Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
عوام کو بیوقوف بنانے میں مودی کا جواب نہیں

عوام کو بیوقوف بنانے میں مودی کا جواب نہیں

سیاست 1 day ago

منوج کمار جھاہندوستان کے موسم اپنے آپ میں کئی ایک خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں اور ان موسموں سے بے شمار تہذیبی، ثقافتی اور روایتی چیزیں جڑی ہوئی ہیں تاہم اگر ہم بات جمہوری موسم کی کرتے ہیں تو انتخابات کا موسم سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے جو ملک میں بارش، سردی، گرمی کے موسم سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے لیکن بارش، سردی، گرمی اور انتخابی موسم کے بعد بھی اب ایک نیا موسم قربانی کا آیا ہے اور یہ موسم انتخابات کے بعد آتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ موسم انتخابات کے فوری بعد ہی آتا ہے (اور اس کا کریڈٹ مودی جی کو جانا چاہئے) آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ انتخابات کے دوران شہریوں کو ترقی کے نعرے سنائی دیتے ہیں اور جیسے ہی انتخابات کا انعقاد عمل میں آتا ہے۔ شہریوں کو صبر و تحمل اور ایثار و قربانی کا درس دیا جانا شروع ہوجاتا ہے اور انہیں کفایت شعاری کا سبق دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی سیاسی و اقتصادی تجزیہ نگار ماہرین معاشیات اور صحافی جس میں گودی میڈیا کے صحافی بھی شامل ہیں، یہ توقع کررہے تھے کہ مغربی بنگال، کیرالا، آسام، تاملناڈو اور مرکزی زیرانتظام علاقہ پڈوچیری میں انتخابات کے انعقاد کے فوری بعد نہ صرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ مودی حکومت اشیائے ضروریہ بالخصوص غذائی اشیاء اور ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردے گی (اور ایسا ہی ہوا، نہ صرف پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ہفتہ میں دو مرتبہ اضافہ کیا گیا بلکہ آنے والے دنوں میں مزید اضافہ کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ مرکزی وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا دعویٰ ہے کہ سرکاری تیل کمپنیوں کو ہر روز 1000 کروڑ روپئے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے) ۔ بہرحال مذکورہ پانچ ریاستوں کے انتخابات ختم ہوتے ہی ملک کے عوام کو صبر و تحمل، ایثار و قربانی اور کفایت شعاری کا پیغام موصول ہوا ہے۔ جمہوریت کی یہ خوبصورتی ہے کہ عوام پہلے کئی ہفتوں تک ترقی، قوم پرستی، تہذیبی و ثقافتی بحران اور جذباتی بنیاد پر پولرائزیشن کے شاہی غسل میں حصہ لیتے ہیں اور پھر جیسے ہی رائے دہی کا عمل ختم ہوجاتا ہے، انہیں بتادیا جاتا ہے کہ بڑی مہربانی اب پٹرول اور ڈیزل کا احتیاط سے استعمال کریں، خوردنی تیل کے استعمال میں بھی احتیاط برتیں، ایک سال تک سونا نہ خردیں، بیرونی ممالک کے سفر سے گریز کریں اور ورک فرم ہوم (گھر بیٹھے کام کیجئے) یہاں مجھے ہری شنکر سائی یاد آرہے ہیں۔ اگر وہ ہوتے تو شاید یہ ضرور لکھتے کہ یہ وہی ملک ہے جہاں عوام سے ایثار و قربانی کی اپیل اتنی ہی آسانی سے کی جاتی ہے جتنی آسانی سے لیڈر کسی کام کا افتتاح انجام دیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ افتتاح کا فیتہ، حکومت اور اس کا نمائندہ کاٹتا ہے اور ایثار و قربانی کا بل عوام کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ راقم الحروف ہمارے وزیراعظم کی فکر و تشویش کو تقریباً ڈھائی ماہ بعد حاصل کرکے پھولے نہیں سما رہا ہے، ورنہ پانچ ریاستوں کے انتخابات نے یہ باور کردیا تھا کہ جنگ، مہنگائی اور عالمی سطح کے بحرانوں کو کوئی غیرمرئی قوت (اَن دیکھی قوت یا غیبی طاقت) ہندوستان کی سرحدوں سے باہر روکے ہوئے ہے۔ اب کہیں جاکر یہ سمجھ میں آیا کہ ہمارے وزیراعظم غائب نہیں تھے بلکہ وہ تو بس پانچ ریاستوں میں جمہوریت کے مقدس عمل (انتخابات) کے مکمل ہونے کے منتظر تھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قومی بحران بھی شاید اب الیکشن کمیشن کی اجازت سے ہی ملک کی سرحدوں میں داخل ہوتے ہیں۔ ہمارے وزیراعظم نے میڈاِن انڈیا اور میک اِن انڈیا کے بعد اپنے مشورہ میں ویڈ اِن انڈیا کا نعرہ لگایا چنانچہ بیرونی ملکوں کے سفر محدود کرتے اور ویڈ اِن انڈیا (ہندوستان میں شادی بیاہ کیجئے) جیسا نعرہ بھی وقت کے عین مطابق ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ماضی میں وزیراعظم کے حامیوں نے ان کے بیرونی دوروں پر تنقید کرنے والوں کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے غیرملکی دوروں کو ترقی کی شاہراہ قرار دیا تھا اور وہی لوگ اب مقامی سیاحت کو ایثار و قربانی کی علامت بتارہے ہیں۔ مودی جی نے پرزور انداز میں عوام سے اپیل کی کہ وہ بیرونی ملکوں کے سفر سے اور وہاں رسم و شادی بیاہ جیسی تقاریب منعقد کرنے سے احتراز کریں۔ اپنے ملک میں بے شمار سیاحتی مقامات ہیں۔ ان مقامات کو جائیں۔ موجودہ حکومت نے ہندوستانیوں کو یہ بتادیا ہے کہ اب گھر میں رہنا حب الوطنی اور قوم پرستی ہے اور ان حالات میں عین ممکن ہے کہ جلد ہی گھر آجانا، آتما نربھر یعنی خودانحصاری اور سیاحت کیلئے پڑوسی ملک نیپال جانا غیرملکی سازش قرار دی جائے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ ہندوستانی باشندوں میں سونا محض ایک قیمتی دھات نہیں بلکہ سماجی خوداعتمادی کی علامت ہے لیکن اب اس علامت کو بھی مٹانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے عوام سے ایک انتہائی جذباتی اپیل کی اور وہ اپیل یہ ہے کہ عوام کو کم از کم ایک سال تک سونا نہیں خریدنا چاہئے۔ اب شادی بیاہ کے موقع پر رشتہ دار دریافت کریں گے کہ آخر بہو کو کیا دیا ہے؟ اور اس سوال کا یہ جواب ملے گا کہ ہم نے بہو کو قومی مفاد دیا ہے۔ ممکن ہے جلد ہی شادی کے رقعوں پر یہ جملہ شائع کیا جانے لگے۔ براہ کرم دعائیں دیں، سونا قومی تعمیر کیلئے، قومی مفاد کیلئے موخر کردیا گیا ہے۔ یہ جان کر بھی حد درجہ اطمینان ہوا کہ ملک کے اقتصادی یا معاشی مسائل اچانک انتخابی نتائج کے بعد ہی سنگین ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے شاید مہنگائی زرمبادلہ کے ذخائر اور تیل کی قیمتیں ضابطہ اخلاق کا احترام کررہی تھیں۔ اگر شرد جوشی ہوتے تو شاید یہ ضرور لکھتے ''ہمارے یہاں مسائل بھی بہت بااخلاق اور مہذب ہوتے ہیں۔ انتخابات تک بڑی خاموشی کے ساتھ گوشہ نشینی اختیار کرتے ہیں اور انتخابات ختم ہونے کے ساتھ ہی اپنی موجودگی کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ ایک بات ضرور ہے کہ مودی جی بڑے جذباتی انداز میں ہندوستانی عوام کو مشورہ دیتے ہیں اور عوام کو اس بات کا ذرا بھی شبہ نہیں ہوتا کہ حکومت، مہنگائی کا سارا بوجھ اُن پر ہی ڈال رہی ہے۔ مثال کے طور پر وزیراعظم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ اس سے کس کا نقصان ہوگا؟ حکومت کا یا عوام کا؟ اس سوال کا جواب کوئی مشکل نہیں ہے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگ جو پہلے ہی مجبوری میں کم پٹرول ڈالواتے تھے، کیا اب وہ قومی مفاد میں کم پٹرول بھروائیں گے؟ اس طرح معاشی و اقتصادی مجبوری کو اخلاقی کامیابی میں بدلنے کا ہنر شاید ہندوستانی نظام حکومت کی سب سے بڑی انتظامی حصولیابی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے پہلے ورک فرم ہوم کی مخالفت کی گئی اور ملازمین کو سمجھایا گیا تھا کہ ملک و قوم کی تعمیر صرف دفتر میں بیٹھ کر کام کرنے سے ہی ممکن ہے، لیکن اب خود وزیراعظم نریندر مودی انتخابات ختم ہوتے ہی ورک فرم ہوم کی باتیں کررہے ہیں۔ ہمارے حکومتی نظام کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ ہر فیصلے کو ہر مسئلہ اور ہر بحران کو قومی مفاد ثابت کرنے میں ذرا تاخیر نہیں کرتا۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu