں رہیں گے ۔

