٭ ہندوستان کی روح زخمی ، جمہوریت کا قتل٭ نفرت انگیز جرائم اور امتیازی قوانین کے سایے میں سسکتی جمہوریت
٭ یکساں سیول کوڈ کا کالا قانون ، نشانہ صرف اور صرف مسلمان
٭ اسکولس میں وندے ماترم کا تنازعہ ، بلڈوزر کا ننگا ناچ
٭ مذہبی آزادی بمقابلہ سرکاری مداخلت
٭ عیدالاضحی سے قبل نئی شرائط ، سرٹیفکیٹ کے بغیر قربانی نہیں
محمد نعیم وجاہت
ملک میں حالیہ برسوں کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی و سماجی صورتحال نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کردیا۔ آسام میں یکساں سیول کوڈ، مغربی بنگال میں وندے ماترم، عیدالضحی سے قبل گاؤکشی پر پابندیاں، مدھیہ پردیش میں لوجہاد کے نام پر حملے، گزشتہ چار ماہ کے دوران نفرت انگیز تقاریر، بلڈور کارروائیاں اور امتیازی سلوک جیسے واقعات، 13 مسلمانوں کو ہلاک کرنے جیسے سنگین واقعات نے ملک کی فرقہ وارانہ فضاء پر سوالات کھڑے کردیئے۔ ملک کی حالیہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی اور ہندوتوا طاقتوں نے سیاسی مفاد پرستی کیلئے زہریلی اور نفرت انگیز مہم چلائی یقیناً اس مہم سے بی جے پی کو 5 کے منجملہ 4 ریاستوں میں سیاسی فائدہ ہوا ہے، مگر ملک کی گنگا۔جمنی تہذیب، سماجی اتحاد کو بری طرح سے نقصان پہونچایا ہے۔ بی جے پی کی انتخابی مہم کا اصل موضوع، مسلمان، پاکستان، بنگلہ دیش، لوجہاد، لینڈ جہاد، مسلمانوں کی چار شادیاں، ملاؤں کو بھگاؤ، دینی مدرسوں کے خلاف زہر اگلا گیا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 10 سال سے بی جے پی کی حکومت ہے۔ اب تیسری میعاد کیلئے بھی بی جے پی حکومت قائم ہوئی ہے مگر بنگلہ دیشیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا بلکہ ہر الیکشن میں اس کو موضوع بحث بنایا گیا۔ مغربی بنگال پر قبضہ کرنے کیلئے جتنی شرانگیزی کی جاسکتی تھی، اس سے کئی گنا زیادہ کی گئی۔ نئے چیف منسٹر سوویندو اَدھیکاری نے بی جے پی کے نعرے ''سب کا ساتھ ، سب کا وکاس'' کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ مسلمانوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا لہذا ان کی حکومت مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی کام نہیں کرے گی۔ صرف ہندوؤں کی ترقی اور بہبود کیلئے کام کرے گی۔ آسام کی سیاست میں اس وقت ایک نیا تلاطم برپا ہوا جب ہیمنت بسوا سرما کی حکومت نے یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی باقاعدہ منظوری دی جس نے سارے ملک میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ چیف منسٹر 26 مئی کو آسام اسمبلی میں کامن سیول کوڈ (UCC) پیش کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلمانوں کیلئے محض ایک قانونی تبدیلی نہیں بلکہ ان کی مذہبی اور سماجی شناخت پر یہ ایک راست حملہ ہے۔ اس قانون کا سب سے متنازعہ پہلو وہ دوہرا معیار ہے جس کے تحت ریاست کے قبائیلیوں کو اس کے دائرہ کار سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا۔ قبائل کی روایت اور رسم و رواج اور شادی بیاہ میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ قبائیلیوں کو دی گئی چھوٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ قانون کی یکسانیت کا دعویٰ صرف ایک دکھاوا ہے اور اس کا اصل مقصد مسلمانوں کی آزادی کو ہی ختم کردینا ہے۔ مجوزہ UCC قانون کے تحت شادی، طلاق، وراثت اور شادی کا لازمی رجسٹریشن معاملات راست حکومت کے کنٹرول میں آجائیں گے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی مذہبی طریقے سے کی جانے والی شادیاں اور طلاق کے شرعی طریقوں پر پابندی لگ جائے گی۔ جائیداد کی تقسیم کے اسلامی قوانین متاثر ہوجائیں گے جو کہ مسلمانوں کیلئے ان کے ایمان کا حصہ ہیں۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کی نئی حکومت نے عیدالضحی سے قبل قربانی سے متعلق نئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں جس کے بعد مغربی بنگال میں نئی بحث چھڑچکی ہے۔ حکومت کے جاری کردہ احکام کے مطابق گائے، بھینس، بیل اور بچھڑوں کی قربانی کیلئے خصوصی سرٹیفکیٹ لازمی ہوگا جو مقامی گرام پنچایتوں اور میونسپل کارپوریشن کے سربراہ یا سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کی منظوری سے جاری کیا جائے گا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری اور امدادی اسکولس میں عید کے موقع پر قربانی یا اس کی تشہیر کی اجازت نہیں ہوگی۔ جبکہ قربانی سے متعلق ویڈیوز یا مواد پھیلانے پر بھی امتناع عائد کردیا گیا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایک ہزار سے 2 لاکھ روپئے تک کا جرمانہ عائد کرنے کا انتباہ دیا گیا ہے۔ چیف منسٹر سوویندو اَدھیکاری نے ریاست کے تمام اسکولس میں وندے ماترم کو لازمی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب مسلم تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے ان فیصلوں کو مسلمانوں کی مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اعتراض کیا ہے۔ ملک میں گزشتہ چند برسوں سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ کبھی حجاب، کبھی اذان، کبھی دینی مدارس اور اب قربانی جیسے حساس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ ایسے فیصلے ایک ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب ملک میں سماجی
ہم آہنگی کی شدید ضرورت ہے۔ معاشی مشکلات، بیروزگاری اور مہنگائی جیسے اہم مسائل کے درمیان مذہبی معاملات کو سیاسی بحث کا محور بنانا نہ صرف عوام کی توجہ کو اصل مسائل سے ہٹانا ہے بلکہ سماج کو تقسیم بھی کرنا ہے۔ ملک کی طاقت اس کے تنوع اور مذہبی رواداری میں پوشیدہ ہے۔ اگر کسی بھی طبقے کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی مذہبی شناخت یا روایات کو محدود کیا جارہا ہے تو یہ احساس صرف ایک کمیونٹی تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے کیلئے خطرہ کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں، قانون کے نفاذ اور مذہبی آزادی کے درمیان توازن قائم کریں۔ ایسے فیصلے جن سے کسی مخصوص طبقے میں خوف، بے چینی یا محرومی کا احساس پیدا ہو۔ ان پر سنجیدگی سے نظرثانی ہونی چاہئے کیونکہ ایک مضبوط جمہوریت کی بنیاد صرف قوانین نہیں بلکہ تمام شہریوں کے ساتھ مساوی احترام، انصاف اور اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ ملک میں مسلمانوں کے خلاف بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں نفرت انگیز، جرائم میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ مختلف رپورٹس سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ جاریہ سال کے ابتدائی چارہ ماہ کے دوران 13 مسلمان نفرت پر مبنی جرائم کے سبب اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان واقعات کے پیچھے مبینہ گائے کی اسمگلنگ، مذہبی شناخت اور فرقہ وارانہ کشیدگی جیسے عوامل شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریاستی عہدیداروں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ مسلمانوں کو نہ صرف جسمانی تشدد بلکہ قانونی اور سیاسی طور پر بھی حاشیے پر ڈھکیلا جارہا ہے۔ کئی ریاستوں میں مسلمانوں کو ماؤرائے قانون کارروائیوں، غیرمنصفانہ گرفتاریوں اور ووٹر لسٹ سے نام حذف کئے جانے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ بعض ریاستوں میں مسلمانوں کی جائیدادوں اور گھروں کے خلاف بلڈوزرس کارروائیوں نے مسلمانوں میں شدید خوف و ہراس پھیلادیا۔ مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم پر ثابت کرتے ہیں کہ ملک کی جمہوری اقدار اور دستور بالا دستی اس وقت ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانے اور دوسرے طبقات کو ان قوانین سے استثنیٰ دینے جیسے دوہرے معیار سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہونے اور خلیج کے مزید وسیع ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ جب تک قانون کا نفاذ مذہب یا شناخت کی بنیاد پر امتیاز کے بغیر یکساں طور پر نہیں ہوگا تب تک اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس ختم نہیں کیا جاسکتا۔افسوس کی بات یہ ہے کہ اب مغربی بنگال اور بہار میں حکومتوں نے ان افراد کو سماجی بہبودی اسکیمات سے محروم کرنے کا اعلان کیا جن کے نام ایس آئی آر میں نہیں آیا۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نفرت انگیز جرائم کے خلاف سخت کارروائی کریں اور تمام شہریوں کو یکساں تحفظ فراہم کرکے ملک میں امن و امان کے استحکام کو یقینی بنائے۔

