رام پنیانی
چھترپتی شیواجی مہاراج مہاراشٹر کے سب سے مقبول ترین راجہ رہے اور فی الوقت انہیں ملک کے دوسرے مقامات پر بھی ایک بڑے ہندو قوم پرست آئیکن کی حیثیت سے مقبول بنایا جارہا ہے۔ یہاں ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ ان کے اطراف ہمیشہ تنازاعات موجود رہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی مقبولیت صرف معاشرہ کے ایک طبقہ تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشرہ کے مختلف طبقات میں بھی وہ مقبول رہے اور مقبول ہیں۔ ریاست مہاراشٹرا میں ان کی سالگرہ تقریب (یوم پیدائش) بڑے جوش و خروش اور برسی بڑے ہی عزت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے ۔ جہاں تک مہاراشٹرا کا سوال ہے لوک گیتوں کے ذریعہ شیواجی کی زبردست تعریف و ستائش کی جاتی ہے ۔ ان کی بہادری کے قصے سنائے جاتے ہیں اور کارناموں کو گیتوں کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے ۔ ان کے ساتھ تنازعات بھی جڑے ہیں جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے ۔ ابتدائی تنازعات میں سے ایک تنازعہ ان کے مجسمہ کمیٹی کی صدارت بابا صاحب پورندارے کو دیئے جانے پر پیدا ہوئی کیونکہ ناقدین نے بابا صاحب پورندارا پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ شیواجی مہاراج کو برہمنی رنگ میں رنگ کر پیش کرتے ہیں ۔ اس طرح حقوق انسانی کی جہد کار تیستا سیتلواد کی جانب سے تاریخ پر لکھی گئی ایک ہینڈ بک شیواجی کے بارے میں بتاتی کہ شیواجی کشتریہ نہیں تھے ، اس طرح گنیش اتسو کے دوران تیار کردہ ایک خیرمقدمی کھات میں شیواجی کو مغل جرنیل افضل خاں کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہوئے دکھایا گیا جس پر سماج کے ایک بڑے طبقہ کے تیئں نفرت کے جذبات بھڑک اٹھے۔ بہترحال آر ایس ایس کی تقریب میں بابا نے پر زور انداز میں کہا کہ شیواجی مہاراج جنگوں سے تنگ آکر گرو سمرت سوامی رام داس کے پاس گئے ، اپنا تاج اتارا اور ان کے قدموں میں رکھ دیا۔ ساتھ ہی ان سے ا پنی سلطنت حاصل کرلینے کی درحواست کی ۔ دھریندر کرشنا شاستری کے اس بیان میں دو بڑی جھوٹ ہیں، پہلا جھوٹ یہ کہ رام داس شیواجی مہاراج کے گرو تھے ۔ رام داس شیواجی مہاراج کے گرو نہیں تھے بلکہ یہ جھوٹ اس لئے گھڑی گئی تاکہ شیواجی کو برہمن ثابت کیا جائے ۔ یہ معاملہ جب عدالت پہنچا جس نے یہ فیصلہ دیا کہ رام داس شیواجی کے گرو نہیں تھے اور شیواجی کی زندگی میں ایسے کسی واقعہ کا حوالہ بھی نہیں ملتا۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ دھریندر شاستری یہ بڑی جھوٹ آر ایس ایس سربراہ ڈاکٹر موہن بھگوت ، مرکزی وزیر نتن گڈکری اور چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڈنویس کی موجو دگی میں کہی اور حیرت اس بات پر ہے کہ کسی نے اس جھوٹ پر مبنی بیان پر اعتراض نہیں کیا۔ شواجی مہاراج کے دست راز اور معتمد خاص مولانا حیدر علی تھے۔ شیواجی مہاراج خواتین کا بہت احترام کیا کرتے تھے ۔ ان کی فوج نے بیسن کے مسلم حکمراں کی انتائی حسین و جمیل بہو بطور تحفہ انہیں پیش کی لیکن پورے عزت و احترام کے ساتھ شیواجی نے اس مسلم خواتین کو اس کے خاندان میں واپس کردیا لیکن دھریندر شاستری نے آر ایس ایس کے بنائے سربراہ کی موجودگی میں جن خیالات کا اظہار کیا وہ ایسا بیان ہے جو دراصل آر ایس ایس کو فروغ دیتا ہے۔ دوسرا تنازعہ بی جے پی کے حلیف ایکناتھ شنڈے شیوسینا ایم ایل اے ( جو حلقہ اسمبلی بلڈھانہ کی نمائندگی کرتے ہیں) سنجے گائیکواڈ سے متعلق ہے۔ انہوں نے اس پبلشر کی زبان کاٹ دینے کی دھمکی دی ہے جس نے 1988 میں معقولیت پسند گوئیند پنسارے کی کتاب ''شیواجی کون تھا'' ، شائع کی تھی۔ سنجے گائیکواڈ نے کتاب کے ٹائٹل اور متن میں مبینہ طور پر شیواجی مہاراج کا انتائی تحقیر آمیز انداز میں حوالہ پر اعتراض کیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گوئند پنسارہ نے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ۔ انہوں نے مذکورہ کتاب کے ڈسٹری بیوٹر پرشانت امبی کو دھمکی دی کہ ان کا بھی حشر گوئند پنسارہ کی طرح ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ گوئند پنسارہ کو مہاراشٹرا میں صبح کی چہل قدمی کے دوران قتل کیا گیا اور ان کا قتل ہندو قوم پرست گروپوں سے تعلق رکھنے والے شرپسند عناصر نے کیا۔ ریکارڈ شدہ فون کال میں سنجے گائیکواڈ نے مبینہ طور پر انتہائی گندی زبان استعمال کی اور کولہا پور کے رہنے والے پبلشر پرشانت امبی کو دھمکیاں دیں ، ان کا کہنا تھا کہ پرشانت امبی کا وہی حشر ہوگا جو گوئند پنسارہ کا ہوا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ گوئند پنسارہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیڈر اور معقولیت پسند جہد کار تھے۔ وہ معاشرہ کو توہم پرستی کی گندگی سے صاف رکھنا چاہتے تھے ۔ پنسارہ نے بڑی گہری تحقیق کے بعد مراٹھی میں شیواجی کون ہوتا (شیواجی کون تھا) کے زیر عنوان ایک کتاب لکھی۔ گائیکواڈ کے خیال میں پنسارہ نے کتاب کے ٹائٹل کے ذریعہ شیواجی مہاراج کی توہین کی ہے ۔ 1988 میں اس کتاب کی اشاعت عمل میں آئی ۔ تب سے اب تک لاکھوں کتابیں فروخت ہوچکی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ پنسارہ کی مذکورہ کتاب کے کئی ایک زبانوں میں ترجمے بھی کئے گئے ۔ اس طرح یہ کتاب زیادہ تر لوگوں کیلئے شیواجی پر ایک بنیادی کتاب بن گئی جس میں غریب کسانوں کے تئیں شیواجی کی تشویش و فکرمندی کے بارے میں بتایا گیا ۔ کتاب میں یہ بھی کیا گیا کہ شیواجی تمام مذاہب کا احترام کیا کرتے تھے ۔ ان کے دادا مالوجی راؤ بھوسلے نے صوفی سنت شاہ شریف کی درگاہ پر حاضری دے کر منت کی تھی کیونکہ انہیں بچے نہیں تھے ۔ بعد میں جب انہیں دو بچے ہوئے۔ انہوں نے ان کے نام شاہ جی اور شریف جی رکھے۔ شیواجی شاہ جی بھوسلے کے فرزند تھے ۔ ایک اور بات شیواجی نے پڑوسی ہندو راجاؤں پر حملے کرتے ہوئے اپنی سلطنت کی تعمیر کی اسے مستحکم کیا۔ بیجا پور کے عادل شاہی حکومت کے جرنیل افضل خان کے ساتھ شیواجی کی لڑائی میں ان کے ایک مسلم باڈی گارڈ رستم زمانے نے انہیں آہنی پنجہ دیئے۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ افضل خاں نے شیواجی کو شکست دینے کیلئے مقامی برہمنوں کے ذریعہ ایک کا اہتمام کیا اور افضل خاں کا سکریٹری کوئی مسلمان نہیں تھا بلکہ کرشنا جی بھاسکر کلکرنی ان کا سکریٹری تھا۔ شیواجی کی انسانی اقدار کا کوئی جواب نہیں۔ انہوں نے افضل خاں کو قتل کیا لیکن میں انہوں نے افضل خاں کا مقبرہ بھی بنوایا جو اج بھی موجود ہے۔ گائیکواڈ اور ہندو قوم پرستوں کے بیانات میں شیواجی کے ان پہلوؤں کو بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے بلکہ انہیں ایک مسلم دشمن راجہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ وہ مسلم دشمن نہیں تھے ۔ مہاراشٹرا میں اور سارے ہندوستان میں یہ پروپگنڈہ کیا جاتا ہے کہ شیواجی مسلم دشمن راجہ تھا۔

