Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
عوامی مقامات پر جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی ' استثنی کیلئے حکومت فیصلہ کرے

عوامی مقامات پر جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی ' استثنی کیلئے حکومت فیصلہ کرے

سیاست 2 hrs ago

کلکتہ ہائیکورٹ کا فیصلہ ۔ گائے کی قربانی عیدالاضحی کا حصہ نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ

کولکاتہ 21 مئی ( ایجنسیز ) کلکتہ ہائیکورٹ نے عوامی مقامات پر مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی سے متعلق ریاستی حکومت کے احکام کو برقرار رکھا ہے تاہم حکومت سے کہا ہے کہ وہ مغربی بنگال ذبیحہ مویشیاں قانون 1950 کے تحت عیدالاضحی کے موقع پر استثنی کیلئے اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرے ۔ چیف جسٹس سجوئے پال کی قیادت والی ایک بنچ نے کہا کہ چونکہ عیدالاضحی 28 مئی کو ہونے والی ہے اس لئے ریاستی حکومت کو اس مسئلہ پر آئندہ 24 گھنٹوں میں فیصلہ کرنا چاہئے ۔ بنچن ے عوامی مقامات پر گائے اور بیل کے ذبیحہ پر مکمل امتناع کے حکومت کے احکام کو برقرار رکھا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ گائے کی قربانی کسی بھی مذہبی تہوار کا حصہ نہیں ہے اور عوامی مقامات پر جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی عائد ہے ۔ واضخ رہے کہ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا اور کچھ دوسروں نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے عوامی مقامات پر مویشیوں کے ذبیحہ پر پابندی کے اعلامیہ کو چیلنج کیا تھا ۔ بنچ نے کہا کہ عوامی اور کھلے مقامات پر جانوروں بشمول گائے اور بیل کے ذبیحہ پر مکمل پابندی ہے ۔ اس کے علاوہ گائے کا ذبیحہ عیدالاضحی کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ اسلام میں کوئی مذہبی ضرورت ہے جیسا کہ سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں واضح کیا ہے ۔ بنچ نے کہا کہ درخواست گذاروں نے عیدالاضحی کے موقع پرج و استثنی دینے کی استدعا کی ہے اس پر ریاستی حکومت کو اندرون 24 گھنٹے فیصلہ کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ بنگال کی سوویندو ادھیکاری حکومت نے 13 مئی کو ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے ذبیحہ کے تعلق سے کچھ رہنما خطوط جاری کئے تھے اور حکام سے فٹ سرٹیفیکٹ کو لازمی قرار دیا تھا ۔ کہا گیا تھا کہ اگر ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی ۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu