کیا حرم کا تحفہ زم زم کے سوا کچھ بھی نہیں!!
ڈاکٹر محمد سراج الرحمن
آفتاب اسلام کی روشنی سے قبل بھٹکی انسانیت ''گمراہ قوم اپنی۔ اندھی بصیرت، رب ذول جلال کی ذات عالی کی منکر اندھی تقلید میں گھری قوم، راہ ہدایت سے بعید یہ قوم جب حج کا موسم آجاتا تو جوق درجوق جاہلانہ رسومات کے ساتھ مکہ مکرمہ کا رخ کرتی، اپنی اپنی سواریوں کو اپنی مرضی، جاہلانہ رسومات سے سجاتے، موسیقی، کرتے ہوئے جب مکہ میں ان بھٹکی زائرین کی چہل پہل گہما گہمی بڑھ جاتی تو حضور اقدس ؐ بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہ ہدایت کا پیغام پہنچانے تڑپ اٹھتے، کعبۃ اللہ جو 360 بتوں کا مرکز بنا ہوا تھا، گمراہ، بے دین قوم کے باطل طور طریقوں کو دیکھ کر پیغمبر اسلام کی بے چینی بے قراری اور بھی بڑھ جاتی۔ تب حضور اقدس ؐ چند معتبر گنے چنے صحابہ کرام کو لے کر جن میں یار غار حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ساتھ کبھی مکہ کی گلیوں میں کبھی عکاظ کے بازاروں میں کبھی حرا کے میدانوں میں، کبھی مکہ کی پہاڑیوں، یا منی کے خیموں اور وادیوں میں کبھی رات کے اندھیروں میں چھپ کر، کبھی علانیہ بذات خود اعلائے کلمۃ الحق کے ذریعہ دعوت دین حق کا صداقت کا پیغام پہنچاتے تاکہ بھٹکی ہوئی گمراہ انسانیت لاعلمی کی وجہ سے جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائے۔
یہ قوم جن کی عقل روشن روح تاریک، توحید و رسالت کی منکر کو راہ ہدایت و نجات کے پیغام کو عام کرنے میں حج کے سیزن کا بھرپور فائدہ اٹھاتے یہی پیغام حق، توحید و رسالت کا اعلان کرتے تو پیغمبر اسلام کے ساتھ اتباع میں اترنے والے جاں نثار صحابہ کرام کو مصیبتیں، تکالیف، جان لیوا حربوں کا سامنا کرنا پڑتا جبکہ اسلام کی حقانیت اور پیغمبر اسلام کے تعلق کے سامنے یہ تمام تکالیف کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔
حجاج کرام کو یہ جان لینا چاہئے یہ مکہ مکرمہ کی وہی سرزمین ہے جو آج آرام دہ، ایر کنڈیشنڈ مقام جہاں یہ طواف اور سعی دیگر ارکان حج آرام سے ادا کررہے ہیں یہ وہی جگہ ہے جہاں میرے آقا ؐ پر پتھر برسائے گئے، جان لیوا حملے ہوئے، اونٹ کی اوجھڑی حالت سجدہ میں ڈالی گئی، پہاڑیوں پر 3 سال قید مشقت (شعیب ابی طالب) کی مصیبتیں جھیلنی پڑی۔ حضرت بلال ؓ کو گرم ریت پر لٹایا گیا۔ سینہ پر پتھر لادا گیا۔ حضرت حبیب ؓ کو آگ میں لٹایا گیا۔ حضرت خباب ؓ کو سولی پر چڑھایا گیا۔ حضرت سمیہ ؓ کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ حضرت زینب ؓ کو گلے میں رسی ڈال کر شہید کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے انگنت مصیبتیں سہنے کے بعد ہم کو یہ سرزمین امن والی بنی اور حجاج پرسکون ماحول میں ارکان حج ادا کررہے ہیں۔ کعبۃ اللہ کے درو دیوار میدان و پہاڑ، غار و بازار میں اسلامی پرچم بلند کرنے کے لئے صحابہ کرام کی قربانیوںکی یاد دلارہی ہے بلکہ حجاج کرام کو للکار رہی ہے کہ اے حاجی یہاں جہاں تو جسمانی و روحانی تسکین کا سامان تلبیہ کے ذریعہ حاصل کررہا ہے، بے شمار قربانیاں دی جاکر امن کا گہوارہ بنا ہے۔ ان صحابہ کرام کی قربانیوں کو قدم قدم پر یاد رکھنا، فریادوں کو حاجی صاحبان کو نہیں بھولنا چاہئے۔
اسی عرفات کے میدان میں یوم عرفہ کو جبل رحمت کے دامن میں اپنی اوٹنی قصوہ پر سوار پیغمبر اسلام نے ایک جامع خطبہ دیا جو رہتی دنیا تک کے لئے عظیم منشور اعلیٰ دستور جامع قانون، واضح احکامات ہیں اپنے ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام کے قیمتی مجمع کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا جس عظیم اجتماع میں مہاجر بھی ہیں۔ انصار بھی ہیں اہل بیت بھی، خلفائے راشدین، عشرہ مبشرہ، بدری صحابہ، احد کے جان باز، احزاب کے بہادر حنین کے تیر انداز، جہاں امت کو آگاہ کیا، ہمارا مرتبہ بھی سمجھایا، قیامت تک کے لئے ہماری سربلندی کا انتظام فرمایا، نسخہ کیمیاء، فرض منصبی سکھایا، سسکتی بلکتی دم توڑتی انسانیت کو Life Saving day زندگی سنوارنے کا نسخہ ہمارے ہاتھ تھمایا، دعوت دین کی اہمیت سمجھائی، بتایا یہ پیغام ہر گھر پہنچاؤ، دردر پہنچاؤ، یہ ایسا نسخہ ہے جو ہر قوم میں چلیگا، ہر ملک میں چلے گا، ہر زمانے میں چلے گا، ہر مکان میں، یہ عظیم ذمہ داری نبھانا بھی اسلام کا تکمیل رکن حج کی ادائیگی کی روح ہے۔ جمعۃ الوداع کے آخر میں صحابہ کرام سے مخاطب کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے تلقین کی (جمعۃ الودع کا یہ عظیم خطبہ پیغمبر اسلام نے عرفات میں، مزدلفہ، منی، جمرات، مقام غدیر میں دھرایا، جس سے اس کی جامعیت اور ضرورت کا اندازہ ہوتا ہے) کے جتنے لوگ یہاں حاضر ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ یہ خطبہ کے پیغام کو غائبین تک پہنچائیں، حجاج پر یہ لازمی ذمہ داری عائد ہوتی ہے بلکہ ہر کلمہ گو امتی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان حکایات کو ساری روئے زمین، ہر کچے پکے مکان ہر خشک و تری تک پہنچائیں۔ ہم کیسے امتی ہیں کیسے حاجی ہیں حج جس کا عظیم مقصد کلمہ طیبہ کو عام کرنے کی محنت، توحید و رسالت کا پیغام جنگی بنیادوں پر پھیلانے کا کام مثبت طور پر عام کرنا ہے بھول گئے۔حقیقت میں اسلام کی ہر عبادت صرف ایک رسم بن گئی ہے، افسوس بلکہ ستم بالائے ستم حج جیسا اہم تکمیل رکن بھی اس رسم کی کڑی بن گیا ہے۔ نتیجتاً حج کے متوقع فوائد ہمیں قوم و ملت کو حاصل نہیں ہو رہے ہیں۔
اگر ہر حاجی امت وحدہ کا تصور لے کر مشن رسول ؐ عام کرنے کا جذبہ و ایثار، دعوت دین حق کی محنت کا مقصد بناکر تڑپ کے ساتھ اپنے مقامات کو واپس ہوتا ہو کہ عملی میدان میں دیوانہ وار محنت دین حق سے جڑ جائے گا تو یقینی طور پر روح حج کی تکمیل نصیب ہوگی، بلکتی، حق کی متلاشی انسانیت جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائے گی، امت کا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال ہوگا۔ ہند اور ساری روئے زمین میں کھویا ہوا اسلام کا وقار، مقام ملے گا، اسلام کے خلاف منفی پروپگنڈہ پست ہوگا۔ آج بھی حجاج کرام روح حج، مقصد حج جان گئے تو امت کا بیڑہ پار اور ہماری دنیا و آخرت کی کشتی کنارہ ساحل پر کامیابی کے ساتھ گامزن ہو جائے گی ورنہ بقول علامہ اقبال ؒ ؎
زائرین حج سے اقبال پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زم زم کے سوا کچھ بھی نہیں
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے امت مسلمہ کو ساری انسانیت کو راہ نجات کا ذریعہ بنائے، پیغمبر اسلام ؐ کے مشن کو عام کرنے کی سرخروئی والی زندگی گذارنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

