Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
ناروے میں مودی جی نے صحافی کے ساتھ کیا کردیا؟

ناروے میں مودی جی نے صحافی کے ساتھ کیا کردیا؟

سیاست 1 day ago

روش کماروزیراعظم نریندر مودی نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ بیرونی ملکوں کے سفر سے گریز کریں۔ عوام کو تو انہوں نے بیرونی ملکوں کا سیاحتی سفر بھی نہ کرنے کا مشورہ دیا لیکن خود متحدہ عرب امارات اور یوروپ کے چار یا پانچ ملکوں کے سفر پر روانہ ہوگئے اور دعویٰ کیا کہ ان کے یہ دورے بہت کامیاب رہے، خاص طور پر متحدہ عرب امارات کا مختصر دورہ نہایت ہی کامیاب رہا۔ دونوں ملکوں نے مصنوعی ذہانت توانائی، دفاع اور دوسرے شعبوں میں کئی ایک معاہدات پر دستخط کئے۔ بہرحال ہم آپ کو ناروے کی خاتون صحافی ہیلا لنگ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ہیلا لنگ نے وزیراعظم نریندر مودی سے کیا پوچھ لیا؟ وزیراعظم مودی آپ دنیا کے سب سے آزاد صحافت (پریس) کے کچھ سوالوں کے جواب کیوں دینا نہیں چاہتے؟ یہ سوال دنیا بھر میں گونجنے لگا ہے۔ گودی میڈیا نے آپ کو زوروشور سے بتایا ہوگا کہ 43 سال بعد ہندوستان کا کوئی وزیراعظم نارو کا دورہ کررہا ہے لیکن یہ نہیں بتایا ہوگا کہ 43 سال پہلے 15 جون 1983 کو اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی ناروے گئی تھیں تب انہوں نے ناروے کے اس وقت کے وزیراعظم کے ساتھ باقاعدہ پریس سے خطاب کیا تھا۔ 43 سال میں ایسا کیا بدل گیا کہ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی ناروے جاتے ہیں اور پریس کے سوالوں کا جواب تک نہیں دیتے جس ہال میں وزیراعظم مودی اور ناروے کے وزیراعظم اپنا اپنا بیان پڑھ رہے تھے اس ہال میں پہلے سے ہی طئے تھا کہ سوال و جواب نہیں ہوں گے لیکن بیان پڑھنے کے بعد دونوں لیڈروں نے جب مصافحہ کیا تب ہی ایک آواز سوال بن کر آتی ہے اور پورے ہال کے سناٹے کو توڑ دیتی ہے۔ وزیراعظم مودی بناء جواب دیئے ہال سے نکل جاتے ہیں اور سوال پوچھنے والی صحافی ہیلالنگ کا سوال دنیا بھر کے جمہوری آوازوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ دنیا کے سب سے آزاد پریس والے ملک میں وزیراعظم نریندر مودی سوال کا جواب کیوں نہیں دے رہے ہیں۔ ٹھیک ہے طئے ہوگیا تھا کہ سوال و جواب نہیں ہوگا لیکن اس پر بھی سوال ہونا چاہئے کہ 43 سال بعد جب ہندوستان سے کوئی وزیراعظم ناروے گئے تو سوال جواب کیوں نہیں ہوا۔ بناء سوال جواب والا پروگرام ناروے کے کہنے پر تو طئے نہیں ہوا ہوگا اس کی پہل کیا ہندوستان نے کی اور ہندوستان کی طرف سے کیا چرچا چلائی گئی کہ جب پریس کے سامنے بیان پڑھا جائے گا تب سوال جواب نہیں ہوگا۔ اگر ایسا ہوا ہے تب بھی سوچئے کتنا شرمناک رہا ہوگا۔ کسی ہندوستانی عہدیدار کیلئے کسی دوسرے ملک کے عہدیداروں سے کہنا کہ ہمارے وزیراعظم آرہے ہیں ذرا دیکھ لیجئے گا کہ کوئی صحافی سوال نہ پوچھ بیٹھے۔ سوال نارے سے بھی ہونا چاہئے کہ اگر وہ آزادی صحافت کے معاملہ میں نمبرون ہے تو اس نے ایسی شرط کیوں قبول کی کہ پریس کے سامنے دونوں بیان پڑھ کر چلے جائیں گے۔ سوال جواب نہیں ہوگا۔ کیا ناروے نے آزادی صحافت سے سمجھوتہ نہیں کیا؟ اگر ہیلالنگ کے سمجھوتوں کا جواب ہندوستان کے وزیراعظم مودی نے نہیں دیا تو ناروے کے وزیراعظم نے بھی دی ہندو کی نامہ نگار سہاسنی حیدر کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ سوال پوچھنے والی صحافی ہیلالنگ نے سہاسنی حیدر کے حق کا بھی بچاؤ کیا ہے اور کہا کہ میں یہ دیکھ کر مایوس تھی کہ ناروے کے وزیراعظم نے ہندوستانی صحافیوں کے سوالوں کیلئے وقت نہیں دیا امید ہیکہ اگلے دن ایسا کریں گے۔ ناروے کے وزیراعظم جب کمرے سے جانے لگتے ہیں تو سہاسنی حیدر ان سے سوال کرتی ہیں لیکن وہ سہاسنی حیدر کے سوال کو نظرانداز کردیتے ہیں جس پر ہیلالنگ کی آواز اتی ہے کہ آخر ناروے کے وزیراعظم کچھ ہندوستانی صحافیوں کے سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیتے۔ بعد میں ناروے کے وزیراعظم نے تمام صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے ہندوستانی صحافیوں کے سوالوں کے بھی جواب دیئے۔ ہندوستان میں ہیلالنگ کو لیکر بحث چھڑ گئی ہے۔ کہا جارہا ہیکہ مغرب کی صحافی کو لیکر اتنی چرچا کیوں؟ لیکن وزیراعظم نریندر مودی پریس کاسامنا نہیں کرتے۔ یہ سوال تو ہندوستانی صحافی بھی اٹھاتے ہیں۔ اپوزیشن اکثر یہ سوال کرتا ہے۔ قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے ناروے کی صحافی ہیلالنگ کے سوال پر ٹوئیٹ کیا اور کہا کہ جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہوتا تب ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ جب Compromised ہوچکے وزیراعظم کچھ سوالوں سے گھبرا کر بھاگنے لگتے ہیں تب ہندوستان کی شبیہہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔ کسی ایک دو ملکوں کی بات ہوتی تو سمجھا جاسکتا تھا لیکن وزیراعظم نریندر مودی کے بیرونی دوروں کا یہ معمول بنتا جارہا ہیکہ وہ پریس کے سوالوں کا سامنا نہیں کرتا۔ ہیلالنگ نے جو سوال کیا وہ تو ہر صحافی کا سوال ہونا چاہئے کہ آپ سوال کیوں نہیں لیتے؟ سوالات کے جوابات کیوں نہیں دیتے؟ ناروے کے اخبارات دیکھئے وزیراعظم مودی کے دورہ کو لیکر کیا کچھ اور کیسے لکھا جارہا ہے۔ رپورٹرس رتھاوٹ بارڈرس دنیا بھر میں پریس کی آزادی کی درجہ بندی کرتے ہیں۔ اس درجہ بندی میں 180 ملکوں میں ہندوستان کا مقام 157 واں ہے اور ناروے کا مقام نمبر ون ہے۔ کئی سال سے ناروے پہلے نمبر پر ہے۔ ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی کے پاس موقع تھا کہ وہ سوال کا جواب دے کر ناروے کی صحافی کو غلط ثابت کردیتے مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔ ناروے کے اخباروں میں اس بات کی بحث چھڑ گئی کہ صحافیوں کو سوال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ وہاں کے اخبارات میں وزیراعظم مودی کو لیکر کئی طرح کے تبصرے کئے جارہے ہیں اور اندازے لگائے جارہے ہیں۔ افٹن یوسٹسن اخبار کی سرخی ہیکہ مودی چالاک اور تھوڑا پریشان کرنے والے آدمی ہیں۔ این آر کے اخبار نے اپنے تبصرہ میں لکھا ہے کہ مودی پر الزام ہیکہ انہوں نے اپنے اردگرد Political Cult بنا لیا ہے اور جمہوریت و شہری آزادی کو کمزور کیا ہے ایک اور اخبار نے لکھا ہیکہ جب مودی وزیراعظم کے عہدہ پر فائز ہوئے تب ہندوستان دسویں بڑی معاشی طاقت تھا۔ آج تیسری بڑی معاشی طاقت بننے کے آس پاس ہے لیکن جمہوریت کے معاملہ میں الٹی سمت میں جارہے ویسے معاشی صورتحال کے معاملہ میں ہندوستان درجہ بندی میں 6 ویں نمبر پر ہے۔ ناروے کے اس اخبار کو پتہ نہیں ہوگا۔ اگر ڈاکٹر منموہن سنگھ پریس کے سوالوں سے بچ کر اس طرح سے نکلتے جاتے پریس کانفرنس ختم کردیتے تو یہی وزیراعظم مودی تقریر شروع کردیتے اور کہتے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیراعظم سوالوں کا سامنا نہیں کرپا رہا ہے۔ ہندوستان کی شبیہہ بگڑتی جارہی ہے۔ ہیلالنگ نے کہا وزیراعظم مودی آپ دنیا کے سب سے آزاد پریس کے کچھ سوالوں کا جواب دینا چاہئے۔ ہیلالنگ کا یہ سوال ہندوستانی جمہوریت کی ساکھ کیلئے چیلنج بن گیا ہے۔ ہندوستان کے کئی لوگوں نے ہیلالنگ کی تائید و حمایت میں لکھا ہیکہ انہوں نے صحیح سوال کیا ہے لیکن ہیلالنگ کو ٹرول بھی کیا جارہا ہے۔ ٹرول کرنے والے ایک طرح سے ہیلالنگ کی بات کو ہی ثابت کررہے ہیں کہ ہندوستان میں پریس کی آزادی کا حال اتنا برا کیوں ہے۔ ہیلالنگ کی اتنی ٹرولنگ ہورہی ہے کہ انہیں اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر لکھنا پڑا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ مجھے یہ لکھنا پڑے گا کہ میں کوئی جاسوس نہیں ہوں اور نہ ہی کسی غیرملکی حکومت کی ایجنٹ ہوں۔ ایک اور ٹوئیٹ میں انہوں نے وہ بات کہدی جو 12 سال کے مودی حکومت کے دور میں ہندوستان کے گودی صحافی بھول گئے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ کبھی کبھی صحافت میں ٹکراؤ ہوتا ہے ہمیں جواب چاہئے ہوتے ہیں اگر انٹرویو دینے والے فرد اقتدار پر فائز ہے بااثر ہے اور میرے سوال کا جواب نہیں دیتا ہے تو میں کوشش کروں گی کہ انہیں ٹوکوں اور صحیح جواب حاصل کروں یہ میرا کام اور میرا فرض ہے مجھے جواب چاہتے نہ کہ صرف بات کرنے کیلئے کچھ پوائٹس۔ ہیلالنگ کے ساتھ وہی ہورہا ہے جو 2023ء میں وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی سبرینا صدیقی کے ساتھ ہوا۔ حسن اتفاق دیکھئے کہ ہیلالنگ کے سوال بھی سبرینا صدیقی کے سوال کی سمت میں ہی تھے۔ سبسرینا کا سوال وزیراعظم نریندر مودی سے تھا کہ ہندوستان میں اقلیتوں اور ناراض عناصر کی آوازوں کو کیوں دبایا جاتا ہے۔ مسلمانو اور دوسرے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وزیراعظم مودی کیا کریں گے؟ تین سال پہلے کے اس سوال و جواب کے اس تناظر کو آپ کو پھر سے دیکھنا چاہئے۔ سبرینا صدیقی نے وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کیا کرلیا کہ ان کے مسلمان ہونے کو لیکر ٹرول کیا جانے لگا۔ حالت اتنی خراب ہوگئی کہ وائٹ ہاوز کو وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی سبرینا صدیقی کے بچاؤ میں بیان دینا پڑا۔ خود امریکہ کے سابق مشیر قومی سلامتی جان کربی سے صحافیوں نے پوچھ لیا کہ سبرینا صدیقی کے ساتھ جو ہورہا ہے اس پر آپ کیا کہیں گے جان کربی نے جواب دیا ایسا سلوک جمہوری نہیں ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ تین سال بعد وہی سب کچھ ناروے کی صحافی ہیلالنگ کے ساتھ ہونے لگا۔ 2017ء میں وزیراعظم مودی جب امریکہ گئے تب انہوں نے کسی سوال کا سامنا نہیں کیا۔ 2023ء میں جب انہوں نے دورہ کیا تو ان کی اکلوتی پریس کانفرنس کو لیکر ہی امریکہ میں رپورٹنگ ہونے لگی۔ ان کی پریس کانفرنس کو لیکر نیویارک ٹائمز نے خبر شائع کی کہ اس تاریخ کو نوٹ کرلیجئے وہ دن جب مودی نے پریس سے لائیو سوالات کئے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ہمیں حوشی ہیکہ مودی اپنے دورہ کے آخر میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu