ایک اور مسجد سے محرومی… کمال مولیٰ مسجد بھوج شالہ ہوگئی میلونی کو میلوڈی … عوام کو وعدوں کی ٹافی
رشیدالدین
بابری مسجد کے بعد کمال مولیٰ مسجد بھی چھین لی گئی اور مسلمان کچھ نہ کرسکے۔ ملک کی ایک اور سجدہ گاہ کو بت کدہ میں تبدیل کردیا گیا اور مسلمان بے حس ، مجبور اور لاچار کی طرح احتجاج تو دور کی بات ہے، آنسو بہانے تیار نہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں کوئی دیکھ نہ لے اور بلڈوزر ان کے گھر پہنچ نہ جائے۔ بابری مسجد کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مسلمانوں نے جس طرح من و عن قبول کرلیا ، اس کے بعد ہی ایسے فیصلوں کے امکانات بڑھ گئے اور فرقہ پرستوں کے نشانہ پر 3000 سے زائد مساجد بتائی جاتی ہیں، جنہیں مندر میں تبدیل کرنے کی سازش ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تاج محل ، قطب مینار اور لال قلعہ میں بھی پوجا کی اجازت دے دی جائے گی۔ مرکز میں بی جے پی اقتدار کے بعد ہندوتوا طاقتوں کے حوصلے اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اجمیر شریف پر بھی مندر کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ تاریخی مساجد کے بعد بزرگان دین کی مزارات اور آستانے بھی اب محفوظ نہیں رہے۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مساجد پر بلڈوزر کارروائیاں عام ہوچکی ہیں۔ بابری مسجد کے بارے میں 9 نومبر 2019 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کا ایسڈ ٹسٹ تھا۔ مودی حکومت فیصلہ کے اثرات کے بارے میں خوفزدہ تھی لیکن مسلمانوں نے بے حسی کی حد کردی اور فیصلہ کے خلاف ایک چوہا بھی بل سے باہر نہیں نکلا۔ وہ قوم جس نے کبھی شریعت میں مداخلت کو روکنے مرکزی حکومت کو دستوری ترمیم کیلئے مجبور کیا، آج وہ ایمانی حرارت اور جرأت اور حمیت سے عاری ہوچکی ہے۔ پھر کیا تھا حکومت اور عدلیہ دونوں کو مسلمانوں کے خلاف فیصلوںکا جیسے لائسنس مل گیا ہو۔ شاہ بانو کیس میں عدالت کے ایک فیصلہ پر راجیو گاندھی حکومت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا گیا تھا لیکن آج شریعت کے خلاف عدالتوں کے فیصلے معمول بن چکے ہیں۔ طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کی گئی لیکن مسلمان خاموش رہے۔ ایک سے زائد شادی پر پابندی کی تیاری ہے اور وراثت کے اسلامی قانون کو تبدیل کردیا جائے گا۔ ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ سے قبل بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں کامن سیول کوڈ کے نفاذ کا آغاز ہوچکا ہے ۔ اگر بے حسی کا یہی عالم رہا تو 2029 تک ہندوستان کو ہندو راشٹر قرار دیا جائے گا اور کوئی بھی مزاحمت نہیں ہوگی۔ اتر پردیش کے مدارس میں سرسوتی وندنا کے لزوم کے خلاف مولانا ابوالحسن علی ندوی علی میاں کی ایک دھمکی نے حکومت کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کردیا تھا لیکن آج مغربی بنگال اور اترپردیش کے دینی مدارس میں وندے ماترم کو لازمی کردیا گیا ہے۔ اذان پر پابندی اور مساجد کے باہر نماز کی ادائیگی کی صورت میں مقدمات کی دھمکی کے ذریعہ مسلمانوں کے حوصلے پست کردیئے گئے اور دوسرے درجہ کے شہری کا احساس پیدا کردیا گیا۔ ٹرینوں میں مسلمان مرد نشانہ بن رہے تھے، داڑھی اور ٹوپی والے کو ماب لنچنگ کی جارہی تھی لیکن اب برقعہ پوش اور حجاب کرنے والی خواتین کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے صبر کا امتحان آخر کب تک لیا جاتا رہے گا اور سیاسی و مذہبی قیادت کے دعویداروں کی ملی حمیت آخر کب جاگے گی۔ مدھیہ پردیش ہائیکورٹ میں 15 مئی کو دھار میں واقع مسجد کمال مولیٰ اور بھوج شالہ کے طویل تنازعہ کو ہمیشہ کیلئے ختم کرتے ہوئے مندر کے حق میں فیصلہ سنایا اور پوجا کی اجازت دے دی گئی؟ جسٹس وجئے کمار شکلا اور جسٹس الوک اوستھی پر مشتمل بنچ نے 2003 سے مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت کو بھی منسوخ کرتے ہوئے سرسوتی مندر تسلیم کرلیا۔ جسٹس رنجن گوگوئی کی زیر قیادت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلہ کی یاد تازہ ہوگئی۔ مدھیہ پردیش ہائیکورٹ میں بابری مسجد فیصلہ کی طرح مسجد کمال مولیٰ کے لئے متبادل اراضی کی تجویز پیش کی ہے۔ بابری مسجد کے معاملہ میں تمام شواہد اور دستاویزات کے مسجد کے حق میں ہونے کے باوجود آستھا کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا تھا۔ ٹھیک اسی طرح مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی اس رپورٹ کو نظر انداز کردیا جو اوما بھارتی کے چیف منسٹری کے دور میں عدالت میں پیش کی گئی تھی۔ اے ایس آئی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مسجد کمال مولیٰ میں مندر کے وجود کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ عدالت کا فیصلہ 1991 کے عبادتگاہوں سے متعلق قانون کی خلاف وزی ہے جس کے تحت آزادی کے وقت جس عبادتگاہ کا جو موقف تھا ، اسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عدلیہ پر بی جے پی حکومت کے مکمل کنٹرول کے نتیجہ میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے یکطرفہ فیصلہ سنادیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر نیشنل میڈیا خاموش ہے اور گودی میڈیا نے بھی اس پر پرائم ٹائم میں بحث نہیں کی تاکہ مسلمانوں کو دیگر مسائل میں الجھاکر رکھ دیا جائے ۔ SIR ، مردم شماری ، عیدالاضحی کے موقع پر بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی ، گاؤ رکھشکوں کے مسلم تاجروں پر حملے اور بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں نت نئی پابندیوں کے ذریعہ عبادتگاہوں کے تحفظ کے بارے میں مسلمانوں کی دلچسپی کو خوف میں تبدیل کردیا گیا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن ماہرین کے مطابق حاصل کچھ نہیں ہوگا۔ بابری مسجد کے بارے میں عدلیہ نے جو کیا ، وہی کمال مولیٰ مسجد کے معاملہ میں دہرایا جائے گا ۔ اپیل سے انصاف کی امید اس وقت کی جاسکتی ہے جب عدلیہ آزاد اور غیر جانبدار ہو۔ حکومت سے جب ججس کو یہ ضمانت مل جائے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد اہم عہدوں پر مامور کیا جائے گا تو پھر مسلمانوں کو دیگر عبادتگاہوں کے سلسلہ میں اسی طرح کے فیصلوں کا انتظار کرنا ہوگا۔ بابری مسجد فیصلہ میں شریک تمام پانچ ججس کو ریٹائرمنٹ کے بعد اہم عہدے دیئے گئے جس کی زندہ مثال گورنر آندھراپردیش جسٹس عبدالنذیر ہیں، جو پانچ رکنی بنچ کے واحد مسلم جج ہونے کے باوجود مسجد کی اراضی مندر کو دیئے جانے پر کوئی اختلافی نوٹ تک نہیں لکھا۔مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ سے مساجد پر مندروں کی دعویداری کے حق میں عدلیہ کے فیصلوں کا فلڈ گیٹ کھل جانے کا اندیشہ ہے ۔ جب بھی مساجد ، شریعت یا اسلام کے خلاف عدلیہ سے کوئی فیصلہ آئے یا حکومت کوئی قدم اٹھائے تو مسلمان مذہبی اور سیاسی قیادت کی طرف امید کے ساتھ دیکھنے لگتے ہیں کہ وہ اقتدار وقت سے ٹکرائیں گے اور مساجد اور شریعت کا تحفظ کریں گے۔ ہندوستان میں وہ مذہبی اور سیاسی قیادت باقی نہیں رہی جس کی باگ ڈور علی میاں ندوی، مجاہد الاسلام قاسمی ، منت اللہ رحمانی، بنات والا اور ابراہیم سلیمان سیٹھ جیسے بے باک اور بے لوث قائدین کے ہاتھ میں تھی۔
غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم ۔ یہ ظلم نہ کر۔ وزیراعظم نریندر مودی کے بیرونی دوروں کے موقع پر جو حرکتیں کی گئیں ، اس پر عوام کو بے ساختہ یہ فلمی نغمہ یاد آگیا۔ متحدہ عرب امارات کے حکمراں سے نریندر مودی جس انداز میں بغلگیر ہوئے اور دور سے اپنی باہیں پھیلاکر عرب حکمراں کو اپنے اندر سمیٹنے کی جس طرح کوشش کی ، ایسا محسوس ہوا جیسے دو بچھڑے ہوئے بھائی برسوں بعد مل رہے ہوں۔ سیاسی مبصرین نے سوال کیا کہ نریندر مودی کو ملک کے مسلمانوں کو گلے لگانے میں کیا اعتراض ہے۔ ہندوستانی مسلمان بھلے ہی عرب حکمراں کی طرح قیمتی عطر نہ لگاتے ہوں لیکن ان کے بدن سے وطن کی مٹی کی خوشبو ضرور آئے گی۔ نریندر مودی ہمیشہ ہندوستان سے باہر زیادہ خوش دکھائی دیتے ہیں ، ہندوستان میں شائد ہی ان کی کھلکھلاکر ہنستے ہوئے کوئی تصویر ہو۔ سرکاری اجلاس ہو یا پارٹی کی میٹنگس وہ سنجیدہ اور غصہ میں دکھائی دیتے ہیں۔ عرب حکمرانوں کو گلے لگانے اور دبئی کو اپنا دوسرا گھر قرار دینے والے نریندر مودی نے ہندوستان میں شمشان۔ قبرستان کی سیاست کی۔ مسلمانوں کو زیادہ بچے پیداکرنے والے اور ہندوؤں کے منگل سوتر چھیننے والے قرار دیا۔ لباس سے شر پسندوں کی شناخت کی بات کہی لیکن جب کبھی عرب حکمرانوں سے ملاقات کرتے ہیں تو صرف عرب لباس زیب تن کرنا باقی رہتا ہے۔ مودی نے اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی کو ہندوستان کی ''میلوڈی'' کا تحفہ پیش کیا ۔ وزیراعظم کا کوئی بھی فیصلہ مطلب سے خالی نہیں ہوتا اور نریندر مودی نے میلونی کو میلوڈی پیش کرتے ہوئے ہندوستان کی مارکٹ میں میلوڈی کے اسٹاک کو چند گھنٹوں میں ختم کردیا۔ میلوڈی کا تحفہ ہندوستانی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔ ہندوستان میں معاشی بحران سے عوام پریشان ہیں، قیمتوں میں اضافہ میں عام آدمی کی کمر توڑدی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نریندر مودی نے میلونی کو میلوڈی پیش کرتے ہوئے ہندوستانی عوام سے کہا ہے کہ ''میلوڈی کھاؤ اوراپنے مسائل کا حل جان جاؤ''۔ اٹلی کی وزیراعظم کو میلوڈی کا تحفہ جبکہ ہندوستانی عوام کو گزشتہ 12 برسوں سے وعدوں کی ٹافی دی جارہی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ پر منور رانا کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
ہے میرے دل پہ حق کس کا حکومت کون کرتا ہے
عبادت گاہ کس کی ہے عبادت کون کرتا ہے

