کوئی جانی نقصان نہیں ،شارٹ سرکٹ حادثہ کی وجہ ، تحقیقات جاریحیدرآباد ۔ 21 مئی (سیاست نیوز) پرانے شہر میں مشہور یونس ہاوزری شاپ میں جمعرات کی دن صبح آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد مصروف ترین پتھرگٹی تجارتی علاقہ میں سنسنی پھیل گئی۔ تفصیلات کے مطابق فائر کنٹرول روم کو 9:15 بجے ایک فون کال موصول ہوا جس میں بتایا گیا کہ ایس وائی جے کامپلکس پتھرگٹی کی پہلی منزل میں بھاری مقدار میں دھواں نکل رہا ہے۔ اس اطلاع پر تلنگانہ ہائیکورٹ کے فائراسٹیشن سے وابستہ فائر انجن فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گیا لیکن کچھ ہی دیر میں پہلی منزل پر واقع یونس ہاوزری شاپ جہاں پر بچوں کے کپڑے (کڈس ویر) کا کاروبار کیا جاتا ہے، میں بھیانک آگ لگ گئی۔ اس آگ پر قابو پانے کیلئے شہر کے مختلف فائر اسٹیشن بشمول یاقوت پورہ، مغلپورہ، گولی گوڑہ، سالارجنگ میوزیم سے 8 فائرانجنوں کو جائے حادثہ پر طلب کرلیا گیا اور اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ فائر آفیسر بھانو پرساد کی نگرانی میں اندرون دو گھنٹے آگ پر قابو پالیا گیا۔ آگ اتنی شدت کی تھی کہ یونس ہاوزری سے متصل دیگر ملبوسات کے دکانات میں بھی آگ پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا لیکن فائر انجنوں نے مسلسل اپنی کوششوں کے بعد اس بھیانک آگ کو اسی دکان تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔ اطلاع ملنے پر ڈپٹی کمشنر پولیس چارمینار زون کرن کھارے پربھاکر چارمینار پولیس کی ٹیم کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے اور راحت کاری کاموں کی نگرانی کی۔ اس حادثہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ صبح کے وقت دکانات بند تھے اور وہاں کوئی چہل پہل نہیں تھی۔ پولیس چارمینار نے اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ پتھرگٹی تا چارمینار، گلزار حوض جانے والی صبح کی ٹریفک اس حادثہ کے نتیجہ میں متاثر رہی۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہیکہ یونس ہاوزری ملبوسات کے شاپ میں شارٹ سرکٹ کے نتیجہ میں آگ لگی ہوگی اور اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ جائے حادثہ پر کلوز ٹیم نے بھی معائنہ کیا تاکہ آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے۔ اس سلسلہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یونس ہاوزری کے مالک محمد فیصل یونس نے بتایا کہ چہارشنبہ کو محکمہ برقی کے عہدیداران نے ان دکانوں کی برقی مسدود کردی تھی جنہوں نے برقی کا بل ادا نہیں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ ایس وائی جے کامپلکس کی پہلی منزل کے الیکٹریکل پینل بورڈ جو یونس ہاوزری شاپ سے قریب ہے، سے شروع ہوئی جبکہ عیدالاضحی اور اسکولوں کی عنقریب بازیابی کے سلسلہ میں انہوں نے بچوں کے بھاری مقدار میں کپڑے رکھے تھے جو جلکر خاکستر ہوگئے۔ ایس وائی جے کامپلکس میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور کنارا بینک بھی موجود ہے۔/y/aب

