سرکاری سطح پر جائیدادوں کی گنجائش کم، آندھراپردیش میں 17 اور تلنگانہ میں 16 فیصد نوجوان بیروزگارحیدرآباد ۔22۔ مئی (سیاست نیوز) ہندوستان میں بڑھتی بیروزگاری حکومتوں کے لئے دن بہ دن چیلنج بنتی جارہی ہے اور گزشتہ 10 برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے۔ گزشتہ سال ملک میں بیروزگاری کے چیلنج سے متعلق سروے کیا گیا جس میں 15 تا 29 سال کے نوجوانوں کا احاطہ کرتے ہوئے بیروزگاری کے مسئلہ کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ۔ ہندوستان کی کوئی بھی ریاست تعلیم یافتہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اسکل ڈیولپمنٹ اور نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع میں اضافہ کے ذریعہ نئی نسل میں پھیلی بے چینی کو دور کیا جاسکتا ہے۔ نوجوانوں کو اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ حکومتوں کی جانب سے بیروزگاری کے خاتمہ کے وعدے اور اعلانات محض انتخابات تک محدود ہوچکے ہیں۔ ملک کی شمال مشرقی ریاستوں اور کیرالا میں بیروزگاری کی شرح دیگر ریاستوں کے مقابلہ زائد درج کی گئی ہے۔ کیرالا میں بیروزگاری کی شرح 29.9 فیصد درج کی گئی ہے جبکہ لداخ میں 22.2 فیصد ، پنجاب 18.8 فیصد ، جموں و کشمیر 17.4 فیصد ، ہماچل پردیش 16.3 فیصد ، اروناچل پردیش 20.9 فیصد، ناگالینڈ 27.4 فیصد اور منی پور میں 22.9 فیصد بیروزگاری کی شرح درج کی گئی۔ آندھراپردیش میں 17.5 اور تلنگانہ میں 16.6 فیصد بیروزگاری کی شرح ہے۔ ٹاملناڈو میں 15.3 فیصد شرح درج کی گئی۔ راجستھان میں 12.4 فیصد ، اتراکھنڈ 9.8 فیصد ، اترپردیش 9.1 فیصد، بہار 9.8 فیصد اور مغربی بنگال میں 9.0 فیصد بیروزگاری درج کی گئی ۔ سروے کے مطابق حکومتوں کیلئے بیروزگاری کی بڑھتی شرح سے نمٹنا آسان نہیں ہے اور سرکاری شعبہ جات کے علاوہ خانگی شعبہ میں ہنرمند نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع زیادہ ہیں۔1/k/m/b

