سب کہاں کچھ کہ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی جو پنہاں ہوگئیں
چیف جسٹس آف انڈیا کے ایک تبصرے کے بعد وجود میں آنے والے آن لائین پلیٹ فارم کاکروچ جنتا پارٹی نے ایک طرح کا تہلکہ مچادیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اور خاص طور پر نوجوان اس پلیٹ فارم کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ چار تا چھ دن میں اس پلیٹ فارم سے جڑنے والوں کی تعداد ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں بی جے پی اور کانگریس سے بھی آگے بڑھ گئی ہے اور اسے نوجوانوں کا پلیٹ فارم قرار دیا جا رہا ہے جہاںنوجوان اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ملک کے حالات پر ناقدانہ تبصرے کئے جا رہے ہیں اور اس پلیٹ فارم کے نتیجہ میںایسا تاثر عام ہو رہا ہے کہ سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ رہی ہے ۔ حالانکہ سیاسی جماعتیں اور قائدین اس پر ابھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور کوئی اس تعلق سے بیان بازی نہیں کر رہا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس پلیٹ فارم سے سیاسی قائدین کی نیندیں ضرور اڑنے لگی ہیں۔ ملک کے سسٹم میں پائی جانے والی خامیوںاور مسائل پر نوجوانوں نے ایک طرح سے اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کا آغاز کیا ہے اور اسی سے سیاسی حلقوں میں ہلچل کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ جس طرح سے لوگ اس پلیٹ فارم سے جڑ رہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں میںکس قدر ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ ان کے ذہنوں میں بے شمار سوالات ہیں اور ان کے جواب انہیں نہیںمل پا رہے ہیں۔ نوجوانوں میں کئی مسائل پر غم و غصہ ہے جس کے اظہار کیلئے یہ پلیٹ فارم موثر ثابت ہو رہا ہے ۔ اب تک کروڑوں لوگ اس پلیٹ فارم سے خود کو جوڑچکے ہیں اور مزید جوڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک کے سیاسی نظام اور حالات سے نوجوانوں میں کس حد تک ناراضگی پیدا ہوگئی تھی اور اب اس کا اظہار ہو رہا ہے ۔ وہ حالات کو بدلنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک میں سب کچھ ٹھیک رہے ۔ امتحانی پرچوںکا افشاء نہ ہونے پائے ۔ نوجوانوںکو روزگار اور ملازمتوں کے مواقع دستیاب ہوجائیں۔ کرپشن اور بدعنوانیوں کا سلسلہ تھم جائے ۔ سیاسی انحراف کا سلسلہ رک جائے ۔ سب کچھ ویسا ہوجائے جیسے ہندوستان کا ہم نے خواب دیکھا تھا ۔
سیاسی جماعتیں بھلے ہی کھل کر اس پلیٹ فارم کی تائید نہیں کر رہی ہوں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس تعلق سے اب دبی دبی آوازیں ضرور اٹھنے لگی ہیں۔ کانگریس پر تنقیدثوں کے ذریعہ بی جے پی کی آنکھ کا تارا بننے والے کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھی اس پلیٹ فارم کی حمایت کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں ناراضگی اور جذبات کے اظہار کے پلیٹ فارم ہونے چاہئیں اور کاکروچ جنتا پارٹی یہ پلیٹ فارم ضرور فراہم کرتی ہے ۔ ششی تھرور کا کہنا تھا کہ اس پارٹی کا ایکس اکاؤنٹ بند نہیں کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ یہ جذبات کے اظہار کا ایک پلیٹ فارم ہے ۔ انہوں نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ اپوزیشن کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترنے بھی اس پلیٹ فارم کی حمایت کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان اپنے جذبات کے اظہار کیلئے اس پلیٹ فارم کا سہارا لے رہے ہیں اور جمہوریت میںایسی گنجائش ہونی چاہئے ۔ اسی طرح اداکارہ سوناکشی سنہا اور ادکار وجئے ورما نے بھی اس پلیٹ فارم کی تائید و حمایت کی ہے ۔ انہوں نے سوشیل میڈیا پر پوسٹس کرتے ہوئے کھل کرا ظہار خیال کیا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے استحکام اور حالات کی بہتری کیلئے فکر رکھنے والے لوگ اس پلیٹ فارم کو غنیمت اور موثر سمجھنے لگے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں سیاسی جماعتیں کس وقت کیا موقف اختیار کرتی ہیں یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا ۔
اس آن لائین پلیٹ فارم پر جو منشور جاری کیا گیا ہے وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ نوجوانوں نے پختہ ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے سلگتے ہوئے مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور اس رائے کو دوسرے لاکھوں کروڑوں نوجوان قبول کرنے لگے ہیں۔ ساری صورتحال اس بات کا اشارہ کرتی ہے کہ ملک کے نوجوان بھی ایک اچھی سوچ رکھتے ہیں اور ملک کی بہتری اور استحکام کے خواہشمند ہیں۔ وہ سماجی برائیوںاور بدعنوانیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ وہ مساوی مواقع اور بہتر حالات زندگی کے متلاشی ہیں اور اہم مسائل پر کھل کر اظہار خیال بھی کرنا چاہتے ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر سیاسی جماعتوں کا موقف کیا رہے گا وہ دیکھنا بھی اہم ہوگا ۔

