Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
تعلیمی پالیسی یا سراب.

تعلیمی پالیسی یا سراب.

سیاست 2 days ago

تابناک روشن مستقبل کی ضمانت کا وقار تعلیمی نسل سے وابستہ ہے…

ساجد پیرزادہ
قوموں کے عروج و زوال کا ضامن اس ملک و قوموں کا نوجوان اور تعلیمی یافتہ طبقہ ھو تا ہے۔ کسی بھی ملک کے نظم کی اولین ترجیحات میں دفاعی نظام اور تعلیمی نظام اور اس کا نظم و نسق انتہائی مستحکم اور پالیسی کے اعتبار سے ہر کمزوری سے پاک ہوتا ہے۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ دفاعی نظام ملک کی سالمیت حفاظت ترقی اور سیکورٹی کی ضمانت دیتا ہے۔ داخلی اور خارجی خطرات اور ہر طرح کی سازشوں سے نمٹنے کے لیے ایسی پالیسی مرتب کرتا ہے جو فولاد سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔ اسی طرح سے تعلیمی نظام کا استحکام اور تعلیمی پالیسی کسی بھی طرح کی کمزوری اور ناقص نظم و نسق سے پاک ہوتی ہے اس لیے کہ تعلیمی نظام کا دارومدار ملک کے ائندہ نسل کی ترقی کامیابی کامرانی سربلندی سرخروئی کی ضمانت دیتی ہے ،نئی تعلیمی پالیسی بنانے والوں نے پالیسی اس طرح سے بنائی ہوگی جو طلباء کی تعلیمی سفر میں معاون و مددگار ہوگی اور انہیں منزل مقصود تک پہنچنے میں دشواریوں و مشکلات سے ہر صورت کا سامنا کرنے کی قابلیت پیدا کرتی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ اس تعلیمی سفر کے دوران ان کی امید و ارزو اور محنت شاخ کا پر جب کوئی انچ اتی ہے تو ان کے ارادوں کو متزلزل کر دیتی ہے ان کا حوصلہ پست کر دیتی ہے اور اس کی راست ذمہ داری وہ نظام تعلیم ہے وہ نظم و نسق ہے جو پالیسی ساز اداروں میں بیٹھنے والوں کی طرف سے بنایا جاتا ہے قابل غور بات یہ ہے کہ تقریبا ہر سال طلبہ کے اگے کچھ ایسی دشواریاں رونما ہو رہی ہیں جو ان کے ارادوں کو اور حوصلوں کو پست کرنے کے لیے کافی ہے، اس وقت سارے ملک میں نیٹ ایگزام کے سلسلے امتحانی پرچے کا افشا سے طلباء میں اور سرپرستوں میں جن کی تعداد لگ بھگ 22 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے بے چینی اور مایوسی کا شکار ہو چکی ہے ۔ اس اچانک رونما ہوئے حادثہ نے طلبا کے ساتھ ساتھ ان کے سر پرستوں کو والدین کو اساتذہ کو اور بہت سارے ادارے جنہوں نے دیانت داری اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنے اپنے طلباء کے لیے جو خواب دیکھا تھا وہ ایک حد تک چکنا چور ہو چکا ہے، 2017 اور پھر 2021 اور پھر 2024 میں اس طرح کا حادثہ پیش آچکا جس میں عین امتحان سے قبل پیپر لیگ جس میں عین امتحان سے قبل پیپر لیک ہو چکا۔ لیکن افسوس صد افسوس اج تک قاتلوں کو نہ سزا ملی اور نہ یہ سلسلہ بند ہوا لہذا گزشتہ تین مرتبہ یہ اس گھناونی حرکت کے باوجود کوئی ایسا مستحکم قدم نہیں اٹھایا گیا جو طلبہ میں اطمینان اور ان کے ارادوں اور حوصلوں کو تسکین پہنچا سکے ۔افسوس صد افسوس اس پر ہے کہ چند دن بعد نیٹ کا امتحان ہونے والا تھا لیکن پھر وہی گھناونی حرکت وقوع پذیر ہو چکی ہے۔ نیٹ کے پیپر لیک کی وجہ سے سارے ملک میں بے چینی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ سوال اس بات پر ہے کہ آخر طلبہ کے ساتھ یہ کھلواڑ کب تک؟ اور وہ خاطی جنہوں نے یہ حرکت کی ان کو ڈھیل اور چھوٹ کیوں کر.؟ اگر تعلیمی نظام اور حل و عقد اس نظام کو تحفظ فراہم کرنے والے سنجیدہ ہوتے تو کیا اس طرح کا واقعہ رونما ہوتا…؟ نیٹ کا ایگزام ملکی امتحان ہے کسی ایک ریاست کسی ایک یونیورسٹی یا کسی ایک ادارے کا امتحان نہیں ہے۔ یہ تعلیمی نظام کی ناقص کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے اس سے اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ جو عہدے دار اس نظام کے چلانے پر مامور کیے گئے ہیں وہ ناکام ہو چکے ہیں تقاضا وقت یہ ہے کہ فورا طلباء میں پھیلی بے چینی اور مایوسی کو فورا دور کیا جائے اور مستقل حل اس کا تلاش کیا جائے۔ نالائق رشوت خور داغدار عہدے داروں کو نہ صرف برخواست کیا جائے بلکہ کڑی سے کڑی سزانے دی جائے اور طلباء میں ائے ہوئے ناکامی اور مایوسی کے بادل کی جگہ ایک صاف ستھرا ماحول پیدا کیا جائے اور انہیں یقین دلایا جائے کہ ان کے ایک ایک لمحے کا ایک ایک دن کا تحفظ کیا جائے گا اور قدر کی جائے گی اور ان کی قیمتی وقت کا انہیں بہترین سمر اور بدلہ دیا جائے گا۔ اس ضمن میں تمام ریاستوں سے نیک اور پاک باز عہدے داروں کی اور انتہائی قابل اساتذہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جس کی سر پرستی کوئی سیاسی قائد نہ کرے بلکہ کوئی دیانت دار سپریم کورٹ کا جج یا ہائی کورٹ کا جج یا کسی یورونیورسٹی کا وائس چانسلر کو مقرر کیا جائے۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu