: ( خواجہ معز الدین قتل کیس ) :جائیدادیں ملت کا اثاثہ ، تحفظ کے لیے اقدامات ناگزیر ، وقف بورڈ کی غفلت ناجائز قبضوں کی وجہ بن سکتی ہے
حیدرآباد۔30۔مئی ۔(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے سرکردہ تعلیمی اداروں انوارالعلوم ' ممتاز کالج کے علاوہ اعزہ اسکول و ممتاز یارالدولہ وقف جائیدادوں کا مستقبل کیا ہے!تلنگانہ وقف بورڈ ممتاز یارالدولہ وقف جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی اقدام کرے گا یا خاموش تماشائی بنا رہے گا!وقف قوانین کے مطابق وقف بورڈ متولی یا انتظامی کمیٹی کو اسی صورت میں معطل کرنے کا مجاز ہے جب انتظامی کمیٹی میں شامل فرد یا افراد یا متولی کسی معاملہ میں ملزم سے مجرم ثابت ہوجائے اور اسے کم از کم 2 سال قید کی سزاء سنائی جائے ۔ وقف ایکٹ کی دفعات 16,50Aاور 64 کی رو سے کسی رکن ' متولی یا انتظامی کمیٹی کو محض اسی صورت میں معطل یا برخواست کیا جاسکتا ہے جب جرم ثابت ہونے کے بعد سزاء سنائی جائے۔ممتاز یارالدولہ وقف جائیدادکا تنازعہ کوئی نیا تنازعہ نہیں ہے بلکہ اس جائیداد کے تنازعہ نے دو فریقین کے درمیان اس قدر رنجش پیدا کردی کہ ایک فریق کو اپنی زندگی گنوانی پڑی جبکہ دوسرے فریق کو جیل جانا پڑا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ اگر اپنی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات کا متحمل نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس طرح کے قتل معمول کی بات ہوجائیں گے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے تحت موجود جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کئے جانے والے اقدامات اگر سیاست سے پاک ہوں تو ہی موقوفہ جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ ممتاز یارالدولہ وقف کے تحت موجود تعلیمی اداروں اور اراضیات کے سلسلہ میںجاری تنازعہ کے دوران تلنگانہ وقف بورڈ کی مسلسل خاموشی اور لاپرواہی کے نتیجہ میں جناب خواجہ معز الدین کا قتل ہوا ہے ' اگر وقف بورڈ ان اداروں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر مؤثر کاروائی کرتا تو شائد یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی ۔ اب جبکہ ان اداروں کے منتظمین بالخصوص محبوب عالم خان اور ان کے فرزند مجاہد عالم خان کو خواجہ معز الدین ایڈوکیٹ کے قتل کے الزام میں سازش رچانے کے الزامات کے تحت گرفتار کیا جاچکا ہے تو ایسی صورت میں وقف بورڈ کسی طرح کی کاروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے یا پھر مز ید حالات کے بگڑنے کے انتظار میں ہے!شہر حیدرآباد کے ان سرکردہ تعلیمی اداروں اور ان کی اراضیات دراصل ملت کا اثاثہ ہیں اور ملت کے نوجوانوں کو اس سے استفادہ کا پورا موقع فراہم کیا جانا چاہئے اور تلنگانہ وقف بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان جائیدادوں پر کسی کی نگاہ بد پڑے اس سے قبل ان اداروں اور ممتاز یارالدولہ وقف کے تحت موجود جائیدادوں کے تحفظ کے لئے کسی نگران کو مقرر کرتے ہوئے اراضیات کو قبضہ جات سے پاک بنائے رکھنے کے اقدامات کرے تاکہ ان تعلیمی اداروں اور ان کے انتظام کے لئے موجود جائیدادوں کو محفوظ کیا جاسکے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے ساتھ انوارالعلوم کالج کے طلبائے قدیم کی تنظیم اور اساتذہ کی تنظیموں کے ذمہ داروں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے مادرعلمی اور اس کے تحت موجود اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے آگے آئیں بصورت دیگر ان جائیدادوں کو تباہ کرنے کے لئے وقت نہیں لگے گا بلکہ چند یوم یا ہفتوں میں ان جائیدادوں کی تباہی کے پروانے جاری کئے جانے لگ جائیں گے اور یہ باور کیا جائے گا کہ تلنگانہ وقف بورڈ کی غفلت اور منتظمین کے زیر حراست ہونے کے دوران ناجائز قابضین نے ان اداروں کے اثاثوں کو اپنے ناموں پر منتقل کرلیا ۔پولیس انتظامیہ نے اس بات کی توثیق کردی ہے کہ جناب خواجہ معز الدین کے قتل کی وجہ ممتاز یار الدولہ وقف کے تحت موجود جائیدادیں ہیں ' اس کے باوجود اب تک تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی معنیٰ خیز ہے کیونکہ جن جائیدادوں کے لئے قتل ہوا ہے وہ وقف کی ملکیت ہے اور وقف بورڈ کو اپنی ملکیت کے تحفظ کے معاملہ میں اقدامات کے بجائے خاموش تماشائی دیکھ کر عوام کو بھی حیرت ہونے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کے عہدیدارممتاز یارالدولہ وقف کی جائیدادوں کے لئے ہونے والے اس قتل اور ٹرسٹ کے ذمہ داروں کی قتل کے معاملہ میں گرفتاری کے بعد ممتاز یارالدولہ وقف کے تحت موجود تعلیمی اداروں کے علاوہ اثاثہ جات کو اپنی تحویل میں لینے کا اقدامات کا جائزہ لینے کے متعلق قانونی رائے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور اس کے لئے بھی حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے اجازت حاصل کرنے کی تگ و دو کی جا رہی ہے ۔ وقف بورڈ کو اپنی جائیداد کے تحفظ کامکمل حق حاصل ہے بلکہ وقف بورڈ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے علاوہ اپنے اثاثہ جات کے تحفظ کے اقدامات کرے۔ ذرائع کے مطابق ممتاز یارالدولہ وقف کے ٹرسٹ میں شامل ملزمین کے ناموں کوہٹانے کے لئے دباؤ ڈالتے ہوئے یہ باور کروایا جارہا ہے کہ ایف آئی آر میں نام کے شامل ہونے اور گرفتاری کے بعد فوری طور پر انتظامیہ کی تبدیلی کے اقدامات وقف بورڈ کی جانب سے کئے جانے چاہئے حالانکہ قوانین وقف کے مطابق وقف بورڈ کو اس طرح کی کسی بھی کاروائی سے قبل اپنے طور پر تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے ملزمین کو اپنی صفائی کا موقع فراہم کرنا لازمی ہے اگر وقف بورڈ عجلت میں کوئی اقدام کرتا ہے تو اسے قانونی سبکی اٹھانی پڑسکتی ہے ۔3/A/b

