حیدرآباد میں ٹینکرس کی مصنوعی طلب نے غریبوں کی مصیبت بڑھادیحیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد میں چلچلاتی دھوپ اور گرمی کی لہر کے درمیان پانی کی قلت کا خوف غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکا ہے ۔ شہر میں واٹر ٹینکرس کی بکنگ کو لے کر ایک ایسا پریشان کن رجحان سامنے آیا ہے جس نے امیر اور غریب کے فرق کو مزید گہرا کردیا ہے ۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں صرف وہی لوگ واٹر ٹینکرس بک کرتے تھے جنہیں واقعی پانی کی سخت ضرورت ہوتی تھی لیکن اب صورتحال بالکل بدل چکی ہے ۔ شہر کے متمول اور پوش علاقوں میں یہ افواہ اور خوف پھیل گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پانی کی فراہمی میں شدید دشواری ہوگی ۔ جس کے نتیجے میں شہریوں نے پانی کے ٹینکرس کی دھڑا دھڑ اڈوانس بکنگ شروع کردی ہے ۔ جس کی وجہ سے حیدرآباد واٹر ورکس بورڈ کا پورا نظام ہچکولے کھا رہا ہے ۔ حکام نے اس سنگین صورتحال کا موازانہ پٹرول کی ( خوف میں خریداری ) کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا ۔ حالیہ دنوں میں جس طرح لوگ پٹرول کی ممکنہ قلت کے اندیشے سے اپنی گاڑیوں کی ٹنکیاں پہلے ہی فل کروالیتے اور گھروں میں ذخیرہ اندوزی شروع کردیتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح اب پانی کے ٹینکرس بھی کئی دن پہلے سے ہی بک کرائے جارہے ہیں ۔ صاحب ثروت اپنے زیر زمین ٹینک اور سوئمنگ پل بھرنے کے لیے یہ سوچ کر ٹینکرس سے بک کرارہے ہیں تاکہ انہیں مستقبل میں پانی کی قلت کا سامنا نہ کرنے پڑے ۔ اس غیر ضروری اور مصنوعی طلب نے مارکٹ میں پانی کی سپلائی پر اتنا شدید دباؤ ڈال دیا ہے کہ واٹر ٹینکرس کا ملنا اب جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیا ہے ۔ اس پوری صورتحال کا سب سے درد ناک اور افسوس ناک رخ یہ ہے کہ اس مصنوعی بحران کا سارا خمیازہ ان غریب لوگوں کو بھگتنا پڑرہا ہے ۔ جن کے پاس نہ تو بڑے زیر زمین ٹینک ہیں اور نہ ہی اڈوانس بکنگ کے لیے اضافی پیسے ہیں ۔ اب وہ پانی کے لیے تڑپنے پر مجبور ہیں ۔ کیوں کہ جب وہ ٹینکر بک کرنے کی کوشش کررہے ہیں تو انہیں ویٹنگ لسٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ پچھلے تین سال کے تقابلی جائزہ کے مطابق مئی 2024 میں 1,18,191 ٹینکرس مئی 2025 میں 1,69,347 اور 20 مئی 2026 تک 2,59,809 ٹینکرس بک کرائے گئے ہیں ۔ ٹینکرس کی سالانہ سپلائی کے اعداد و شمار یہ صاف بتاتے ہیں کہ پانی اب ضرورت سے زیادہ خوف اور پیسے کی بنیاد پر تقسیم ہورہا ہے ۔۔ 2/m/b

