اُن کی جب تک نگاہِ الفت و عنایت ہوگیبزمِ آفاق میں بس میرا ہی چرچا ہوگا
اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو میلوڈی چاکلیٹ دیتے ہوئے سرخیوں میں رہنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے اب عوام کو بھی ایک طرح کا تحفہ دیا جا رہا ہے اور وہ تحفہ مہنگائی کا ہے ۔ گذشتہ آٹھ دن میں تیسری مرتبہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر قسطوں میں مالی بوجھ عائد کیا جا رہا ہے ۔ حکومت شائد اس تاثر کاش کار ہے کہ قسطوں میں دھیرے دھیرے بوجھ عائد کرنے سے عوام میں ناراضگی کی لہر پیدا نہیںہوگی اور حکومت اپنے ایجنڈہ میں کامیاب ہوجائے گی ۔ یہ اندیشے بہت پہلے سے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15 روپئے فی لیٹر تک کا اضافہ کیا جائے گا ۔ اپوزیشن جماعتوں اور جہد کاروں اور سوشیل میڈیا کی جانب سے بارہا یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے تھے اور شائد اسی وجہ سے حکومت نے اپنی حکمت عملی بدلی اور عوامی برہمی کو ٹالنے کیلئے اضافہ کو مرحلہ وار انداز میں یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ پہلے تین روپئے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ۔ پھر ایک روپیہ کا اضافہ ہوا اور اب تیسری مرتبہ تقریبا ایک روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے غیر محسوس طریقہ سے عوام کی جیبوں پر ڈالہ ڈالنے اور ان کے گھریلو بجٹ کو مزید باؤ کا شکار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ملک کے عوام کو راحت فراہم کرنے کی بجائے وزیر اعظم نریند ر مودی اطالوی وزیر اعظم کو میلوڈی چاکلیٹ پیش کرنے میں مصروف تھے اور عوام کو بھی چاکلیٹ دیا گیا ہے تاہم یہ چاکلیٹ کوئی مٹھاس والا نہیں بلکہ مہنگائی والا چاکلیٹ ہے ۔ اس کے ذریعہ ملک کے کروڑوں عوام کے بچے چاکلیٹ سے محروم ہوسکتے ہیں۔ گھریلو بجٹ اگر درہم برہم ہو جائے اور دو وقت کی روٹی کا حصول ہی مشکل ہوجائے تو بچوں کو چاکلیٹ کہاں سے کھلایا جائے گا ۔ تاحال مرکزی حکومت کی تیل کمپنیوں کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں تقریبا پانچ روپئے کا اضافہ تو کرہی دیا گیا ہے اور مزید اضافہ کے اندیشے بھی برقرار ہیں۔ حکومت لگاتار اور قسطوں میں عوام پر بوجھ عائد کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے اور اسے عوام پر عائد ہونے والے مالی بوجھ اور ان کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی ہے ۔ حکومت کو صرف تیل کمپنیوں کے خزانے کی فکر ہے اور اسی کے تحت اضافہ کیا جا رہا ہے ۔
پہلے دو مراحل میں کئے گئے اضافہ کے بعد سے ہی ملک میں مہنگائی میںاضافہ ہونے لگا تھا ۔ اس سے قبل کمرشیل گیس کی قیمتوں میں جو 35 فیصد تک اضافہ کیا گیا تھا اس کے نتیجہ میں پہلے ہی مہنگائی عروج پر پہونچ رہی تھی ۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیںکر رہی تھیں۔ ہوٹلوںاور ریسٹورنٹس کا کاروبار متاثر ہو کر رہ گیا تھا ۔ غریب عوام خود روزگار حاصل کرنے کی کوششوں میں بھی ناکام ہو رہے تھے ۔ یہ عوام پر بالواسطہ بوجھ تھا جو عائد کیا جارہا تھا ۔ ایسے میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میںاضافہ کرتے ہوئے عوام پر اب راست بوجھ بھی عائد کردیا گیا ہے ۔ اس کے نتیجہ میںترکاریوں سے دودھ تک ' اناج سے ادویات تک ہر شئے کی قیمتیں بڑھنے لگیں گی اورعوام کی آمدنی میں اضافہ کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ۔ ٹرانسپورٹ شعبہ کی جانب سے باربرداری کرایوں میںاضافہ کیا جائے گا ۔ خانگی حمل و نقل کے ذرائع مہنگے ہونگے اور اس کے نتیجہ میں سب سے زیادہ اگر کسی کا نقصان ہوگا تو وہ ملک کے غریب عوام ہی ہونگے ۔ جہاں حکومت اس مسئلہ پر بے حسی اور لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے وہیں ایسا لگتا ہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتیں بھی اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کرنے ہی کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ان کی جانب سے عوام پر عائد ہونے والے بوجھ کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہو رہا ہے اور وہ صرف میڈیا اور سوشیل میڈیا کے شیر بنے ہوئے ہیں اور اپنے رد عمل کا وہیںپرا ظہار کرنے پر اکتفاء کر رہے ہیں۔ عوام کے جذبات اور ان کی شکایات کو عملی شکل دینے میں اپوزیشن جماعتوں کو بھی شائد اب کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی ہے ۔
یہ درست ہے کہ عالمی سطح پر معاشی حالات مشکل ترین ہوتے جا رہے ہیں۔ معاشی انحطاط کے اندیشے لگاتار تقویت پانے لگے ہیں اور اس کے اثرات کئی ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ہندوستان بھی اس سے محفوظ نہیں ہے تاہم حکومت کو مالی بوجھ برداشت کرنے کے دوسرے طریقے اختیار کرنے کی ضرورت تھی اور عوام پر بوجھ عائد کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے تھا ۔ تاہم حکومت ایسا لگتا ہے کہ ہر شعبہ کو راحت دینے تیار ہے لیکن وہ عوام کو کسی طرح کی راحت دینے تیار نہیں ہے اور معاشی بوجھ عوام پر ہی منتقل کردینے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے ۔ عوام میں حکومت کے ایسے فیصلوں کے خلاف شدید ناراضگی پیدا ہونے لگی ہے اور عوام کا غصہ کسی بھی وقت شدت اختیار کرسکتا ہے ۔ حکومت کو محض تیل کمپنیوں کی بجائے عوام پر عائد ہونے والے مالی بوجھ کو بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔
امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ کا دورہ
امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو ہندوستان کے دورہ پر آئے ہیں۔ انہوںنے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور وائیٹ ہاوز آنے کی دعوت بھی دی ۔ وہ مختلف امور پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ہندوستان کو چاہئے کہ اس دورہ سے استفادہ کرتے ہوئے ان امور پر امریکہ کی توجہ مبذول کروائے جو ہمارے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ حالیہ عرصہ میں دیکھا گیا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مخالف ہند بیان بازیوں میں تیزی آگئی ہے ۔ ایسے میں وزارت خارجہ کو اپنے احتجاج سے مارکو روبیو کو واقف کروانے کی ضرورت ہے ۔ ہند ۔ امریکہ حکمت عملی شراکت داری کی اہمیت کو برقرارر کھنے کیلئے ضروری ہے کہ امریکہ اپنے رویہ میں تبدیلی لائے ۔ امریکہ میں ہندوستانی آئی ٹی ماہرین اور طلباء کے معاملہ میں فراخدلانہ رویہ اختیار کرے ۔ اس جانب مارکو روبیو کو توجہ دلانے کی ضرورت ہے ۔ ٹرمپ کے مخالف ہند بیانات پر بھی احتجاج درج کرونے کی ضرورت بھی ہے ۔

