Dailyhunt Logo
  • Light mode
    Follow system
    Dark mode
    • Play Story
    • App Story
مغربی بنگال میں منظم جرائم کیخلاف سخت اقدامات کا سیکوریٹی بل

مغربی بنگال میں منظم جرائم کیخلاف سخت اقدامات کا سیکوریٹی بل

سیاست 17 hrs ago

شوبھیندو ادھیکاری حکومت کی سماج دشمن عناصر کیخلاف سخت اقدامات کی تیاری

کلکتہ، 28 جون (یواین آئی) مغربی بنگال میں سنڈیکیٹ آپریشن، بھتہ خوری، زمین پر قبضہ اور منظم جرائم پر قابو پانے کے لیے شوبھندو ادھیکاری حکومت ایک سخت نیا قانونی ڈھانچہ لانے کی تیاری میں ہے ۔ اس کا مقصد سماج دشمن عناصر اور مجرمانہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانا ہے ۔ پیش کیا جانے والا “مغربی بنگال لوک سرکشا و سماج دشمن سرگرمی کنٹرول بل” اگر اسمبلی میں منظور ہو جاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور انتظامیہ کو سماج دشمن عناصر اور منظم جرائم کے خلاف وسیع اختیارات حاصل ہو جائیں گے ۔ یہ بل نہ صرف براہِ راست جرائم میں ملوث افراد کو نشانہ بناتا ہے بلکہ ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کا اختیار دیتا ہے جو مجرموں کو پناہ یا مدد فراہم کرتے ہیں۔ سب سے سخت دفعات میں سے ایک ان افراد سے متعلق ہے جو ملزموں کو حکام سے بچانے میں مدد کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایسے فرد کو چھپاتا ہے یا سہولت فراہم کرتا ہے جس کے خلاف گرفتاری یا اخراج کا حکم جاری ہے ، تو اس کے خلاف فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے ۔ قصوروار ثابت ہونے پر دو سال تک کی قید اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بل میں “غنڈہ” کی قانونی تعریف بھی دی گئی ہے ۔ مسودے کے مطابق کسی شخص کو غنڈہ اس وقت مانا جائے گا جب وہ انفرادی طور پر یا کسی گروہ، گینگ یا سنڈیکیٹ کے رکن یا لیڈر کی حیثیت سے باقاعدگی سے سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہو۔ یہ بل کئی موجودہ قوانین کے تحت آنے والے جرائم کو بھی شامل کرتا ہے ، جیسے اسلحہ ایکٹ، منشیات و نفسیاتی مادہ ایکٹ (این ڈی پی ایس)،غیر اخلاقی تجارت انسداد ایکٹ ،دھماکہ خیز مواد ایکٹ ، بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کے سنگین دفعات اس کے دائرے میں عوامی بدامنی پھیلانا، شہریوں میں خوف پیدا کرنا، کاروبار میں رکاوٹ ڈالنا، زمین یا جائیداد پر غیر قانونی قبضہ، عوامی و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، غیر قانونی کان کنی، بغیر اجازت ریت و پتھر نکالنا اور جنگلاتی وسائل کو تباہ کرنا بھی شامل ہے ۔ بل کے تحت جرائم کو “سنجیدہ” (بغیر وارنٹ گرفتاری کے قابل) اور “غیر ضمانتی” قرار دیا گیا ہے ۔ اس سے پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کا اختیار ملے گا اور عدالت سے فوری ضمانت ملنے کے امکانات کم ہو جائیں گے ۔ بل میں احتیاطی حراست کا بھی انتظام ہے ، جس کے تحت ریاستی حکومت اور اعلیٰ افسران کو کافی اختیارات دیے گئے ہیں۔ پولیس کمشنر، ضلع مجسٹریٹ اور پولیس ڈپٹی انسپکٹر جنرل رینک کے افسران کسی شخص کو 12 ماہ تک حراست میں رکھ سکتے ہیں اگر انہیں لگے کہ وہ عوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے یا سماج دشمن سرگرمیوں میں شامل ہو سکتا ہے ۔ اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے بل میں ایک مشاورتی بورڈ بنانے کی تجویز ہے ، جس کی سربراہی ہائی کورٹ کے موجودہ یا سابق جج کریں گے ۔ حراست سے متعلق معاملات تین ہفتوں کے اندر بورڈ کے سامنے پیش کرنا لازمی ہوگا، اور اگر حراست کے لیے کافی بنیاد نہ پائی جائے تو متعلقہ شخص کو رہا کر دیا جائے گا۔ مسودہ قانون پولیس اور انتظامیہ کو مشتبہ مقامات پر چھاپہ مارنے ، افراد یا گاڑیوں کی تلاشی لینے اور سماج دشمن سرگرمیوں سے جڑے یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ دولت، دستاویزات اور جائیداد ضبط کرنے کا اختیار دیتا ہے ۔

Dailyhunt
Disclaimer: This content has not been generated, created or edited by Dailyhunt. Publisher: The Siaset Daily Urdu