ممبئی ، 21 مئی (ایجنسیز) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے لون ریکوری (قرض کی بازیابی) کے بارے میں اپنے دوسرے مسودہ رہنمایانہ خطوط میں کہا ہے کہ اگر قرض دار رقم کی واپسی میں ناکام ہوجائے تو بینکوں کو قرض پر خریدے گئے فونس اور دیگر الیکٹرانک آلات کو غیرفعال بنا دینے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ تاہم، آر بی آئی نے وضاحت کی ہے کہ بینکس پرسنل، کار یا ہوم لونس کی بازیابی کیلئے خاطی قرض داروں کے موبائل فونس کو محدود نہیں کرسکتے ہیں۔ مجوزہ قواعد کے مطابق اگر بقایاجات زائد از 90 دن سے وصول طلب ہوں اور ریکوری نوٹسیں وقت پر جاری کی گئی ہوں تو بینکس قرض پر خریدے گئے آلات کو محدود کرسکتے ہیں۔ نیز اس طرح کی کارروائی صرف اسی صورت میں کی جاسکے گی جب لون کنٹراکٹ میں اس طرح کے اقدام کی اجازت واضح صراحت کے ساتھ موجود ہو۔ مخصوص فونس یا آلات کو محدود کرنے کیلئے کوئی ٹکنالوجی پر مبنی میکانزم کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ تاہم، بینک ضروری سہولیات جیسے انٹرنٹ تک رسائی، آنے والے کالز، ایمرجنسی ایس او ایس کی گنجائش اور ہنگامی سرکاری اطلاعات کی وصولی کو نہیں روک سکتے ہیں۔ نیز قرض دار کی جانب سے قرض کی ادائی کے اندرون ایک گھنٹہ تحدیدات کو برخاست کردینا ہوگا۔ مجوزہ مسودہ بھی ریکوری پرسونل کیلئے ضروری قواعد کی بھی صراحت کی گئی ہے۔ رہنمایانہ خطوط میں کہا گیا ہے کہ ریکوری کالز اور اس کیلئے ملاقاتوں کی صرف صبح 8 بجے اور شام 7 بجے کے درمیان اجازت رہے گی۔ ریکوری ایجنٹس کو پابند کیا جائے گا کہ وہ دھمکی نہ دیں، گندی زبان کا استعمال نہ کریں، سرعام ہتک، سوشل میڈیا پر شرمندہ کرنے یا حد سے زیادہ فون کال کرنے سے گریز کریں۔ آر بی آئی مجوزہ رہنمایانہ خطوط کے بارے میں عوام کا ردعمل 31 مئی تک قبول کرے گا اور پھر نئے قواعد پر یکم ؍ اکٹوبر 2026ء سے عمل آوری کی تجویز ہے۔

