Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ریونت ریڈی اور بنڈی سنجے میں ملی بھگت : کے ٹی آر کا الزام

ریونت ریڈی اور بنڈی سنجے میں ملی بھگت : کے ٹی آر کا الزام

سیاست 2 days ago

2034 تک چیف منسٹر برقرار رہنے کا یقین ہے تو کانگریس مستعفی ہو کر دوبارہ عوامی اعتماد حاصل کرےحیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کانگریس اور بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سنسنی خیز دعویٰ کیاکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور مرکزی مملکتی وزیر بنڈی سنجے کے درمیان خفیہ ملی بھگت چل رہی ہے اور اسی گٹھ جوڑ کے تحت پوکسو کیس کے ملزم بنڈی بھاگیرتھ کو بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے حکومت سے استفسار کیا کہ کیوں اس حساس کیس میں ملزم کو کس کی ایماء پر راحت فراہم کیا جارہا ہے ۔ ہفتہ کو منعقد ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں اس پورے معاملے کے بشمول ریاست کی موجودہ صورتحال پر ایک وائیٹ پیپر جاری کرنا چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔ کے ٹی آر نے ریاست میں کسانوں کی ابتر حالت زار اور دھان کی خریدی کے سنگین بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے چیف منسٹر اور وزراء کی جانب سے 80 فیصد دھان خریدنے کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور ثبوت پیش کرنے پر سیاست سے کنارہ کشی کرنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ ابھی تک 35 فیصد سے زائد اناج کی خریداری نہ ہوسکی ۔ ریونت ریڈی کے حالیہ بیانات 2034 تک وہی چیف منسٹر برقرار رہنے کے دعوؤں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے چیف منسٹر کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے اپنے ارکان اسمبلی سے استعفیٰ دلاکر ریاست میں دوبارہ انتخابات کا سامنا کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ اگر کانگریس اس چیلنج کو قبول کرتی ہے تو وہ خود بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے اور دوبارہ عوامی عدالت میں جانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں کیوں کہ ریاست کے عوام کانگریس حکومت کی جھوٹی پالیسیوں اور بدعنوانیوں سے تنگ آچکے ہیں ۔۔ 2/m/b

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu